روسی حملے کے بعد یوکرین میں پھنسے پاکستانی مدد کے منتظر

یوکرین میں روسی حملے کے بعد وہاں پھنس جانے والے سینکڑوں پاکستانی طلبہ اور کاروباری افراد پھنس نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ انکی جانیں بچانے کے لیے انہیں فوری طور پر نکال کر پاکستان واپس لایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب یوکرین پر حملہ شروع ہوا تو عمران خان حملہ کرنے والے روسی صدر سے ملاقات میں مصروف تھے لیکن انہیں اپنے شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے بات کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔

روسی حملے کی زد میں آنے والے یوکرین میں 500 سے زیادہ پاکستانی طالب علم بھی زیر تعلیم ہیں جبکہ سینکڑوں پاکستانی کاروبار کی غرض سے وہاں گئے ہوئے تھے، جو اب کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وہاں پھنس کر رہ گئے ہیں اور اپنی جانیں خطرے میں محسوس کر رہے ہیں۔ یوکرائن میں فضائی سروس معطل ہے، لہذا جو پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں اور ان کے پاس ٹکٹ بھی ہے، وہ بھی واپس نہیں آ سکتے۔ انہیں نکلنے کے لیے تب تک انتظار کرنا پڑے گا، جب تک فضائی سروس بحال نہ ہو جائے یا کوئی خصوصی طیارہ پاکستان سے جا کر ان کو نہ لائے۔

اس افراتفری کے عالم میں یوکرین کے عام شہری ہوں یا پھر پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد، سب کو اپنی زندگی کی فکر لاحق ہوچکی ہے۔ کاروبار کے غرض سے یوکرین جانے والے ایک پاکستانی نوید اقبال کا کہنا ہے کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ حالات اتنے خراب ہو جائیں گے۔ حملے سے ایک دن پہلے تک تمام چیزیں معمول کے مطابق تھیں، یہ امکان تھا کہ حملہ ہو سکتا ہے لیکن عمران خان کے روس پہنچتے ہی یسا ہو جائے گا، اس کا اندازہ نہیں تھا۔

مقامی لوگوں نے بھی ان سے یہی کہا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی ایک بڑے تصادم میں تبدیل نہیں ہوگی۔ ان کی بھی یہی خواہش تھی کیونکہ وہ یہاں محنت کر کے پاکستان میں موجود اپنے خاندانوں کی مالی مدد کر رہے تھے۔ اگرچہ نوید اقبال کو یوکرین آئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا مگر اس کے باوجود انھیں یہاں بہتر مستقبل نظر آ رہا تھا۔ لیکن روسی افواج کی جانب سے یوکرین پر تین اطراف سے حملے کے بعد ان کے خواب بکھرتے نظر آتے ہیں اور معاشی مستقبل تو دور کی بات، انہیں اپنی جان کے لالے پڑ چکے ہیں۔

اپوزیشن سے 25 سال پرانے واقعات اور نواز شریف پر بات ہوئی

یوکرین میں ایک بزنس ٹرپ پر پہنچنے والے پاکستانی سعید قریشی نے بتایا کہ ان جیسے درجنوں پاکستانیوں کے پاس واپسی کا ٹکٹ بھی موجود ہے لیکن روسی حملے کے بعد ایئرپورٹ بند ہو چکے ہیں اور پاکستان کوئی پرواز نہیں جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہوٹل میں قیام پذیر تھے لیکن کشیدگی کے باعث ہوٹل کی انتظامیہ نے ان کو کمرہ خالی کرنے کا کہا ہے، اب ہم ایک پاکستانی کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں جس نے ہمیں پناہ دی ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ یوکرین میں پھنسے ہوئے تمام پاکستانیوں کو نکالنے کے لیے اقدامات کرے۔

یوکرائن میں رہائش پذیر مہتاب احمد کے مطابق روسی حملے کے بعد یوکرینی عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ جنگ کی خبر سنتے ہی لوگوں نے اپنے گھروں میں خوراک ذخیرہ کر لی ہے، جس کے باعث دکانوں پر کھانے پینے کی اشیاء کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ یوکرین کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبعلم ساجد علی نے بتایا کہ روسی حملے کے بعد پاکستانی ایمبیسی نے طلبہ اور دیگر پاکستانیوں کو دارلحکومت کیف سے نکال جانے کا کہا ہے کیونکہ روسی افواج نے اس پر قبضے کی کوشش شروع کر دی جائے، لیکن یہاں کوئی ذریعہ آمدورفت موجود نہیں کہ لوگ کسی دوسرے شہر چلے جائیں۔

یوکرائن میں موجود پاکستانی ایمبیسی نے پاکستانیوں کو ترنوپیل جانے کا کہا ہے لیکن ساجد علی کا کہنا ہے کہ ترنوپیل یوکرین کے دارالحکومت کیف سے دس گھنٹے دور ہے اور موجودہ حالات میں وہاں جانا ممکن نہیں، جب تک کہ ایمبیسی کوئی ٹرانسپورٹ فراہم نہیں کرتی۔ روسی حملے کے بعد سے یوکرین کے دارالحکومت کیف میں پبلک ٹرانسپورٹ، ریستوران اور مارکیٹیں مکمل طور پر بند ہیں۔ جن لوگوں کے پاس اپنی گاڑیاں تھیں وہ اپنے بیوی بچوں اور خاندان والوں کو لے کر شہر سے جا چکے ہیں۔

بینکوں کے سامنے لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگ اپنے پیسے نکلوا رہے ہیں ہیں تاکہ دوسرے ملکوں کا رخ کر سکیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہمسایہ ملک پولینڈ کا رُخ کر رہے ہیں جس نے اپنی سرحد کھول دی ہے۔ اس کے علاوہ نکلنے کا اور کوئی راستہ بھی نہیں۔ یوکرین چھوڑ کر جانے والے بتاتے ہیں کہ پولینڈ کے لیے سفر کرتے ہوئے بھی پیڑول پمپوں پر لمبی قطاریں ہیں۔ یہ لوگ کیش کے بغیر تو نکل سکتے تھے کہ شاید آگے کہیں مل جائے مگر پیڑول کے بغیر گزارہ نہیں۔

گاڑیوں میں سوار افراد کو کئی گھنٹے انتظار کے بعد پیٹرول ڈلوانے کا موقع مل رہا ہے۔ پولینڈ جانے والی روڈ پر ٹریفک جام ہو چکی ہے اور گاڑیاں چیونٹی کی رفتار سے سفر کر رہی ہیں۔ روسی حملے کے بعد ہر کوئی پریشانی کا شکار ہے اور چاہتا ہے کہ وہ نکل کر پولینڈ کی سرحد تک پہنچ جائے لیکن یہ خدشہ بھی دامن گیر ہے کہ اگر ایسا نہ ہو پایا تو کیا ہو گا؟

Back to top button