معاہدہ ہوگیاتوجنگ ختم ورنہ ایران پرشدید بمباری ہوگی،ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران طے شدہ شرائط مان لیتا ہے تو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ اگر ایران اس معاہدے کو تسلیم کر لیتا ہے جس پر اتفاق ہو چکا ہے، اور یہ بہت بڑا ’اگر‘ ہوگا، تو آپریشن ایپک فیوری ختم ہو جائے گا اور انتہائی مؤثر ناکہ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سب کے لیے، بشمول ایران، کھول دی جائے گی۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو بمباری دوبارہ شروع ہو گی اور بدقسمتی سے اس کی شدت اور سطح پہلے سے کہیں زیادہ ہوگی۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نےکہا ہے کہ امریکا دھمکیاں بند کرے تو آبنائے ہرمز سے محفوظ راہداری ممکن ہوگی، نئے طریقہ کار کے ساتھ آبنائے ہرمز کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، پاسداران انقلاب نے ایرانی ضوابط کا احترام کرنے پر بحری جہازوں کےکپتانوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
واضح رہے کہ امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت تیار کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق فریقین اس وقت معاہدے کے اتنے قریب ہیں جتنا جنگ کے آغاز سے اب تک کبھی نہیں رہے تھے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز رپورٹ کے مطابق امریکا کو اگلے 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظار ہے, اگرچہ ابھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں ہوئے لیکن صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔
