PMLNیاPPP،گلگت بلتستان میں اگلی حکومت کون بنائے گا؟

گلگت بلتستان میں قائم حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے آئندہ حکومت کے قیام کے لیے کمر کس لی ہے اور اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ دونوں جماعتوں نے گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں کامیابی کے بلند و بانگ دعوے کرنے شروع کر دئیے ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں کسی ایک جماعت کا سادہ اکثریت حاصل کر کے اکیلے حکومت بنانا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اندازہ یہی ہے کہ گلگت میں بھی وفاق کی طرح، آئندہ حکومت اتحادی ہی ہوگی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ یہ بات حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان میں عمومی طور پر اُسی جماعت یا اتحاد کی حکومت بنتی ہے جس کی مرکز میں حکومت ہو۔ چونکہ اس وقت وفاق میں اتحادی حکومت قائم ہے، لہٰذا امکان یہی ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی آنے والی حکومت مخلوط ہی ہوگی۔ موجودہ حالات کے مطابق پیپلز پارٹی اور نون لیگ دونوں میں سے کسی کو بھی سادہ اکثریت ملنے کا امکان کم ہے۔ لہٰذا زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوگی، جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت کو زیادہ وزارتیں دے کر اتحادی حکومت میں شامل کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گلگت بلتستان  میں صوبائی حکومت کی 5 سالہ آئینی مدت 25 نومبر کو مکمل ہو گئی ہے جس کے بعد اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے، تمام وزرا، مشیران اور کوآرڈینیٹرز کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف کی بطور گلگت بلتستان کونسل کے چیئرمین، موجودہ وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت کے بعد جسٹس (ر) یار محمد خان کو نگراں وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان میں نگراں سیٹ اپ کے قیام کے بعد ملکی سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ گلگت بلتستان میں فروری 2026 میں منعقد ہونے والے انتخابات کے بعد اگلی حکومت کس پارٹی یا اتحاد کی ہوگی؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات میں مقابلہ صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں ہی نظر آرہا ہے۔ تاہم گلگت میں زیادہ تر الیکٹیبلز کا رجحان پیپلز پارٹی کی طرف دکھائی دے رہا ہے اس لیے امکان یہی ہے کہ پیپلز پارٹی زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ تاہم وہ علاقے جہاں گلگت بلتستان کی خود مختاری کا مطالبہ زیادہ ہے وہاں مجلسِ وحدت المسلمین، گلگت بلتستان قومی موومنٹ، بالاوارستان نیشنل فرنٹ جیسی مقامی جماعتیں بھی ایک یا 2-2 نشستیں حاصل کر کے انتخابات پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ مبصرین کے بقول اگر عوام یا ووٹرز کی رائے کو دیکھا جائے تو ووٹرز کا ملا جلا رجحان نظر آ رہا ہے لیکن کچھ حلقوں میں ن لیگ کو پیپلز پارٹی پر واضح برتری حاصل ہے، لگتا یہی ہے کہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کی نشستوں میں زیادہ فرق نہیں ہو گا،ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیشہ سے گلگت بلتستان میں اسی جماعت کی حکومت ہوتی ہے جس کی وفاق میں حکومت ہو اس مرتبہ چونکہ وفاق میں اتحادی حکومت ہے تو امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی آئندہ اتحادی حکومت ہی قائم ہو گی انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ دونوں کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوگی اور دونوں جماعتوں میں سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا وزیراعلی ہوگا دوسری جماعت زیادہ وزارتیں لے کر اتحادی حکومت کا حصہ بن جائے گی۔

مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابی معرکے میں پی ٹی آئی کہیں بھی نظر نہیں آ رہی ہے کیونکہ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں PTI نے اہم نشستیں جیتی تھیں لیکن حالیہ برسوں میں بعض رہنما اس سے الگ ہوئے یا پارٹی سے نکالے گئے، جس کا مطلب ہے کہ پارٹی کا اندرونی ڈھانچہ کمزور ہو گیا ہے، اس وقت چند رہنما ہی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لینا چاہتے ہیں جبکہ متعدد رہنما پیپلز پارٹی میں باقاعدہ شامل ہو چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ عمرانڈو رہنماؤں کی بھی کوششیں جاری ہیں کہ کسی طرح انھیں مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی کا ٹکٹ مل جائے، تاکہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں۔ تاہم اس سال پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لینے کا رجحان انتہائی کم ہے،

کیا ضمنی الیکشن کے نتائج ملکی سیاست کو نیا رخ دیں گے ؟

پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے نائب صدر عمران ندیم شگری کے مطابق پیپلز پارٹی اس وقت گلگت بلتستان کی سب سے بڑی جماعت ہے، پیپلز پارٹی بھرپور طریقے سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے، چھوٹی سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار بھی پیپلز پارٹی سے اتحاد کے خواں ہے، پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں تمام سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدواروں کے لیے اتحاد کے دروازے کھول رکھے ہیں، پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ سیاسی جماعت یا سیاستدان اپنے قد کے مطابق پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتا ہے تو پیپلز پارٹی اس کے ساتھ اتحاد کے لیے تیار ہے۔ ان شاء اللہ گلگت بلتستان میں آئندہ وزیر اعلیٰ پیپلز پارٹی کا ہی ہو گا۔

 

Back to top button