امریکا اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کی امید ہے،اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی اس وقت کوشش ہے عارضی جنگ بندی مستقل ہوجائے۔
اسلام آباد میں پاکستان علما کونسل کے زیر اہتمام چھٹی بین الاقوامی پیغام اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا جن چیلنجز سے گزر رہی ہے اس کے لیے نہایت ضروری ہے اور ہمارے علمائے کرام اور مسلم امہ کی قیادت پر ذمہ داری ہے کہ امت کو اکٹھا رکھنا ہے۔
اسحاق ڈارنے کہا کہ فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر ایسے تنازعات ہیں، جو ہماری اولین ترجیح تھی، ہے اور رہے گی، فلسطین کے حوالے سے وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیے، انڈونیشیا اور پاکستان نے مل کر آواز اٹھائی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی، جس کے بعد خون ریزی میں بے پناہ کمی آئی، مزید کوششیں جاری ہیں اور اس حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے خصوصی اجلاس بھی ہوئے۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ اسی طرح جب تک کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی اپنی خواہشات کے مطابق ریفرنڈن کے ذریعے آزاد نہیں ہوگا، اس وقت جنوبی ایشیا میں کشیدگی رہے گی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں چیلنجز کرکے ہمارے دشمن نے دیکھ لیا اور اللہ کے فضل سے مسلح افواج کے سربراہان نے ثابت کیا کہ پاکستان کو کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔
