27 ویں ترمیم کے پیچھے کون سے چانکیہ اور میکاولی سرگرم ہیں؟

 

 

 

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کرانے والے "چپ شاہ” دراصل چانکیہ اور میکاولی کی طرح خاموشی سے باریک واردات ڈال رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ دنیا کو بڑبولوں اور بڑے بڑے دعوے کرنیوالوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا چُپ شاہوں نے پہنچایا ہے۔ آج کی دنیا میں شفاف اور اعلانیہ سیاست چلتی ہے، لہٰذا حکمران وقت کی نبض کو پہچانیں اور اگر وہ واقعی کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں تو میدان میں آ کر اپنی ترامیم کی وکالت کر کے ثابت کریں کہ ان سے ملک میں کیا بہتری آئے گی۔ وگرنہ چانکیہ اور میکاولی کے خفیہ طریقہ سیاست کو تاریخ کی گرد میں دفن ہی رہنے دیں۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ 27؍ویں ترمیم کے بارے میں پہلے سرگوشیاں، پھر افواہیں اور اب کھلے عام اعلانات سنے۔ سیاست میں انقلابی تبدیلیوں کو سمجھنے کیلئے تاریخ اور علم سیاسیات کی مدد لینا پڑتی ہے۔ راج نیتی کے لفظ کو بالی وڈ نے بدنام کر کے پیش کیا ہے۔ ویسے اسکے لفظی معانی ریاست کو چلانے کا طریقہ ہوتے ہیں۔ صدیوں پہلے ٹیکسلا میں پیدا ہونیوالے چانکیہ کوٹلیہ نے ’ارتھ شاستر‘ لکھ کر ریاست اور سیاست چلانے کے ہتھکنڈے بنائے تھے۔ چانکیہ کے 18 سوسال بعد میکاولی نے ’دی پرنس‘ لکھ کر ریاست کاری اور سیاست کاری کے اصولوں کو زندہ مثالوں کے ساتھ بیان کیا۔ چانکیہ اور میکا ولی دونوں طرز حکمرانی میں کہنا کچھ اور کرنا کچھ کو سیاست کی خشت ِاول قرار دیتے ہیں۔

 

چانکیہ اور میکاولی دونوں کی تشریح کے مطابق سیاست یا راج نیتی دو طرح کی ہوتی ہے۔ پہلی راج نیتی بغیر اعلان کئے اپنے عزائم کی طرف بڑھنے کو کہتے ہیں، عام مفہوم میں اسے خفیہ یا خاموش ریاست کاری بھی کہا جاتا ہے۔ چانکیہ کا پسندیدہ انداز حکمرانی یہی ہے جبکہ دوسری طرح کی راج نیتی اعلانیہ ریاست کاری کہلاتی ہے جس کا مقصد یا شفاف سیاست کرنا ہوتا ہے جس میں ہر بات عوام کو بتا کر اور انہیں سمجھا اور منا کر کی جاتی ہے۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق چانکیہ کوٹلیہ اور میکا ولی کے دنیا میں چاہنے والے بھی بہت ہیں اور بڑے نامور حکمران ان کے نظریات پر عمل اپنی کامیابی کیلئے ضروری سمجھتے تھے۔ مگر دوسری طرف روشن خیال اور جمہوری سوچ والے، چانکیہ اور میکا ولی کی سیاست کو عیاری اور مکاری قرار دیکر انہیں ظلم وجبر کے نظام کو تسلسل دینے کا ذمہ دار بھی قرار دیتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں دنیا کے اکثر ممالک کے بیشتر سیاستدان دعویٰ تو یہی کرتے ہیں کہ وہ خفیہ راج نیتی نہیں کرتے ہیں لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے۔ اب بھی دنیا بھر میں اسی کا دور دورہ ہے۔ شخصی آزادیاں محدود ہو چکی ہیں، لوگ محکوم ہیں، جاسوسوں کا جال بچھا ہے، سازشوں کا بول بالا ہے، دشمنوں کے خلاف چالبازی جائز ہے اور حکمرانی کیلئے ہر ظلم روا ہے ۔یہی چانکیہ سٹائل کی راج نیتی تھی۔ چانکیہ نے سکندر اعظم کے بعد ہندوستان میں رہ جانے والے یونانی حکمرانوں کیخلاف طاقتور بیانیہ بنایا اور اُن پر ریاستی حملے کی بجائے ان کیخلاف چھوٹے چھوٹے قبائل سے بغاوتیں کروا کر انہیں زِچ کر دیا، اس نے انکے خلاف جاسوسوں کا جال بچھایا، بھکشو، جوگی اور تاجر سب موریہ حکمران کے ایجنٹ بن گئے، حد تو یہ کہ یونانی حکمران سلیوکس اپنی فوج سمیت ہندوستان چھوڑ کر یونان واپس چلا گیا۔ چانکیہ وہ واحد فلاسفر ہے جس نے اپنی خفیہ راج نیتی سے مادی فتوحات حاصل کیں۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ 27 ویں ترمیم کے معاملے میں گُپت راج نیتی کا استعمال جاری ہے، اٹھارہویں ترمیم لانے سے پہلے عام مباحث ہوئے تھے جس سے معاملات کافی حد تک واضح ہو گئے تھے مگر ابھی تک بہت سے معاملات پر گہری دھند چھائی ہوئی ہے۔ دھند کے موسم میں کئے جانیوالے فیصلے روشنی کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔ ویسے بھی وہ سیاسی اصول کبھی درست نہیں ہوسکتا جسے عوام کے سامنے نہ لایا جا سکے۔ مارگلہ میں بیٹھے کچھ افراد اب بھی خفیہ سیاست کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نئی آئینی ترامیم کی تجویز کے نام نامی کون سے ہیں؟ اور کون سے چانکیہ صاحبان اس کمیٹی میں شامل ہیں جنہوں نے یہ فیصلے کیے، ان کے نام بھی خفیہ نہیں رکھنے چاہئیں کیونکہ کل کو تاریخ کا کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ حکومت یا اداروں کو نہیں بلکہ ان شخصیات کو ملنا چاہیے۔

انکے مطابق یہ اندازہ تو ہے کہ فوج اور حکومت نے مل کر ہی ترمیم کا نئی ترامیم کا فیصلہ کیا ہو گا لیکن افواج اور حکومتیں بھی اشخاص پر مشتمل ہوتی ہیں، اشخاص ہی اداروں اور حکومتوں کی غلط یا صحیح ذہن سازی کرتے ہیں۔

 

جنرل ضیا کے دور میں شریف الدین پیرزادہ فیصلہ سازوں کے مشیر تھے جمہوریت کے اندر بھی آمریت کے رستے کھلنے شروع ہو جاتے تھے، لیکن ایس ایم ظفر ایک فوجی ڈکٹیٹر کا ساتھی ہونے کے باوجود ہمیشہ جمہوری حل تلاش کیا کرتے تھے۔ دراصل افراد کی سوچ، فکر اور رویے ہی فیصلوں کی بنیاد ہوتے ہیں۔ یہ ترامیم جس بھی چانکیہ یا میکاولی کے ذہن کی پیداوار ہیں، اسے سامنے آ کر ان ترامیم کی عوامی سطح پر وکالت کرنی چاہئے۔ یہ فیصلہ ساز چپ شاہ بن کر پاکستان اور اسکی فوج کیلئے عوام سے پوچھے بغیر بڑے بڑے فیصلے کر رہے ہیں جو کہ غلط ہے۔

ترمیم کی حمایت کیلئے سیاسی جماعتوں نے مطالبات کے ڈھیر لگا دیے

سہیل وڑائچ کہتے ہیں مانا کہ پاکستان اب گورننس کے قابل نہیں رہا، ریاست کے ادارے کمزور اور مافیاز مضبوط ہو چکے ہیں، یہ بھی مان لیا کہ آئین جامد نہیں ہوتے اور انہیں وقت کے ساتھ بدلنا پڑتا ہے۔ یہ بھی قبول کہ فیصلہ ساز ہمیشہ تخلیقی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں مگر آج کی دنیا کا جھوٹا سچا دستور یہی ہے کہ چپ کر سیاست کرنے کے بجائے سامنے آ کر راج نیتی سے کام لیا جائے۔ دنیا کو بڑبولوں اور بڑے بڑے دعوے کرنیوالوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا چُپ شاہوں نے پہنچایا ہے۔ چانکیہ کا دور چلا گیا۔ آج کی دنیا شفافیت اور اعلانیہ سیاست کی ہے، وقت کی نبض کو پہچانیں اور اگر واقعی کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں تو کھلے عام میدان میں آ کر اپنے نظریے اور ترامیم کی وکالت کریں دلائل دیں اور ثابت کریں کہ ان سے ملک میں کیا بہتری آئے گی۔ وگرنہ چانکیہ کو تاریخ کی گرد میں دفن ہی رہنے دیں۔

 

Back to top button