سابق پاکستانی ہاکی اولمپئنز نے ایشیا کپ بھارت سے منتقل کرنے کا مطالبہ کر دیا

پاکستان کے سابق ہاکی اولمپئنز نے ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ کو بھارت کے بجائے کسی غیر جانب دار (نیوٹرل) ملک میں کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کے رکن اور معروف ہاکی اولمپئن توقیر ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالات کشیدہ ہیں، ایسے ماحول میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے کھلاڑی بھارت جا کر مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کا پانی بند کر رکھا ہے، اور یہ کسی طور دوستانہ تعلقات کی عکاسی نہیں کرتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستانی کھلاڑی بھارت چلے بھی جائیں تو جو ماحول انہیں دیا جائے گا، وہ ایک قید جیسا ہوگا، ایسی صورت میں کوئی کھلاڑی کارکردگی کیسے دکھا سکتا ہے؟ اس لیے ایشیا کپ کو غیر جانبدار مقام پر منتقل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، بصورت دیگر کم از کم پاکستان کے میچز کسی نیوٹرل وینیو پر کروائے جائیں۔
اٹلی کی شاندار کامیابی، پہلی بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے کوالیفائی کر لیا
اسی حوالے سے اولمپئن خواجہ جنید نے کہا کہ موجودہ حالات بھارت کے ساتھ "جنگی کیفیت” کی مثال ہیں، جو ماضی میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جو بھی فیصلہ کرے، ہمیں اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے، لیکن اصولی طور پر ایشیا کپ کا انعقاد نیوٹرل وینیو پر ہی ہونا چاہیے۔
خواجہ جنید نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کے سخت مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو بھی ویسا ہی مضبوط اور دو ٹوک مؤقف اپنانا چاہیے۔ اگر نیوٹرل وینیو کی تجویز کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو ایشیا کپ کو بھارت سے کسی دوسرے ملک منتقل کر دینا چاہیے۔
