مذاکرات پرآمادگی کے بعد عمران کی جانب سے پھر اگر مگر شروع

تحریک انصاف حکومت سے مذاکراتی عمل کے حوالے سے تذبذب،تضاد اور دوہری پالیسی کا شکار نظر آتی ہے جہاں ایک طرف تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی نے نون لیگ اور پیپلز پارٹی سے مذاکرات کی اجازت دے دی ہے اور پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کیلئے تیار ہے، بعد میں تحریک انصاف کی جانب سے یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ تحریک انصاف بحیثیت جماعت مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنے گی بلکہ عمران خان نے مذاکرات بارے تمام اختیارات محمود خان اچکزئی کو دے دئیے ہیں تاہم اب پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن کا جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی حکومتی جماعتوں سے قطعاً مذاکرات پر آمادہ نہیں ان کا ماننا ہے کہ چوروں سے کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے مذاکراتی عمل میں تضادات سمجھ سے بالاتر ہیں لگتا یہی ہے کہ پی ٹی آئی مذاکراتی عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے والا ریلیف تو حاصل کرنے کی خواہشمند ہے تاہم حکومت سے مذاکرات کا سیاسی بوجھ اٹھانے پر تیار نہیں اس لئے وہ حکومت سے مذاکرات میں محمود خان اچکزئی کو آگے لگارہی ہے۔
عید پربہترین صفائی،مریم نواز نے سینٹری ورکرز کو آفس بلالیا
دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جیل سے محمود خان اچکزئی کو مکمل اعتماد کا پیغام بھجوادیا ہے۔جس کے بعد ہی محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں اپوزیشن الائنس نے حکومتی اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اسد قیصر نے محمود خان اچکزئی سے ملاقات میں مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کا کہا ہے۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن الائنس کی طرف سے ٹی او آرز طے کرکے پی پی، ن لیگ اور ایم کیو ایم سے رابطہ کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی مذاکرات کے لیے الائنس میں شامل جماعتوں میں سے ایک ایک نمائندہ شامل کریں گے۔ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد مولانا فضل الرحمان کو اعتماد میں لیں گے۔ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی عید کے بعد مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کریں گے، بانی پی ٹی آئی الائنس کے مذاکراتی عمل کی مکمل حمایت کریں گے۔
تاہم پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور ترجمان رؤف حسن کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن، پی پی پی اور ایم کیو ایم نے لندن پلان کے تحت عام انتخابات میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا۔ بانی پی ٹی آئی کا فیصلہ ہے کہ ان تینوں جماعتوں کیساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دوران بانی چیئرمین نے صاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ کسی بھی پارٹی سے کوئی مذاکرات نہیں کر رہے، بانی چیئرمین ان چوروں سے کسی قسم کی کوئی بات چیت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔محمود خان اچکزئی اپنی مرضی سے کسی سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی اپنی مرضی ہے۔
