مرنا ایران کو تھا پھنس امریکہ گیا

تحریر: ایاز میر
بشکریہ: روزنامہ دنیا

مسئلہ یہ نہیں رہا کہ ایران کو کیسے شکست ہو اور امریکی مطالبات کے سامنے وہ کیسے سرنگوں ہو۔ مسئلہ اب یہ بن پڑا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس بیوقوفی سے کیسے نکالا جائے۔ چلے تھے ایران کو تباہ کرنے اور پھنس گئے‘ اس بری طرح کہ نکلنے کا راستہ نظر نہیں آ رہا۔ آئے روز صدارتی محل سے لایعنی باتیں نکلتی ہیں جن کا آپس میں کوئی ربط نہیں ہوتا۔ یہ تو ایسے ہی ہوا کہ اغوا کرنے آپ کسی کو نکلیں اور وختہ اتنا پڑ جائے کہ مغوی سے جان چھڑانے کی پڑ جائے۔
امریکہ کا المیہ یہ بھی دیکھیے کہ پوری دنیا میں ایران سے پیغام رسانی کرنے کے لیے صرف ایک پاکستان ہی ہے۔ دونوں فریق پاکستان پر تکیہ کر رہے ہیں اور یہ چینل نہ ہو تو دونوں مصیبت میں پڑ جائیں۔ ٹرمپ بلاوجہ ہی ہمارے فیلڈ مارشل کی تعریف نہیں کرتے‘ لے دے کے یہی ایک انحصار رہ گیا ہے۔ لیکن فیلڈ مارشل بھی بات کو کتنا آگے لے جا سکتے ہیں کیونکہ جوہری مسئلے پر ٹرمپ نے اپنے آپ کو کئی گانٹھوں میں باندھ رکھا ہے۔ ایرانی پیشکش بڑی سادہ ہے کہ جنگ ختم ہو‘ آبنائے ہرمز سے آمدورفت بحال ہو اور جوہری مسئلے کو بعد میں ڈِسکس کیا جائے جیسا کہ اس جنگ سے پہلے ہو رہا تھا۔ عمان کی وساطت سے بات چیت ہو رہی تھی اور اُس میں پیش رفت بھی ہو رہی تھی۔ ٹرمپ کی بدبختی کہ نیتن یاہو کی باتوں میں آ گئے اور آنکھیں بند کرکے عقل پر تالے لگا کر ایران پر حملہ کر دیا۔
ایران تباہ ہو جاتا تو بات اور تھی۔ نظام گِر پڑتا کوئی پٹھو اقتدار میں بٹھا دیا جاتا اور ظاہر ہے پھر امریکہ کی ہر بات مانی جاتی۔ لیکن ایسا ہوا نہیں اور یہی ٹرمپ کے لیے مصیبت بنی ہوئی ہے۔ یہ چیلنج اب ہمارے ثالثوں کے لیے ہے کہ امریکیوں کو سمجھائیں کہ جتنا جلد اس جھمیلے سے نکلیں اتنا ان کے لیے بہتر ہے۔ ٹرمپ کو اپنی یہ پڑی ہوئی ہے کہ جوہری مسئلے پر کامیابی نظر نہ آئے تو امریکہ میں سیاسی طور پر مسئلہ بن جائے کہ لوگ پوچھیں گے ایران کا جوہری پروگرام ختم نہیں ہوا تو جنگ کی جھک مارنے کی کیا ضرورت تھی۔ اور تو کوئی ثالث بیچ میں ہے نہیں ہمارے ارباب اختیار ہی اب اُن کو یہ سمجھائیں کہ جیسا بھی ہے اس دلدل سے نکلو۔
ایک بات ماننی پڑتی ہے‘ اسحاق ڈار کو وزیر خارجہ بنایا گیا تو ہم جیسے لوگوں نے پھبتی کَسی کہ ڈار نے معیشت کے ساتھ جو کرنا تھا وہ تو کیا اس نئے محاذ پر کیا گُل کھلانے ہیں۔ لیکن غیر جانبدار نظروں سے دیکھا جائے تو ڈار بڑے بڑوں سے بہتر ثابت ہوئے ہیں۔ جس طریقے سے سارے فریقوں کو راضی رکھا ہے یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ امریکی تو تکیہ کر ہی رہے تھے لیکن ایرانیوں کے احساسات کو مدنظر رکھنا اور پھر سعودیوں کو بھی اعتماد کے دائرے میں رکھنا یہ وزارتِ خارجہ کے لیے آزمائش تھی‘ جس پر ہمارے لوگ پورے اترے ہیں۔ امریکی تعریف کر رہے ہیں اور ایرانی بھی پاکستان کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔ کل ہی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ایک پوسٹ تھی جس میں امریکہ کو تنبیہ تو تھی لیکن پاکستان کا ذکر بہت اچھے انداز میں تھا۔ کون تصور کر سکتا تھا کہ اسحاق ڈار سفارت کاری کے اس معیار پر پہنچیں گے لیکن مولا کے رنگ ہیں اور ایسا ہی ہوا ہے۔
