وفاقی شرعی عدالت کے دفتر کا 27 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست پر اعتراض

وفاقی شرعی عدالت کے آفس نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواست پر ابتدائی اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔
درخواست میں وزارتِ قانون و انصاف اور وزارتِ پارلیمانی امور کے سیکریٹریز کو فریق بنایا گیا ہے۔ تاہم آفس نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی ترمیم کو چیلنج کرنا وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
اس موقع پر درخواست گزار بیرسٹر علی طاہر نے مؤقف پیش کیا کہ عدلیہ کی آزادی اور احتساب اسلام کے بنیادی اصول ہیں، جنہیں ترمیم کے ذریعے کمزور کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق شرعی عدالت کو اسلامی تعلیمات سے متصادم معاملات کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر اور فیلڈ مارشل کو دیا گیا تاحیات استثنیٰ غیر اسلامی ہے، جس کی موجودگی میں عدلیہ آزادانہ طور پر کیسز نہیں سن سکتی۔ درخواست گزار نے ترمیم کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کرنے کی استدعا کی۔
بعد ازاں وفاقی شرعی عدالت کے عملے نے درخواست کی نقول اسلام آباد ارسال کر دیں اور رجسٹرار سے دریافت کیا کہ آیا درخواست سماعت کے لیے منظور کی جائے یا مسترد۔
