سہیل آفریدی کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے شروع

اسلام آباد میں افواہیں گرم ہیں کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے نئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو 9 مئی 2023 کی ہنگامہ آرائی کے کیسز میں گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو میں سہیل آفریدی نہ صرف تحریک انصاف کے مسلح مظاہرین کو سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں پر اکسا رہے ہیں بلکہ بعض مناظر میں وہ ان کی قیادت کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
چنانچہ 6 نومبر کی شام اسلام آباد پولیس نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور تحریک انصاف خیبر پختون خواہ کے صدر جنید اکبر کی گرفتاری کے لیے وفاقی دارالحکومت میں واقع خیبر پختونخوا ہاؤس پر چھاپہ مارا، تاہم دونوں رہنما وہاں موجود نہیں تھے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان یار محمد کے مطابق اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ کے اہلکار وارنٹ گرفتاری لے کر خیبر پختونخوا ہاؤس گئے، مگر سہیل آفریدی اس وقت وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں موجود تھے۔ ان کے بقول، ایس ایچ او سیکرٹریٹ چند اہلکاروں کے ہمراہ وارنٹ کی تعمیل کے لیے پہنچے لیکن ناکام واپس چلے گئے۔ ترجمان نے تصدیق کی کہ وزیر اعلیٰ پچھلے دنوں اڈیالہ جیل میں تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات کے لیے گئے تھے مگر ملاقات نہ ہو سکی، جس کے بعد وہ اسی روز پشاور واپس پہنچ گئے۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف جاری وارنٹ گرفتاری 9 مئی 2023 کے حملوں پر جاری نہیں ہوئے بلکہ گزشتہ سال 24 نومبر کو درج ایک مقدمے سے متعلق ہیں۔
یاد رہے کہ پچھلے برس نومبر میں بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور کی زیر قیادت تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنان اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچے تھے لیکن سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن کے بعد پارٹی کی مرکزی قیادت جوتیاں اٹھا کر فرار ہو گئی اور دھرنا منتشر ہو گیا۔ تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کی 9 مئی کے مقدمات میں گرفتاری اس لیے ممکن نہیں کہ علی امین گنڈاپور کی حکومت نے خیبر پختون خواہ میں درج 9 مئی کے تمام مقدمات صوبائی ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے ختم کروا دیے تھے۔ تاہم اسلام آباد میں حکومتی ذرائع کا دعوی ہے کہ سہیل آفریدی کی 9 مئی کے مقدمات گرفتاری کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سہیل آفریدی کا فوج کے ساتھ اختلاف کوئی نیا معاملہ نہیں۔ وزارتِ اعلیٰ سے قبل بھی وہ متعدد مواقع پر فوجی قیادت اور آپریشنز کے طریقۂ کار پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔
2022 میں ایک عوامی جلسے کے دوران سہیل آفریدی نے الزام لگایا تھا کہ “فوجی آپریشنوں میں پختون علاقوں کے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا”۔ اسی تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ “اگر طالبان ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہیں تو انہیں دشمن نہیں، اپنے بھائی سمجھ کر بات چیت کی جائے۔” ان کے یہ بیانات اس وقت بھی متنازع قرار پائے تھے اور مبصرین نے انہیں طالبان ہمدرد موقف کے طور پر دیکھا تھا۔ حالیہ دنوں میں اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے ملاقات کی ناکامی کے بعد سہیل آفریدی نے ایک مرتبہ پھر فوج پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ “ریاست کے اندر ریاست نہیں چل سکتی، عوام کے مینڈیٹ کا احترام فوج کو سیکھنا ہوگا۔”ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی بیان کے بعد وفاقی اداروں کی جانب سے ان کی سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے سہیل آفریدی کے خلاف ممکنہ کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “وفاقی حکومت پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر دباؤ بڑھانے کے لیے پرانے مقدمات دوبارہ کھول رہی ہے۔ اگر انہیں اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے تو یہ جمہوری رویہ نہیں۔ اکرام کھٹانہ کے مطابق پارٹی قیادت اس صورتحال سے خوفزدہ نہیں ہوگی۔ ہم نے پہلے بھی جیلیں بھری ہیں، اب بھی تیار ہیں۔ ایسے حربوں سے ہمیں پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔
پشاور کے سینئر صحافی طارق وحید کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ کا فوج مخالف بیانیہ ان کے عہدے کے شایانِ شان نہیں۔ ایسے جملے کسی طلبہ تنظیم کے رہنما سے تو کہے جا سکتے ہیں، لیکن ایک صوبائی چیف ایگزیکٹو سے نہیں۔ ان کے مطابق طالبان مخالف فوجی آپریشنز کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں، مگر وزیر اعلیٰ نے جو الزامات عائد کیے، ان کے ٹھوس شواہد سامنے نہیں لائے۔ انکا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کو اب سمجھنا ہوگا کہ وہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ہیں، انہیں ذاتی یا جماعتی بیانیے سے بالاتر ہو کر وفاق سے تعلقات کو بہتر بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ مسلسل ایسے بیانات دیں گے تو ان کے خلاف ردعمل آنا فطری امر ہے۔
پنجاب نے TLP کی مساجد اور مدارس کا قبضہ کس کو دیا ہے ؟
سیاسی مبصرین کے مطابق سہیل آفریدی کے فوج مخالف بیانات اور طالبان سے متعلق نرم مؤقف نے ان کے لیے سیاسی فضا مزید مشکل بنا دی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے گرفتاری کے امکانات بڑھ رہے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ کب اور کیسے ہوگا، یہ آنے والے چند دنوں میں واضح ہو جائے گا۔
