پشاور ہائی کورٹ : شوکت یوسفزئی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنما شوکت یوسفزئی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کاحکم دے دیا۔

رہنما پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی کو بیرونی ملک جانےسے روکنے کےخلاف دائر درخواست پر پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نےکیس کی سماعت کی۔

9 مئی کے مجرم نے منصوبہ سازی اور سہولت کاری کا اعتراف کر لیا: مریم نواز

درخواست گزار کے وکیل نے کہاکہ شوکت یوسفزئی کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر یورپ جانے سے روکاگیا،پہلے بھی عمرہ کےلیے جارہے تھےتو روکاگیا تھااب دوبارہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر یورپ جانے سےروکا گیا۔وکیل درخواست گزار کاکہناتھا کہ شانگلہ میں ایک ایف آئی آر ہے،اس میں شوکت یوسفزئی ضمانت پر ہیں،اس ایف آئی آر پر ان کا نام ای سی ایل میں شامل کیاہے۔

ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے نےعدالت عالیہ کوبتایا کہ ہوم ڈپارٹمنٹ کےلیٹر پر ان کا نام شانگلہ کی ایک ایف آئی آر پر ای سی ایل میں شامل کیاگیاتھا۔

وکیل شوکت یوسفزئی نےدلائل دیےکہ ہوم ڈپارٹمنٹ نےتو ہمیں کلیئر کیاہے۔

ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے نےبتایاکہ ڈی جی سے بات ہوئی ہے،ہوم ڈپارٹمنٹ نے ان کوکلیئر کیاہے تو پھر ہمیں اعتراض نہیں ہے۔

بعد ازاں عدالت عالیہ نے شوکت یوسفزئی کا نام لسٹ سے نکالنے کاحکم دے دیا۔

Back to top button