PTI کی مانیٹرنگ کمیٹی یوتھیوں کے نشانے پر کیوں؟

پاکستان تحریک انصاف میں تنظیمی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے نام پر بنائی گئی پنجاب کوآرڈینیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی نے پارٹی کے اندر ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ بظاہر اس کمیٹی کا مقصد تنظیمی ہم آہنگی اور الیکشن تیاریوں کو بہتر بنانا بتایا جا رہا ہے، مگر پارٹی کے اندر سے اٹھنے والی آوازیں اسے "نگرانی اور کنٹرول کا نیا نظام” قرار دے رہی ہیں، جس نے قیادت اور کارکنوں کے درمیان اعتماد کو مزید کمزور کر دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی جانب سے پنجاب میں 5 رکنی کوآرڈینیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں امجد خان نیازی، نعیم حیدر پنجوتھا، شوکت بسرا، علی اعجاز بٹر اور مہر عبد الستار شامل کیے گئے ہیں۔ کمیٹی کو وسیع ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جن میں تنظیمی امور کی ہم آہنگی، ریجنل قیادت سے رابطہ، الیکشنز کی تیاری، پارٹی سٹرکچر کی مانیٹرنگ، ونگز کی سرگرمیوں کی نگرانی، سیاسی ایونٹس کی منصوبہ بندی، اور قیدیوں کی فلاح و بہبود اور قانونی معاونت کی نگرانی جیسے حساس امور شامل ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کمیٹی ہفتہ وار رپورٹ سیکریٹری جنرل کو پیش کرے گی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب پنجاب میں پارٹی کی چیف کنوینر عالیہ حمزہ کی تنظیمی سرگرمیوں میں کمزوری اور غیر فعالی محسوس کی گئی، جس کے باعث ایک متبادل انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا۔تاہم اس فیصلے نے پارٹی کے اندر شدید تحفظات کو جنم دیا ہے۔ متعدد سینیئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ کمیٹی تنظیمی کوآرڈینیشن کے لیے بنائی گئی ہے، مگر عملی طور پر اسے رہنماؤں اور کارکنوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک سینیئر رہنما کے مطابق یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ کسی بھی احتجاج، جلسے یا ریلی میں شرکت کرنے والے رہنماؤں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا اور عدم شرکت پر کارروائی کی سفارش بھی ہو سکتی ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق اس کمیٹی کے تحت ایک ماہ کی تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں یہ بھی شامل ہو سکتا ہے کہ کون سا رکن قومی یا صوبائی اسمبلی پارٹی سرگرمیوں میں شریک ہوا یا نہیں۔ اسی بنیاد پر ممکنہ طور پر شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جا سکتے ہیں، جس نے اندرونی حلقوں میں بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔دوسری جانب بعض رہنماؤں نے اس اقدام پر سخت اعتراض کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے سامنے تحفظات بھی پیش کیے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں جب پارٹی پہلے ہی سیاسی دباؤ، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا کر رہی ہے، ایسے اقدامات اتحاد کو مضبوط کرنے کے بجائے مزید تقسیم پیدا کر سکتے ہیں۔ ان رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کمیٹی کو یا تو ختم کیا جائے یا اس کے دائرہ کار کو صرف تنظیمی بہتری تک محدود رکھا جائے۔

ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر علی خان نے ان تحفظات کو سنجیدگی سے سنا ہے اور اس معاملے پر آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔پی ٹی آئی ذرائع کے بقول سلمان اکرم راجہ اور بعض دیگر رہنماؤں کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات نے اس کمیٹی کے نوٹیفکیشن کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔ پنجاب کے بعض علاقائی صدور نے بھی ان ناموں پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا اور اسے گروپنگ اور ذاتی اثر و رسوخ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے اندر تنظیمی اصلاحات کے نام پر کیے گئے اس اقدام نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف قیادت اسے نظم و ضبط اور انتخابی تیاری کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ایک بڑا طبقہ اسے اعتماد کی کمی اور اندرونی نگرانی کا نظام سمجھ رہا ہے، جو پارٹی کے اندر مزید دراڑیں ڈال سکتا ہے۔

Back to top button