پاکستان کی سفارتی کامیابی نے نریندرا مودی کو ویٹر بنا دیا

پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران جنگ بندی کا نہ صرف پوری دنیا میں بھرپور ڈنکا بجا بلکہ اس پیشرفت نے سوشل میڈیا پر بھی ایک دلچسپ اور غیر روایتی ردعمل کو جنم دیا۔ اس اہم سفارتی کامیابی کے بعد جہاں تجزیہ کار پاکستان کے کردار کی ستائش کرتے نظر آئے وہیں سوشل میڈیا پر طنز و مزاح سے بھرپور میمز کا ایک طوفان بھی دیکھنے میں آیا۔،سوشل میڈیا صارفین نے اس بڑی پیشرفت کو محض خبروں تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے اپنے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنا لیا۔ جہاں ایک طرف سوشل میڈیا صارفین وزیر اعظم شہباز شریف اور عاصم منیر کے گن گاتے دکھائی دئیے وہیں دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم پر تنقید کی نشتر چلاتے نظر آئے، سوشل میڈیا پر وائرل میمز میں جہاں مودی کو ایران امریکہ ملاقات میں چائے پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا وہیں امریکی صدر اور اسرائیل وزیر اعظم گدھا گاڑیوں پر اپنے تباہ شدہ جہاز لے جاتے ہوئے بھی نظر آئے غرضیکہ سوشل میڈیا پر وائرل میمز میں سیاسی طنز، عوامی جذبات اور علاقائی رقابتوں کا عکس واضح طور پر نظر آیا۔
ایک وائرل میم میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک ٹی وی شو میں اپنے پسندیدہ گانے سناتے دکھایا گیا، جہاں وہ مزاحیہ انداز میں پاکستانی نغمہ چلاتے ہیں۔ دوسری جانب ایک اور تصویر میں پنجاب پولیس کی گاڑی کو وائٹ ہاؤس کے باہر کھڑا دکھا کر یہ تاثر دیا گیا کہ امریکا کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے ’’روایتی پاکستانی طریقہ‘‘ استعمال کیا گیا۔
تاہم سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی میمز وہ رہیں جن میں نریندر مودی کو اسلام آباد میں ایک ویٹر کے روپ میں پیش کیا گیا۔ ایک وائرل ویڈیو میں انہیں شہباز شریف، عاصم منیر، ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کو چائے پیش کرتے دکھایا گیا، جبکہ پس منظر میں طنزیہ جملے اس منظر کو مزید دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ لکھا گیا کیپشن—“بھارت کی نئی خارجہ پالیسی: ایک قوم، ایک ویٹر”—سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا اور بحث کا موضوع بن گیا۔
سیاسی مبصرین اس رجحان کو محض تفریح نہیں بلکہ ایک اہم سماجی اظہار قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ میمز دراصل عوامی نفسیات، قومی بیانیے اور علاقائی سیاست کی عکاسی کرتی ہیں کیونکہ جب کوئی ملک عالمی سطح پر خود کو مؤثر انداز میں منواتا ہے تو اس کا عکس عوامی گفتگو اور مزاح میں بھی نظر آتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ایک طرح کا قومی اعتماد بھی ظاہر کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میمز نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔ مختلف صارفین نے ویڈیوز اور پوسٹس کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ آج دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تاثر ابھر رہا ہے، جہاں اس کے کردار کو خوب سراہا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والا یہ ’’میم کلچر‘‘ دراصل جدید دور کی ڈیجیٹل سفارتکاری کا ایک غیر رسمی پہلو ہے۔ مبصرین کے بقول ایشیائی ممالک میں فیصلے تو اقتدار کے ایوانوں میں ہوتے ہیں، مگر ان کی تشریح اور تعبیر عوام اپنے انداز میں کرتے ہیں کبھی سنجیدگی سے، اور کبھی ہنسی مذاق کے ساتھ۔
دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے بچانے پر جہاں عالمی رہنما اور شہری پاکستان کے مثبت کردار کو سراہ رہے ہیں وہیں پاکستانی صحافی بھی پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کردار کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد سینئر صحافی مبشر زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔
وسیم عباسی لکھتے ہیں کہ پاکستان کا نام دنیا بھر کے میڈیا چینلز پر عزت اور محبت کے ساتھ گونج رہا ہے۔ اب بازاروں اور دفاتر میں آتے جاتے اوورسیز پاکستانیوں کے سینے فخر سے چوڑے ہوں گے اور وہ اب فخر سے بتائیں گے کہ وہ پاکستانی ہیں۔
ابصار عالم کہتے ہیں کہ دن رات کی انتھک محنت، مشکل حالات میں بہترین سفارت کاری، دنیا کو جنگ سے بچانے، پاکستانی جھنڈا پوری دنیا میں بلند کرنے، عالمی میڈیا میں پاکستان کی تعریفوں پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، ان کی ساری ٹیم اور پوری قوم کو دل سے مبارکباد
نصرت جاوید کا کہنا تھا کہ آپ چاہیں پسند کریں یا نا کریں لیکن شہباز شریف نے باوقار ریاستی رہنما کے طور پر اپنی میراث قائم کر دی ہے۔
اعزاز سید نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سفارتکاری کی دنیا میں یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔
