پاکستانی ادارے انسانی اسمگلنگ روکنے میں نا کام کیوں؟

یونان کشتی حادثے میں بڑی تعداد میں پاکستانی تارکین وطن کی ہلاکت کے خدشات کے بعد حکومتی اداروں کی کارکردگی سخت تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بہتر حکمت عملی سے انسانی اسمگلنگ میں بڑٰی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔یونان میں غیر ملکی تارکین وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حالیہ حادثے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی شہریوں کے رشتہ دار جہاں غم سے نڈھال ہیں وہیں ہر زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ آخر متعلقہ سرکاری ادارے انسانی اسمگلنگ روکنے میں مسلسل ناکام کیوں ہیں؟یورپ داخل ہونے کے لیے پُر خطر سمندری راستوں کا انتخاب کرنے والوں کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ ان کے عزیز ایک بہتر زندگی کی تلاش میں تھے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اداروں کے درمیان تعاون اور رابطے کا فقدان اور حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ اس طرح کے سانحات کو بار بار جنم دیتا ہے۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستانی تارکین وطن غیر قانونی طریقے سے سمدر کے راستے یورپ داخل ہونے کی کوشش میں مارے گئے ہوں۔گزشتہ چار دہائیوں میں کئی ایسے واقعات ہوچکے ہیں، جس میں غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے والے پاکستانی سمندر کی طوفانی لہروں کی نذر ہو ئے ہیں. ایسے پاکستانیوں کی بڑی تعداد کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہے۔
اس کے علاوہ پنجاب کے اضلاع منڈی بہاوالدین، گجرات اور جہلم سے بھی کئی افراد غیر قانونی طور پر باہر جانے کی کوششیں کرنے والوں میں شامل ہیں۔ اب خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے بھی لوگ یورپی ممالک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔چند مہینے پہلے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کی قومی ہاکی ٹیم کی ایک کھلاڑی شاہدہ رضا بھی اسی نوعیت کے ایک حادثے کا شکار ہوئی تھی. حادثے کے بعد حکومت تھوڑی بہت حرکت کرتی ہے لیکن انسانی اسمگلنگ کے اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث افراد کو گرفت میں نہیں لایا جاتا.
سکیورٹی امور کے ماہر اور سابق انسپیکٹر جنرل سندھ پولیس افضل علی شگری کا کہنا ہے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں میں رابطے کا فقدان ان چند عوامل میں سے ایک ہے، جس کی بنا پر ان اسمگلروں کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا،”دوہزار دو میں ہم نے نیشنل پولیس مینجمنٹ بورڈ قائم کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایف آئی اے، پولیس اور دوسرے اداروں کے درمیان رابطے ہوں کیونکہ زیادہ ترلوگوں کو بلوچستان کے ذریعے ایران اور وہاں سے ترکی اور پھر وہاں سے دوسرے ممالک لے جایا جاتا ہے۔‘‘
افضل علی شگری کا کہنا تھا، ”اس طرح کے اسمگلرز کا تعلق صرف پاکستان سے نہیں۔ بلکہ وہ لیبیا، ترکی، ایران اور دوسرے ممالک میں بھی موجود ہیں۔ اس لیے ان کو پکڑنا نسبتاً مشکل ہے لیکن اگر پاکستانی ایجنٹوں کو پکڑ لیا جائے تو ان سے بہت ساری معلومات مل سکتی ہیں، جس کو دوسرے ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے اور اس طرح وہاں ان پر بھی کریک ڈاؤن ہو سکتا ہے.‘‘انہوں نے مزید کہا، ”انسانوں کی غیر قانونی اسمگلنگ میں ملوث زیاہ تر ایجنٹوں کا گڑھ گجرات اور منڈی بہاوالدین ہیں۔ اگر ان علاقوں میں سختی کی جائے اور یہاں سے ایجنٹوں کو پکڑا جائے، تو ان سے ساری معلومات حاصل کی جا سکتی ہے۔ لیکن حکومت میں سنجیدگی کا فقدان ہے اس وجہ سے اس طرح کے حادثات باربار رونما ہو
نبیل گبول پارٹی چیئرمین کے عتاب کا شکار کیسے بنے؟
رہے ہیں۔‘‘
