کیا ایران کے بعد پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کی باری لگنے والی ہے ؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے مشرقِ وسطی میں شروع ہونے والی جنگ کی تپش بالآخر پاکستان کی نو سو نو کلومیٹر طویل ایرانی سرحد تک آن پہنچی ہے۔ ایسے میں وزیر دفاع خواجہ محمدآصف نے بالکل درست فرمایا ہے کہا اگر مسلم دنیا متحد نہ ہوئی اور اپنے اپنے ایجنڈے کے تحت اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرتی رہی تو پھر باری باری سب کی باری آئے گی۔

بی بی سی اردو کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ خواجہ آصف کے بقول  زیادہ تر مسلم ممالک فوجی اعتبار سے کمزور ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ او آئی سی کا اجلاس بلا کر مسلم ممالک ایسی حکمتِ عملی بنائیں جس سے اسرائیل کا مقابلہ کیا جا سکے۔ لیکن سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ فلسطین کے المیے پر غیر مسلم ممالک کے ضمیر جاگ رہے ہیں مگر مسلمانوں ممالک اور انکے حکمرانوں کے نہیں۔

وسعت اللہ خان کے بقول جب انڈیا نے  پاکستان پر حملہ کیا تو ہم نے پانچ گنا بڑے دشمن کو مٹی میں رول دیا۔ لیکن ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے میں اسرائیل اکیلا نہیں۔ اسے ہر طرح کا کور فراہم کیا گیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ گاندھی جی سے ایک مرتبہ ایک مغربی صحافی نے پوچھا: ’مغربی تہذیب کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔‘ گاندھی جی نے کہا کہ ’یہ ایک دلچسپ خیال ہے۔‘ اسی لیے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عالمِ اسلام، عرب لیگ، او آئی سی۔ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ ہمارے ملنگ طبیعت خواجہ آصف کسی اور محکمے کے وزیر ہوتے تو ہم کبھی بھی ان کی گوناگوں وزارتی مصروفیات کے سبب ان سے عالمِ اسلام کو لیڈ کرنے کی درخواست نہ کرتے۔ مگر عالمِ اسلام کی خوش قسمتی کہ ان دنوں وہ ’اعزازی وزیرِ دفاع‘ ہونے کے سبب ٹوٹل ویہلے ہیں۔ ’اعزازی وزیرِ دفاع؟‘ جی ہاں۔ پاکستان میں وزیرِ دفاع کی عزت چوکھی اور میز صاف ہے۔ سویلین دور میں وزارت کا عملی بار سیکریٹری دفاع اور چیف آف آرمی سٹاف کے کندھوں پر ہی ہوتا ہے۔ سابق وزرائے دفاع پرویز خٹک، خرم دستگیر خان، میر ہزار خان بجارانی، نوید قمر، احمد مختار، سلیم عباس جیلانی، راؤ سکندر اقبال، آفتاب شعبان میرانی، غوث علی شاہ، محمود ہارون، علی احمد تالپور وغیرہ کے ناموں سے اپ لوگوں کی تشفی ہو جائے گی یا اور پیچھے جاؤں اور کچھ اور نام بھی لوں۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ خواجہ صاحب بطور وزیرِ دفاع ویہلے سہی لیکن حکمران مسلم لیگ ن کے اندر ان کا ’کلہ‘ ہمیشہ سے مضبوط ہے۔ پارلیمانی حریفوں کو ذومعنی جگتوں اور پھبتیوں کے میزائلوں کے ذریعے رول دینے کے سبب خواجہ صاحب حکمران پارٹی کا بازوِ شمشیر زن ہیں۔ آپ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں 265 روز وزیرِ خارجہ بھی رہے۔ اس دورانیے میں دفترِ خارجہ یہ سوچ سوچ کے ہلکان رہتا تھا کہ کہیں خواجہ صاحب اچانک سے حال میں آ کر ہمیں بے حال نہ کر دیں۔ مگر وزارتِ بدل جانے سے بندہ تو بدلنے سے رہا۔ یہ تو ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے انتظامی ڈھانچے میں وزیرِ دفاع کی ’بطور پوسٹ ماسٹر جنرل‘ کیا اہمیت ہے مگر باقی دنیا تو اس کرسی پر بیٹھے شخص کی ہر بات کو سنجیدگی سے لینے کی عادی ہے۔

اب اگر اس منصب پر بیٹھا شخص عین لڑائی کے درمیان دعویٰ کرے کہ ہم نے دشمن کے دو پائلٹوں کو جنگی قیدی بنا لیا ہے اور چند گھنٹوں بعد اس دعوے کی وزارتِ دفاع کے ماتحت عسکری شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ذریعے باضابطہ تردید بھی ہو جائے تو بتائیے دنیا کس کی مانے؟

اسی پاکستان انڈیا مڈھ بھیڑ کے دوران خواجہ صاحب ایک غیر ملکی صحافی یلدا حکیم پر اپنی دھاک بٹھانے کے لیے کہیں عالمِ جذب میں کہہ بیٹھے کہ ہاں یہ بات درست ہے کہ ہم نے تیس برس تک دہشت گردی کی حمایت و مدد کی۔ مگر ہم مغربی ممالک کا ’ڈرٹی ورک‘ کر رہے تھے۔ خواجہ صاحب کے اس انکشاف کا دفترِ خارجہ کو نوٹس لینا پڑ گیا اور ان ’خواجگی فرمودات‘ کو ریاستی پالیسی کے بجائے وزیرِ دفاع کے ذاتی خیالات کا لفافہ پہنانا پڑا۔ مگر خواجہ صاحب کی گرج چمک آج بھی ماشااللہ ویسی کی تیسی ہے۔ شاید خواجہ صاحب کو یاد ہو کہ چند برس پہلے بتیس اسلامی ممالک پر مشتمل سپاہ کا ایک اتحاد قائم ہوا تھا کہ جس کا ہیڈکوارٹر سعودی عرب میں تھا اور اس کے پہلے سپاہ سالار جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نامزد ہوئے تھے۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اگر یہ کنفرم ہے کہ یہ عسکری اتحاد اب تک قائم ہے تو سب سے پہلے خواجہ صاحب کو جنرل راحیل سے رابطہ کر کے پوچھنا چاہیے کہ آپ عالمِ اسلام کی اس عظیم الشان سپاہ کو اسرائیل اور اس کے پشت پناہوں کے مقابلے میں کب تک تیار کرنے کی پوزیشن میں ہیں؟ لیکن بہتر ہو گا کہ جب جنرل راحیل شریف چھٹیوں پر پاکستان اپنے گھر آئیں تب یہ حساس گفتگو کر لی جائے۔ خواجہ صاحب کی اس تجویز سے بھلا کس کو اختلاف ہو سکتا ہے کہ جو مسلمان ممالک اسرائیل سے سفارتی تعلقات میں ہیں۔ کم از کم وہی بطور احتجاج اسرائیل میں قائم سفارتخانوں کو فی الحال تالا لگا دیں۔ ان ممالک میں بحرین اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔ مگر مشکل یہ ہے کہ بحرین اور امارات میں لاکھوں پاکستانی کارکن کام کر رہے ہیں۔ خواجہ صاحب چونکہ خود بھی کسی زمانے میں امارات میں بینک ملازمت کرتے رہے ہیں لہٰذا انھیں بخوبی معلوم ہو گا کہ عربوں کو کون سا مشورہ کس دن کے کس پہر دینا سود مند ہے۔

البتہ برادر ترکی سے ان دنوں اتنی بے تکلفی ضرور ہے کہ ان سے ہی درخواست کر لی جائے کہ آپ مناسب سمجھیں تو تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ فی الحال بند کر دیں یا کم از کم تجارت روک دیں۔ ویسے تو مصر، سوڈان اور مراکش کو بھی چھیڑا جا سکتا ہے مگر کیا فائدہ۔ اب آپ میں سے کوئی بھی کھڑا ہو کے پوچھ سکتا ہے کہ اگر پاکستان کو عالمِ اسلام کا اتنا ہی درد ہے اور بقول خواجہ صاحب حال میں ہی اپنے سے پانچ گنا ملک انڈیا کو ’مٹی میں رول دیا ہے‘ تو پھر مسلمان دنیا کی اکلوتی ایٹمی طاقت کے طور پر پاکستان اس اتحاد کی قیادت کے لیے خود کو کیوں پیش نہیں کرتا؟ یہ سوال ویسے اس وقت پوچھنے کا ہے تو نہیں۔ البتہ خواجہ صاحب کو کچھ ملے نہ ملے نیت کا ثواب ضرور ملے گا۔

اسرائیل اور ایران کی جنگ پاکستانیوں کوکیوں بھگتناپڑگئی؟

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اگر پاکستان کا معاشی ہاتھ تنگ نہ ہوتا اور اسے آئی ایم ایف اور دوست ممالک کا مرہونِ منت نہ رہنا پڑتا تو دنیا دیکھتی کہ خواجہ صاحب سفید گھوڑے پر سوار 57 اسلامی ممالک کی سپاہ کی قیادت کرتے ہوئے بذریعہ ایران، عراق، اردن بحیرہ روم کے ساحل تک پہنچنے میں منٹ نہ لگاتے۔

Back to top button