یواے ای پر ایرانی میزائل حملوں سے پاکستان مشکل میں کیوں؟

یواے ای پر ایرانی میزائل حملوں سے پاکستان مشکل میں کیوں؟

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران جہاں امریکا اور ایران پاکستان کی ثالثی سے امن معاہدے کی طرف پیش رفت کر رہے ہیں، وہیں ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر مبینہ میزائل حملوں کے الزامات نے خطے میں تناؤ مزید بڑھا دیا ہے، جس سے پاکستان کے لیے سفارتی چیلنجز بھی پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ خطے میں جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تناؤ کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی بیک وقت جاری ہیں۔ تازہ صورتحال میں ایک اہم پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ امریکا کی جانب سے شروع کیا گیا ایک عسکری نوعیت کا آپریشن’پروجیکٹ فریڈم‘، پاکستان کی درخواست پر عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود خطے میں عدم استحکام برقرار ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر آبنائے ہرمز میں بحری تحفظ سے متعلق آپریشن “پراجیکٹ فریڈم” کو وقتی طور پر معطل کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بظاہر کشیدگی کو کم کرنا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا بتایا جا رہا ہے، لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ دوسری جانب خطے میں اس وقت سب سے زیادہ حساس معاملہ متحدہ عرب امارات پر مبینہ میزائل اور ڈرون حملے ہیں، جنہیں اماراتی حکام نے اپنی اہم تنصیبات پر ناکام حملے قرار دیا ہے۔ اماراتی حکومت نے ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا ہے، تاہم تہران نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کسی بھی کارروائی سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں پہلے ہی جنگ بندی انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اماراتی وزارت خارجہ نے ان حملوں کے بعد واضح طور پر کہا ہے کہ اسے اپنے دفاع کا مکمل قانونی حق حاصل ہے، جس سے صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس تمام بحران میں پاکستان ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، جو امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ تاہم تازہ واقعات نے اسلام آباد کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ ایک طرف ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھنا ہے تو دوسری طرف خلیجی ممالک، خصوصاً امارات کے ساتھ تعلقات بھی متاثر نہیں ہونے دینے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اس وقت ایک “تنی ہوئی رسی” پر چل رہا ہے، جہاں ہر فیصلہ اس کی سفارتی ساکھ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سابق سفارت کاروں اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی بھی فریق کو ناراض کیے بغیر صرف سفارتی دباؤ اور رابطوں کے ذریعے ہی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی عملی یا نافذ کرنے والی طاقت موجود نہیں۔

مبصرین کے مطابق صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ کی جانب سے “پراجیکٹ فریڈم” کی عارضی معطلی کے باوجود یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں پر دباؤ برقرار رہے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکمل کشیدگی میں کمی کے بجائے ایک “کنٹرولڈ اسکیلیشن” کی کیفیت برقرار ہے، جہاں کبھی مذاکرات اور کبھی عسکری دباؤ سامنے آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت سب سے بڑا چیلنج پاکستان کے لیے یہ ہے کہ وہ بیک وقت امریکہ کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات، ایران کے ساتھ سفارتی رابطے اور خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی وابستگی کو متوازن رکھے۔ متحدہ عرب امارات پر حملوں کی تازہ لہر نے اس توازن کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ مجموعی طور پر صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن خطہ ابھی بھی ایک بڑے بحران کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں کسی بھی نئے حملے یا غلط فہمی سے حالات دوبارہ مکمل تصادم کی طرف جا سکتے ہیں۔

Back to top button