کیا پاکستان امریکی بلاک چھوڑ کر روسی بلاک کا حصہ بن گیا؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے یوکرین پر حملے کے امکان کے باوجود روس کا دورہ کرنے اور صدر پوتن سے ملاقات کے بعد پاکستان کے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہونے کا واضح امکان پیدا ہو گیا یے کیونکہ یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستان اپنے پرانے اتحادی امریکہ کو چھوڑ کر روس اور چین بلاک میں شامل ہو گیا ہے۔ یہ تاثر وزیر اعظم کے اس دعوے کے بر عکس ہے کہ پاکستان کسی عالمی بلاک کا حصہ نہیں بنے گا۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کوئی تاثر پیدا ہوا ہے تو اس کی بنیادی خود امریکہ ہے جس نے بظاہر پاکستان کو فارغ کر دیا اور مجبور کیا کے وہ اپنے ہمسائے میں نئے اتحادی تلاش کرے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے روسی صدر کے یوکرین کے دارالحکومت میں اپنی افواج بھجوانے کا حکم جاری کرنے کے محض چند گھنٹے بعد ملاقات کی جس سے سفارتی محاذ پر پاکستان ایک غیرمتوقع صورتحال کا شکار ہوگیا ہے اور عمران خان تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق غالباً پاکستان کے دفتر خارجہ کو اس صورتحال کا پیشگی ادراک تھا اور اس نے یوکرین میں پاکستانی سفیر کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ یوکرین کی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کریں اور انہیں یوکرین کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے حوالے سے پاکستانی مؤقف سے آگاہ کریں۔ تاہم وزیراعظم کے دورہ روس کے دوران یوکرین پر حملے سے پاکستانی موقف پاآ پاش ہوگیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا حالیہ دورہ روس سفارتی اعتبار سے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے لیکن ایک ایسے وقت میں ان کی روس کے صدر سے ملاقات پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں جب یوکرین اور روس کی جنگ چھڑ چکی ہے۔ خیال رہے کے عمران خان کی 24 فروری کو روس کے دارالحکومت ماسکو میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقی اور عالمی امور پر بات چیت کی۔

اپوزیشن نے 200 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل کر لی

حکومت پاکستان کے مطابق وزیر اعظم کے روس کے دو روزہ دورے کے دوسرے دن صدر ولادیمیر پوتن سے تین گھنٹے طویل ملاقات میں عمران نے روس اور یوکرین کے درمیان تازہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور یہ مشورہ دیا کہ سفارت کاری سے فوجی تصادم روکا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب پوتن اور عمران ملاقات کے بعد روسی دفتر خارجہ نے ایک گول مول بیان میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کے پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور جنوبی ایشیا میں ہونے والی پیش رفت سمیت علاقائی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ عمران کا دورۂ روس مغربی دنیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب نہیں کرے گا، تاہم یوکرین کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے کسی سخت مؤقف کی صورت میں مستقبل میں مغرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں سرد مہری آ سکتی ہے۔ سابق سفارت کار عبدالباسط کے بقول ہم بلاوجہ اس دورے کو منسوخ نہیں کرسکتے تھے۔ سب جانتے ہیں کہ ایسے دورے مہینوں پہلے مرتب ہوتے ہیں اور اس کا یوکرین کے بحران سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وزیراعظم عمران خان کو دورے کی دعوت صدر ولادیمیر پوتن نے دی تھی، دورے کی تاریخ کو حتمی شکل روس کی وزارت خارجہ نے دی تھی۔

اس معاملے پر سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی نے کہا کہ ’ہم روسیوں سے یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہم ابھی دورے پر نہیں آنا چاہتے۔ دوسری جانب حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورے سے مغربی دنیا کے ساتھ پاکستان کے خارجہ اور دفاعی تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوجی قیادت بھی اس دورے سے خوش نہیں ہے۔ لیکن دوسری جانب حکومتی ذرائع کا دعوی ہے کہ پاکستانی خارجہ پالیسی سے متعلق اسٹیبلشمنٹ بھی ماسکو کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر بظاہر خوش ہے۔

انکا کہنا ہے کہ پاکستان روسی فوجی صنعت کے تیار کردہ عسکری ساز و سامان کا نیا خریدار ہے اور اس کے سودوں کی پیشکش کی تعداد دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ روسی ہتھیاروں کا ایک بڑا خریدار بن چکا ہے۔ حکومتی ذرائع کا اصرار ہے کہ فوجی لحاظ سے دونوں ممالک کی بری افواج مختلف سطحوں پر مشترکہ مشقوں میں شریک رہی ہیں اور پاک روس تعلقات میں بہتری سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور مغربی ممالک سے دوری اختیار کرتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کو ازسرنو آزادانہ بنیاد پر تشکیل دے رہا ہے۔ لیکن ناقدین اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے اور وہ کہتے ہیں کہ عمران خان کے حالیہ دورہ روس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ وہ پاکستان کو امریکہ مخالف روس اور چین بلاک کا حصہ بنانے جا رہے ہیں۔

Back to top button