پشاورہائیکورٹ سےپی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ آگیا

پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مزید کارروائی سے روک دیا۔
پشاور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سینیٹر شبلی فراز کی نااہلی کے خلاف دائر درخواستوں پر محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو مزید کارروائی سے روک دیا ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ 5 اگست کو جاری ہونے والے ڈی نوٹیفکیشن پر کسی قسم کی مزید قانونی یا انتظامی کارروائی نہ کی جائے۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
اس سے قبل عمر ایوب اور شبلی فراز نے الیکشن کمیشن کے نااہلی فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اپنی درخواست میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بغیر سنے ڈی نوٹیفائی کرنا غیر قانونی، غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی فیصلہ ہے۔
درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ انہیں صفائی کا موقع دیے بغیر سزا دی گئی، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
یاد رہے کہ 5 اگست کو الیکشن کمیشن نے 9 مئی کے مقدمات میں سزا یافتہ قرار پانے پر عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل سمیت پی ٹی آئی کے 9 اراکین پارلیمنٹ کو نااہل قرار دے کر ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا۔
یہ فیصلہ فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر کیا گیا، جہاں 31 جولائی کو 9 مئی کے 3 مقدمات میں عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل وزیر اور پی ٹی آئی کے 196 رہنماؤں و کارکنوں کو 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں، جب کہ 88 افراد کو بری کر دیا گیا تھا۔
پشاور ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے سے پی ٹی آئی قیادت کو عارضی ریلیف ضرور ملا ہے، مگر حتمی قانونی جنگ ابھی جاری ہے۔