بنیادی مسئلہ البتہ وہی ہے کہ ایران نے تو اپنا تحفظ اور بچاؤ خود کر لیا امریکہ کو اس حماقت سے کیسے نکالا جائے۔ امریکہ کی اہمیت اس لیے ہے کیونکہ اس کی بیوقوفی کی وجہ سے ہم جیسے ممالک خواہ مخواہ رگڑے جا رہے ہیں۔ یہ پٹرول اور گیس کا جو بحران یہاں پیدا ہو رہا ہے اس کی وجہ امریکہ ہے۔ جنگ کی حماقت پر نہ نکلتا تو برادر عرب ممالک پر ایرانی حملے نہ ہوتے‘ گیس اور تیل کی پیداوار متاثر نہ ہوتی‘ آبنائے ہرمز ایران بند نہ کرتا اور تیل اور گیس کی ترسیل جیسے پہلے تھی جاری رہتی اور معاشی بحران جس سے ساری دنیا متاثر ہو رہی ہے اس کی لپیٹ میں ہم نہ آتے۔ جب تک امن کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی اور ٹرمپ کو اپنی حماقت کے اثرات سے نہیں نکالا جاتا‘ معاشی بحران ختم نہیں ہو گا اور تیل اور گیس کی قیمتیں اوپر رہیں گی۔ یعنی صدر ٹرمپ کے اس بلنڈر سے ہمارا گہرا تعلق ہے اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا ہم یوں ہی رگڑا کھاتے رہیں گے۔
گو یہ بحران گلوبل ہے یعنی پوری دنیا اس سے متاثر ہو رہی ہے ممکنہ حل یا مذاکرات کا بس ایک ہی ذریعہ ہے‘ پاکستان اور اس کے حکمران۔ جو بھی رابطے ہیں وہ پاکستان کے ذریعے زندہ ہیں۔ لیکن پاکستان کو ایک بات کے بارے میں بڑا کلیئر ہونا چاہیے کہ مسئلہ ایران نہیں ہے مسئلہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کا صدارتی محل ہے۔ لہٰذا قائل کرنا ایران کو نہیں بلکہ امریکہ کو ہے کہ اس جوہری ضد سے تھوڑا پیچھے ہٹے۔ ایران نے اس مسئلے پر بہت لچک دکھائی ہے یہاں تک کہ کچھ عرصے کے لیے یورینیم افزودگی کو ترک کرنے کا پیمان کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ جو افزودہ یورینیم کی مقدار اس کے پاس ہے اسے کمزور کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن اس مسئلے پر ایران سرنڈر کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یورینیم افزودگی کے حق سے محروم ہونے کا وہ اعلان نہیں کر سکتا نہ کرے گا۔ امریکی سمجھ میں اب تک یہ بات نہیں آ رہی اور وہ یہ رَٹ لگائی جا رہے ہیں کہ افزودگی کے حق سے ایران دستبردار ہو جائے۔ یہ نکتہ ہے جس پر پاکستان کو اپنی سفارت کاری کے کمالات دکھانے ہیں۔ ساتھ ہی یہ کاوش بھی قائم رہے کہ کہیں امریکی فرسٹریشن میں جنگ پھر نہ شروع ہو جائے۔ وہ جو کہتے ہیں نَکو نَک ہونا امریکی صدارتی محل کی یہ کیفیت بنی ہوئی ہے۔
اس جنگ میں امریکیوں اور اسرائیلیوں نے اپنے نقصانات کو بڑی مہارت سے چھپائے رکھا ہے۔ سی این این کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برادر عرب ملکوں میں جو امریکی اڈے قائم ہیں ان کا کتنا نقصان ہوا ہے۔ رپورٹ سنیں تو یقین نہیں آتا کہ امریکہ کی اتنی تباہی ہوئی۔ ریڈار تباہ‘ تنصیبات تباہ‘ سراغ رسانی کا ایک بڑا جہاز تباہ جس کی قیمت پانچ سو ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ تمام اڈے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ اور جیسا کہ خبروں میں آتا رہا ہے دورانِ جنگ ان اڈوں پر تعینات فوجیوں کو ہوٹلوں میں منتقل ہونا پڑا۔ برادر ملکوں کا بھی کیا حال ہوا ہے‘ تحفظ کا تکیہ جن پر تھا وہ اپنا تحفظ نہ کر سکے۔ برادر ملک بھی سوچتے ہوں گے کہ اعتبار کس پر کیا۔ آج اس خطے کی ساری صورتحال بدل چکی ہے۔ تباہی تو ہر جگہ ہوئی لیکن یو اے ای والے ہمارے برادر سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ان کا تو سارا معاشی ماڈل اس مفروضے پر قائم تھا کہ ان کا استحکام اور تحفظ کوئی شے متاثر نہ کر سکے گی۔ مختصر سی جنگ نے اس مفروضے کو ہوا میں اڑا دیا۔ ایئر پورٹ خالی‘ ٹورسٹ غائب اور بہت سا سرمایہ منتقل ہونے لگا۔ ملاحظہ تو ہو کہ کس ہتک آمیز انداز میں ایرانی میڈیا اور ایرانی حکام یو اے ای والوں کا ذکر کرتے ہیں۔
ہمارے لوگ اب امریکیوں سے کھل کر کہیں کہ ہوش سنبھالو تاکہ اس دلدل سے نکل سکو۔ عزت مل تو گئی خاک میں لیکن جو بچی ہے اسے تو بچاؤ۔

Back to top button