ایران پر حملے کے بعد پاکستانی پمپوں سے پٹرول غائب ہونے لگا

 

 

 

ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے راستے پیٹرولیم اور ایل این جی کی بحری ترسیل بند ہونے کے بعد ملک میں ممکنہ تیل بحران کے خدشات سر اٹھانے لگے ہیں، جبکہ بعض آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے سپلائی محدود کرنے کے ساتھ ساتھ منافع خور اور ذخیرہ اندوز عناصر بھی متحرک ہو گئے ہیں۔ جنہوں نے خفیہ گوداموں اور تہہ خانوں میں پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنی شروع کر دی ہیں۔ پیٹرولیم ڈیلرز کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو آنے والے دنوں میں عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

رپورٹس کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خلیج فارس کے اہم بحری راستے غیر محفوظ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی بحری ترسیل سخت متاثر ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس دوران ملک میں ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور عناصر بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض افراد اور گروہوں نے ممکنہ بحران کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنا شروع کر دی ہیں جبکہ کچھ بڑے پمپ مالکان کم فروخت ہونے والے پمپوں سے تیل حاصل کر کے اسے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ جس سے وقت سے پہلے ملک میں تیل کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر بعض کمپنیوں نے ابھی سے سپلائی محدود کر دی ہے۔ اس صورتحال کے باعث کئی پیٹرول پمپوں پر تیل کم مقدار میں دستیاب ہے جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس وقت تیل سپلائی کرنے والی کمپنیاں ڈیلرز کو ان کی طلب کے مطابق تیل فراہم نہیں کر رہیں۔ بعض پمپوں کو محدود مقدار میں تیل دیا جا رہا ہے جبکہ کچھ کو بالکل بھی سپلائی نہیں کی جا رہی۔  حکومت کو فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے تاکہ مارکیٹ میں پیدا ہونے والی بے چینی کو ختم کیا جا سکے۔ تاہم حکومتی ذمہ داران کا کہنا ہے کہ عوام کو بالکل نہیں گھبرانا چاہیے ملک میں اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کے موجودہ ذخائر تقریباً تین ہفتوں کے لیے کافی ہیں اور جنگی حالات میں ترسیل متاثر ہونے کی صورت میں ہنگامی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق دوست ملک سعودی عرب کی جانب سے آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کے ذریعے متبادل سپلائی فراہم کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔تاہم پٹرولیم ڈیلز ایسوسی ایشن کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے متبادل راستوں کے ذریعے تیل کی سپلائی ممکن بھی بنائی جاتی ہے تو طویل فاصلے اور اضافی شپنگ اخراجات کے باعث درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس صورت میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے جس کا براہ راست اثر عوام اور معیشت پر پڑے گا۔

امریکہ کے لیے ایران کے خلاف جنگ جیتنا ممکن کیوں نہیں؟

ماہرین کے مطابق اگر خطے میں جاری کشیدگی برقرار رہی اور بحری راستوں کے ذریعے تیل کی ترسیل مزید متاثر ہوئی تو پاکستان کو آنے والے دنوں میں توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے بلکہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف بھی سخت کارروائی کرے تاکہ عوام کو ممکنہ مشکلات سے بچایا جا سکے۔

Back to top button