انقلابی سہیل آفریدی کی احتجاجی تحریک ٹھس کیسے ہوئی؟

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے شروع کی گئی ملک گیر احتجاجی تحریک ٹھس ہو گئی۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا اپنے بلندوبانگ دعوؤں اور انقلابی نعروں کے برعکس قلم چھوڑ ہڑتال بارے حالیہ احتجاجی لائحہ عمل خود ان کی سیاسی حکمت عملی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق جس قیادت نے “عشقِ عمران میں جان دینے” اور ملک گیر احتجاجی تحریک برپا کرنے کا اعلان کیا تھا، وہ اب قلم چھوڑ ہڑتال جیسی ایک ایسی حکمت عملی پر آکر رک گئی ہے جسے نہ صرف کمزور بلکہ غیر سنجیدہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کی جانب سے “قلم چھوڑ ہڑتال” کا اعلان دراصل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب پارٹی کارکنان اور حامیوں کو ایک بھرپور اور جارحانہ احتجاج کی توقع تھی۔ تاہم سہیل آفریدی کے اس فیصلے نے تحریک انصاف کے اندر اور باہر دونوں سطحوں پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔ سوشل میڈیا، جو ہمیشہ پارٹی کا مضبوط ہتھیار سمجھا جاتا تھا، اسی فیصلے پر تنقید کا مرکز بن گیا۔ پارٹی کے اپنے حمایتی اسے ایک ایسی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں جس نے تحریک کی سنجیدگی کو نقصان پہنچایا۔
پارٹی کے اندرونی حلقوں میں بھی اس فیصلے کو ناپختہ اور غیر مؤثر قرار دیا جا رہا ہے۔ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے بعض سینئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک بڑے صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے اس نوعیت کا احتجاجی قدم نہ صرف کمزور پیغام دیتا ہے بلکہ پارٹی کی مجموعی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ان کے مطابق عوام کو متحرک کرنے کی بجائے یہ اقدام خود پارٹی کو دفاعی پوزیشن میں لے آیا ہے۔ مزید برآں، پارٹی کے اندر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ اپنی بنیادی ذمہ داریوں اور وعدوں کو پورا کرنے میں کس حد تک کامیاب رہے ہیں۔ خاص طور پر بانی تحریک انصاف سے ملاقات جیسے اہم معاملے پر پیش رفت نہ ہونا بھی تنقید کا باعث بن رہا ہے۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ نے اپنی سیاسی بقا کو یقینی بنانے کے لیے پس پردہ مفاہمت کا راستہ اختیار کر لیا ہے، جس سے ان کے احتجاجی بیانیے کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کے مرکز سے تعلق رکھنے والے سرکردہ افراد نے اس فیصلے کو بچکانہ اور احمقانہ قرار دیا ہے۔ خود خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے سرکردہ افراد نے بھی کہا ہے کہ اس سے تحریک انصاف قرار واقعی طور پر مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا ہے کہ ایک اہم صوبے کا چیف ایگزیکٹو ہونے کے باوجود سہیل آفریدی کسی دوسرے کے لیے تحریک انصاف کے جیل کاٹ رہے بانی سے کیا ملاقات کراتا وہ خود آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود اڈیالہ جیل کے پھاٹک کو بھی نہیں چھو سکا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو “قلم چھوڑ ہڑتال” ایک ایسے اقدام کے طور پر سامنے آئی ہے جس نے تحریک انصاف کے دعووں اور عملی اقدامات کے درمیان واضح فرق کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے اندرونی اختلافات کو اجاگر کرتی ہے بلکہ مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھاتی ہے کہ آیا یہ قیادت واقعی کسی بڑی عوامی تحریک کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔
