پاکستان نے افغانستان پر بڑے فضائی حملوں کا فیصلہ کر لیا

پاکستانی عسکری حکام نے افغانستان میں قائم تحریک طالبان کے دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف اپنی کارروائیوں کا سلسلہ وسیع کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں پر بڑے فضائی حملے شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں افغانستان میں قائم دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور سہولت کاری کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کیلئے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر فضائی اور زمینی سطح پر ہدفی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں، ذرائع کے مطابق عسکری قیادت نے اس حوالے سے افغانستان میں ممکنہ اہداف کی نشاندہی مکمل کر لی ہے تاہم کسی بھی کارروائی کو قومی سلامتی کے تقاضوں، علاقائی حساسیت اور بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا جائے گا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں جہاں سے سرحد پار حملوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی اور سہولتکاری کی جاتی ہے۔ تاہم اب پاکستان نے افغان سرزمین پر پاکستان مخالف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف عملی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ افغانستان کے تین مشرقی صوبوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنانا پاکستان کی دہشتگرد مار نئی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ جس کے تحت پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں ملوث دہشتگردوں کو پوری طاقت کے ساتھ ٹھوکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ آئندہ کسی کو بھی پاکستان میں شرپسندانہ کارروائیاں کرنے کی جرات نہ ہو۔
دفاعی تجزیہ کاروں اور افغان امور کے ماہرین کے مطابق افغانستان کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبے شدت پسند گروہوں کے مضبوط مراکز بن چکے ہیں۔ کنڑ، ننگرہار، خوست، پکتیکا، قندہار اور ہلمند جیسے سرحدی صوبوں میں ٹی ٹی پی کی موجودگی زیادہ مضبوط بتائی جاتی ہے، خصوصاً پکتیکا کے برمل ضلع اور قندہار کے اسپین بولدک و شاہ ولی کوٹ کے علاقوں میں ٹی ٹی پی کی کئی کمین گاہیں موجود ہیں۔ جہاں افغان حکام نہ صرف پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں بلکہ انہیں مالی معاونت اور تربیتی سہولیات بھی مہیا کی جا رہی ہیں۔
مبصرین کے مطابق اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹ میں بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں، جہاں سے وہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے کئی تربیتی مراکز سرحدی پہاڑی علاقوں میں قائم ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں پاکستان مخالف جنگجو موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں شدت پسند گروہوں کے لیے ماحول نسبتاً سازگار ہوا۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے نظریاتی روابط اور ماضی کی قربتوں نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے، جس کے باعث کابل حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے گریزاں دکھائی دیتی ہے۔ اسی وجہ سے اب پاکستانی عسکری و سول قیادت نے خود پاکستان مخالف دہشتگرد گروہوں کو مکمل ٹھوکنے کا فیصلہ کر لیا ہے
کیا افغان فوج پاکستان کو فضائی حملوں کا جواب دینے کے قابل ہے؟
دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان میں سرحد پار دہشتگردانہ کارروائیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہےپاکستان کا مؤقف ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں اور وہاں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ تاہم افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے انکاری ہیں۔ تاہم اب پاکستان نے سرحدپار بڑھتی ہوئی دہشتگردانہ کارروائیوں کو قومی سلامتی کا براہِ راست چیلنج قرار دیتے ہوئے مکمل قومی عزم اور داخلی یکجہتی کے ساتھ جواب دینے کی حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ریاست اپنی خودمختاری، وقار اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برسوں میں سرحدی جھڑپوں اور سفارتی کشیدگی کی وجہ سے باہمی اعتماد کا فقدان مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان کی حالیہ فضائی کارروائی افغان طالبان کیلئے ایک ’وارننگ‘ تھی کہ پاکستان سرحد پار پناہ گاہوں کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کارروائی سے پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ افغانستان میں موجود کوئی بھی دہشت گرد گروپ اگر پاکستانی سکیورٹی فورسز یا عوام پر حملہ کرے گا تو اسے "گھر میں گھس کر مارا جائے گا” اور مزید لحاظ نہیں کیا جائے گا۔ اب احتجاجی مراسلے اور مفاہمتی امن وفود کو کابل نہیں بھیجا جائے گا بلکہ جہاں کہیں بھی پاکستان مخالف دہشت گردی کا منبع ہو گا، اسے وہیں ٹھوک دیا جائے گا۔ کسی بھی دہشتگرد گروپ سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق سرحد پار حملوں میں اضافہ، ٹی ٹی پی کو مبینہ کھلی چھوٹ اور پاکستان کے تحفظات کا مؤثر ازالہ نہ ہونے کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات غیر معمولی حد تک خراب ہو چکے ہیں اور باہمی اعتماد شدید کمزور پڑ گیا ہے۔ تاہم حالیہ فضائی حملوں کے بعد آنے والے دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
