ایران پر حملے کے بعد بلوچستان میں ایرانی پٹرول کی قیمت ڈبل ہوگئی

امریکہ، اسرائیل، ایران جنگی کی وجہ سے بلوچستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ڈبل ہو گئیں، بلوچستان میں کچھ روز پہلے تک 100روپے لیٹر فروخت ہونے والے ایرانی پیٹرول کی قیمت 230روپے لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق خطے کے دیگر ممالک کی طرح ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے اثرات پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بھی شدت کے ساتھ محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جنگ کے باعث ایران سے ملحقہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ایندھن، خوراک اور روزگار سے وابستہ مسائل تیزی سے سنگین صورت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ایران پر انحصار کرنے والے سرحدی اضلاع، خصوصاً مکران اور رخشان ڈویژن کے علاقوں میں سرحدی تجارت تقریباً معطل ہو چکی ہے جس کے باعث ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ ایرانی اشیا کی سپلائی رکنے سے نہ صرف قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کے روزگار بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ مقامی تاجروں اور ماہرین کے مطابق اگر جنگ اور سرحدی بندش کی یہ صورتحال برقرار رہی تو بلوچستان کے ان علاقوں میں صرف مہنگائی ہی نہیں بلکہ خوراک اور ایندھن کے سنگین بحران کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکاربلوچ عوام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
خیال رہے کہ بلوچستان کے ایران سے ملحقہ سرحدی اضلاع میں ایندھن اور کھانے پینے کی اشیا کا بڑا حصہ ایران سے آتا رہا ہے۔ ان علاقوں میں ایرانی اشیا نہ صرف آسانی سے دستیاب ہوتی تھیں بلکہ پاکستانی مصنوعات کے مقابلے میں سستی بھی پڑتی تھیں۔ سرحدی علاقوں میں خوراک اور ایندھن کا تقریباً 80 فیصد انحصار ایران پر ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگ سے قبل ایران میں عوامی احتجاج کے بعد حکومت نے کھانے پینے کی اشیا کی برآمد پر 30 فیصد سے زائد ٹیکس عائد کر دیا تھا جس کے باعث قیمتیں بڑھ گئی تھیں، تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد سرحدی تجارت تقریباً معطل ہو چکی ہے جبکہ ایرانی حکومت نے خوراک سمیت متعدد اشیا کی بیرون ملک ترسیل پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں آٹا، گھی، خوردنی تیل، دودھ، دہی، بسکٹ، کیک، مچھلی، ایل پی جی گیس، پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل تقریباً بند ہو گئی ہے۔
جس کے بعد بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ان اشیا کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور جن تاجروں کے پاس ذخیرہ موجود ہے وہ من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایرانی آٹا پاکستانی آٹے کے مقابلے میں 30 سے 35 روپے فی کلو سستا تھا اور اس کا 40 کلو کا تھیلہ 3700 سے 3800 روپے میں مل جاتا تھا، تاہم اب یہ دستیاب نہیں اور لوگ پاکستانی آٹا خریدنے پر مجبور ہیں جو پانچ ہزار روپے فی تھیلہ سے کم میں نہیں مل رہا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال مزید ایک ہفتے تک برقرار رہی تو سرحدی علاقوں میں خوراک کے بحران کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایران سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل معطل ہونے کے بعد بلوچستان میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ایل پی جی گیس کی قیمت دگنی ہو کر تقریباً 600 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ ایرانی ڈیزل، پیٹرول اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں بھی 60 سے 70 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایرانی اشیا کی ترسیل صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ کوئٹہ، چمن اور ژوب سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی یہ اشیا پہنچتی تھیں۔ کوئٹہ، پنجگور، کیچ اور گوادر سے ایرانی اشیا ملک کے دیگر صوبوں تک بھی سمگل کی جاتی رہی ہیں۔ کوئٹہ کے علاقے سرکی روڈ پر واقع بریچ مارکیٹ جو ایرانی اشیا کا بڑا مرکز سمجھی جاتی ہے، وہاں بھی جنگ کے اثرات نمایاں ہو چکے ہیں۔ ایک دکاندار محمد اللہ کے مطابق سپلائی میں رکاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے باعث قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ان کے مطابق ایرانی دودھ کی فی لیٹر قیمت 200 سے بڑھ کر 300 روپے ہو گئی ہے جبکہ لسی کا پیکٹ 1350 سے بڑھ کر 1700 روپے تک جا پہنچا ہے۔ اسی طرح چاکلیٹ، کیک اور ایرانی مشروبات کی قیمتوں میں بھی ایک ہفتے کے دوران 20 سے 30 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ پانچ کلو خوردنی تیل کی قیمت بھی 2100 روپے سے بڑھ کر 2700 سے 2800 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ایران میں جاری جنگ کا سب سے زیادہ اثر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر پڑا ہے۔ پہلے ایرانی پیٹرول پاکستانی پیٹرول کے مقابلے میں نصف قیمت پر دستیاب تھا مگر اب بعض علاقوں میں اس کی قیمت 60 سے 80 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔گوادر میں جنگ سے پہلے 210 لیٹر پر مشتمل ایرانی تیل کا ایک بیرل 24 سے 25 ہزار روپے میں فروخت ہوتا تھا جبکہ پیٹرول 110 سے 120 روپے فی لیٹر دستیاب تھا۔ اب پیٹرول کی قیمت 180 سے 200 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے جبکہ بعض ساحلی علاقوں میں یہ 240 روپے فی لیٹر تک بتائی جا رہی ہے۔ اسی طرح ایرانی تیل کا ایک بیرل بڑھ کر تقریباً 36 ہزار روپے تک جا پہنچا ہے۔
ایران پر حملے کے بعد پاکستانی پمپوں سے پٹرول غائب ہونے لگا
ماہرین کے مطابق بلوچستان میں ایرانی تیل اور اشیا کی سمگلنگ اور غیر رسمی تجارت کئی دہائیوں سے مقامی معیشت کا اہم حصہ رہی ہے۔ پاکستان کے خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران سے سالانہ تقریباً دو ارب 80 کروڑ لیٹر پیٹرول اور ڈیزل بلوچستان کے راستے پاکستان آتا ہے جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ سرحد کی بندش یا ایرانی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ آنے کی صورت میں نہ صرف روزگار متاثر ہوتا ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں ایندھن کی شدید قلت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
