دہشت گردی کے الزامات پر عمران کو لمبی قید میں ڈالنے کا منصوبہ

وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے کسی قسم کے دباو میں نہ آنے اور پراجیکٹ عمران کو اپنے حتمی انجام تک پہنچانے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ شہباز سرکار نے عمران خان کی بڑھتی ہوئی سرکشی اور ملک کیخلاف جاری سازشی پراپیگنڈے کو دیکھتے ہوئے حکومتی سطح پر عمران خان کیخلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔ جس کے بعد دہشتگردی سمیت مختلف الزامات پر عمران خان کو لمبی قید جبکہ بغاوت پر سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نےسابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف بڑی کارروائی شروع کرنےکا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔عمران خان کےخلاف ریاست کیخلاف بغاوت، دہشتگردی اور ملک کو داخلی انتشار میں دھکیلنےسمیت مختلف الزامات کے تحت وفاقی حکومت کی خصوصی کمپلینٹ پرکارروائی کامنصوبہ تیارکیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کے تحت فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،عمران خان پرسوشل میڈیاکےذریعےلوگوں کوریاست اور ریاستی اداروں کےخلاف بغاوت پر اکسانےکےالزامات ہیں.

 اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق عمران خان کےخلاف کارروائی شروع کرنےکی منظوری وفاقی کابینہ سےلی جائےگی اس حوالے سے وزارت داخلہ کووفاقی کابینہ سے منظوری کیلئے سمری تیار کرنے کا ٹاسک دےدیا گیاہے۔

اس حوالے سے ایف آئی اے سائبرکرائم ونگ نےعمران خان کےخلاف انکوائری مکمل کر لی ہے جس کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں عمران خان کے ٹرائل کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ حکومت عمران خان کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کےچیپٹر6 اور9اے اور دیگرمتعلقہ سیکشنز کےتحت کارروائی شروع کرنے کی خواہاں ہے،  جس کیلئے قانونی حکمت عملی طے کر لی گئی ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت عمران خان کیخلاف کارروائی کی منظوری وفاقی کابینہ سھ ہی جائے گی کیونکہ سی آرپی سی کےسیکشن196کے تحت کمپلینٹ فائل کرنے اور مختلف جرائم پرملزمان کےخلاف کارروائی کےلیے وفاقی کابینہ کی منظوری ضروری تقاضا ہوتا ہے۔ اسی لئے وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف بڑی کارروائی کی منظوری وفاقی کابینہ سے لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس کارروائی کو کہیں چیلنج نہ کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے وزارت داخلہ کو وفاقی کابینہ کے لیے سمری تیار کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کی منظوری کے بعد بانی پی ٹی آئی کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ چلایا جائے گا، منصوبے کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ٹرائل چلانے کی تیاری کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک رپورٹ جمع کرائی جس کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف پنجاب میں 99 اورخیبرپختونخوا میں 2 مقدمات درج ہیں۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف 74 مقدمات درج ہیں، ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے میں بانی پی ٹی آئی کےخلاف 7مقدمات زیرالتواہیں۔نیب میں بانی پی ٹی آئی کے 3 مقدمات زیرِالتواہیں جب کہ توشہ خانہ فوجداری کیس میں سزا کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی اپیل زیرالتوا ہے۔

Back to top button