کیا افغان فوج پاکستان کو فضائی حملوں کا جواب دینے کے قابل ہے؟

افغان حکومت کی سرپرستی میں پاکستان میں ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف پاکستانی فضائیہ کی افغان علاقوں پر بمباری کے بعد کابل نے پاکستان کو بھرپور فوجی جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے خلاف کسی بھی کارروائی کا سخت جواب دیں گے۔ تاہم اہم سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان کے پاس اتنی عسکری صلاحیت موجود ہے کہ وہ پاکستان کو فضائی حملوں کا مؤثر جواب دے سکے؟
پاکستانی حکام طویل عرصے سے یہ دعوی کرتے آئے ہیں کہ افغانستان کی طالبان حکومت کی عمل داری میں موجود عناصر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو نہ صرف پناہ دے رہے ہیں بلکہ انہیں تنظیم نو، تربیت اور اسلحہ فراہم کرنے میں بھی معاونت کر رہے ہیں۔ پاکستان کے سرحدی علاقوں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جن کی ذمہ داری اکثر تحریک طالبان پاکستان قبول کرتی رہی ہے۔
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں اور وہیں سے سرحد پار کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
اسلام آباد کئی بار کابل سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ اس تناظر میں سرحدی جھڑپوں اور محدود فضائی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں، جنہیں پاکستان دفاعی اقدام قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت، جس کی قیادت امیر ہبت اللہ اخوندزادہ کے پاس ہے، سرکاری طور پر اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے کہ وہ پاکستان مخالف عناصر کی سرپرستی کر رہی ہے۔ تاہم بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کے اندر مختلف دھڑے موجود ہیں اور سرحدی علاقوں میں مکمل کنٹرول کا دعویٰ عملی طور پر پیچیدہ ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاک افغان کشیدگی مستقبل میں کھلی فوجی محاذ آرائی میں بدلتی ہے تو افغانستان کی عسکری صلاحیت کیا ہے؟ یاد رہے کہ 2021 میں امریکی انخلا کے بعد افغان طالبان کو بڑی مقدار میں اسلحہ اور فوجی سازوسامان ملا جو پہلے افغان نیشنل آرمی کے زیر استعمال تھا۔ اس میں ہلکے اور درمیانے ہتھیار، بکتر بند گاڑیاں، نائٹ وژن آلات اور محدود تعداد میں طیارے اور ہیلی کاپٹر شامل تھے۔
تاہم ان میں سے بہت سارا ساز و سامان تکنیکی دیکھ بھال اور تربیت کے فقدان کے باعث مکمل طور پر فعال نہیں۔افغان ائیر فورس کی فضائی طاقت محدود ہے۔ چند ہیلی کاپٹر اور کچھ پرانے طیارے موجود ہیں، مگر انہیں مؤثر فضائی دفاعی نظام کی معاونت حاصل نہیں۔ جدید ریڈار، میزائل ڈیفنس سسٹم اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی ہتھیاروں کی کمی افغانستان کی بڑی کمزوری سمجھی جاتی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان کی فضائیہ جدید لڑاکا طیاروں، تربیت یافتہ پائلٹس اور مربوط فضائی دفاعی نظام سے لیس ہے۔ ویسے بھی پاکستان پچھلے سال مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے دوران اپنی فضائی برتری ثابت کر چکا ہے۔
البتہ افغانستان کے پاس زمینی جنگ کا وسیع تجربہ رکھنے والے جنگجو موجود ہیں، جنہوں نے دو دہائیوں تک گوریلا جنگ لڑی۔ اگر کشیدگی بڑھی تو سرحدی علاقوں میں محدود جھڑپیں، راکٹ حملے یا سرحد پار دراندازی جیسے اقدامات ممکن ہو سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ اگر سرحدی علاقوں میں موجود غیر ریاستی عناصر کو کھلی یا خفیہ حمایت ملتی ہے تو پاکستان کے لیے اندرونی سلامتی کے چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔
تحریک طالبان کی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن کیوں نہیں ہو پایا؟
دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان براہ راست روایتی جنگ میں پاکستان کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں، خاص طور پر فضائی محاذ پر۔ تاہم غیر روایتی حکمت عملی، پراکسی عناصر کے ذریعے دباؤ، اور سرحدی عدم استحکام پیدا کرنا ایسے ہتھکنڈے ہو سکتے ہیں جن کے ذریعے کابل اسلام آباد پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرے۔ خطے کی صورتحال اس وقت نہایت نازک ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تناؤ، دہشت گردی کے الزامات اور سفارتی بیانات ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں کسی بھی غلط فہمی یا محدود کارروائی سے کشیدگی وسیع تر تصادم میں بدل سکتی ہے۔ اس پس منظر میں یہ واضح ہے کہ اگرچہ افغانستان سیاسی سطح پر سخت بیانات دے رہا ہے، مگر عملی طور پر اس کی روایتی عسکری صلاحیت پاکستان کے مقابلے میں محدود ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل خطرہ براہ راست جنگ سے زیادہ غیر روایتی اور غیر متوازن ردعمل کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے طویل مدتی چیلنج بن سکتا ہے۔
