اسلام آباد سیف سٹی کیمروں کے کمالات

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا
دو راتیں قبل اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر F-6/3 سے رات بارہ بجے سوات سے آئے تین افراد نے ایک 30سالہ نوجوان کو گھر کے باہر گاڑی سے اترتے وقت اغوا کر لیا۔ جب اس نوجوان نے شور مچایا تو اس کا والد باہر نکلا‘ دیگر محلے دار بھی باہر آگئے جس پر اغوا کاروں نے فائرنگ شروع کر دی اور نوجوان کو گاڑی میں ڈال کر فرار ہوگئے۔ جب یہ وقوعہ ہو رہا تھا تو ہمسائے کی ایک خاتون نے 15پر کال کر کے پولیس کو الرٹ کر دیا۔ اس کے بعد اسلام آباد پولیس نے کیا کارکردگی دکھائی وہ میں آپ کو بعد میں بتاتا ہوں۔ پہلے یہ جان لیں کہ اس شہر کو محفوظ بنانے کے نام پر اب تک کتنے کروڑ ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ جی ہاں‘ میں کروڑوں روپوں کی نہیں بلکہ کروڑوں ڈالرز کی بات کر رہا ہوں جو سیف سٹی منصوبے کے تحت اس دعوے کے ساتھ خرچ کیے گئے تھے کہ اب یہ شہر مکمل طور پر محفوظ ہو جائے گا اور یہاں چڑیا تک پر نہیں مار سکے گی۔ لیکن اب چڑیا کے پر تو چھوڑیں یہاں دن دہاڑے ڈکیتیاں اور اغوا عام ہو چکے ہیں۔ اس نوجوان کا رات بارہ بجے اغوا اور بعد ازاں قتل واضح مثال ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ان کے اعلیٰ حکام کی کارکردگی کی کیا صورتحال ہے۔
پورے واقعے کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں جب رحمن ملک وزیر داخلہ بنے تو چینی حکام کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا گیا کہ اسلام آباد کو جرائم سے پاک رکھنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جائے۔ روایتی پولیسنگ کے طریقے اب ناکام ہو چکے ہیں اور نگرانی کے جدید نظام کی ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں پہلی بار پاکستان میں سیف سٹی کا تصور سامنے آیا جس کے تحت شہرِ اقتدار میں کیمرے نصب کیے جانے تھے اور ان سب کو وزارتِ داخلہ میں قائم ایک مرکزی آپریشن روم سے منسلک کیا جانا تھا۔ اس نظام کا مقصد یہ تھا کہ شہر کے کسی بھی حصے میں ہونے والی واردات‘ گاڑی چوری یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو الرٹ کیا جائے اور کیمروں کے ذریعے ملزمان کا تعاقب کیا جا سکے۔ یہ وہی تصور تھا جو اکثر ہم ہالی وڈ فلموں میں دیکھتے آئے ہیں۔ اس معاملے میں چینی ٹیکنالوجی کو بہتر سمجھا گیا یا یوں کہہ لیں کہ ہمیں مرضی کی ڈیل وہیں سے مل سکتی تھی۔
ابتدائی مرحلے میں چین سے دو سکینرز درآمد کیے گئے‘ جن میں سے ایک گولڑہ اور دوسرا روات کے قریب نصب کیا گیا تاکہ شہر میں دھماکا خیز مواد لے جانے والی گاڑیوں کا داخلہ روکا جا سکے۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سکینرز کارگو سکیننگ کیلئے موزوں تھے نہ کہ شہری سکیورٹی کیلئے۔ اس لیے ان میں سے ایک سکینر کو ایک ادارہ اٹھا کر کراچی لے گیا کہ ہمیں یہاں ضرورت ہے اور یوں اسلام آباد د اس سہولت سے محروم ہو گیا۔ اس کے بعد مکمل سیف سٹی پراجیکٹ پر کام شروع ہوا جس کی لاگت تقریباً 140 ملین ڈالر ظاہر کی گئی۔ بعد ازاں اعتراضات سامنے آئے تو انکشاف ہوا کہ اصل لاگت تقریباً 75ملین ڈالر تھی مگر اسے دو گنا ظاہر کیا گیا۔ پھر اگلے مرحلے میں اس منصوبے کیلئے پیپرا قوانین سے استثنا حاصل کیا گیا تاکہ باضابطہ بڈنگ کے بغیر براہِ راست خریداری کی جا سکے۔ اس فیصلے نے شفافیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔ جب منصوبے پر عملدرآمد شروع ہوا تو ابتدا ہی سے ناقص میٹریل کے استعمال کی شکایات سامنے آنے لگیں۔ تاہم جیسے تیسے یہ منصوبہ مکمل ہوا اور کروڑوں ڈالر کے قرض سے سیف سٹی سسٹم نصب کر دیا گیا۔ توقع تھی کہ اس کے بعد جرائم میں کمی آئے گی‘ پولیس مزید فعال ہوگی اور شہر میں مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے گی۔ لیکن چند ہی دنوں بعد سوشل میڈیا پر گاڑیوں میں بیٹھے مرد و خواتین کی تصاویر وائرل ہونا شروع ہو گئیں جو مبینہ طور پر انہی کیمروں سے لیک ہو رہی تھیں۔ اس پر شدید ردِعمل سامنے آیا کہ یہ نظام شہریوں کی حفاظت کے بجائے ان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ دوسری جانب گاڑیوں کی چوری کے واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھ گئے اور شہر میں جرائم کی رفتار تیز تر ہو گئی۔ نہ سیف سٹی نظام کام آیا‘ نہ کیمرے اور نہ ہی پولیسنگ کا نظام بہتر ہوا۔
اب ذرا حالیہ واقعہ دیکھ لیجیے جو اس نظام کی ناکامی کی ایک اور واضح مثال ہے۔ F-6/3‘ جو اسلام آباد کا ایک پوش علاقہ سمجھا جاتا ہے‘ وہاں ایک 30سالہ نوجوان کو اس کے والدین کے سامنے رات بارہ بجے تین مسلح افراد نے اغوا کیا۔ فائرنگ کی گئی‘ نوجوان کو گاڑی میں ڈالا گیا اور اغوا کار پورا اسلام آباد عبور کرتے اور موٹر وے سے گزرتے ہوئے مردان پہنچ گئے جہاں اسے قتل کر دیا گیا۔ یہ تمام منظر ایک ہمسائی دیکھ رہی تھی جس نے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے فوری طور پر پولیس کی ایمرجنسی سروس 15پر اطلاع دی مگر افسوس کہ بروقت اطلاع کے باوجود نہ کوئی ناکہ بندی کی گئی‘ نہ سیف سٹی کیمروں کو مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا۔ یہ نااہلی کی انتہا ہے کہ اطلاع ملنے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ داران میں ارادہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی صلاحیت کہ وہ کسی گاڑی کو روک سکیں یا ملزمان کو گرفتار کر سکیں۔ F-6 سے موٹر وے تک کا فاصلہ بیس سے تیس منٹ کا ہے۔ اغوا کے وقت ہی کال کر دی گئی تھی مگر اس کے باوجود کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ دارالحکومت کی پولیس کی کارکردگی ہے جس پر کسی بھی مہذب معاشرے میں متعلقہ افسران کو برطرف کر دیا جاتا اور وزیر مستعفی ہو جاتے۔
میری اطلاعات کے مطابق اس کیس میں سوات سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس کانسٹیبل کو گرفتار کیا گیا ہے جو ایک حاضر سروس ڈی ایس پی کا بیٹا ہے۔ اس نے صوابی سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کے کہنے پر یہ اغوا اور قتل کا منصوبہ بنایا۔ مزید بتایا جا رہا ہے کہ اس لڑکی نے اس کانسٹیبل کو ہائر کیا اور دو کرائے کے قاتل سوات سے بلائے گئے۔ انہیں اسلام آباد کے F-11میں اپنے فلیٹ میں ٹھہرایا گیا جہاں سے مقتول کے گھر کی نشاندہی کی گئی۔ اغوا کے بعد یہ لڑکی بھی سوات روانہ ہوگئی اور راستے میں نوجوان کو قتل کر کے اس کی لاش موٹر وے کے قریب پھینک دی گئی۔ ذرائع کے مطابق اس پورے واقعے کے پیچھے اس لڑکی اور اس کے تین دوستوں کا ہاتھ ہے۔ میرے پاس اس حوالے سے مزید تفصیلات بھی ہیں مگر ان کا انکشاف اس خاندان کیلئے مزید اذیت کا باعث بن سکتا ہے‘ اس لیے بہتر ہے کہ باقی حقائق قانونی اور عدالتی فورمز پر سامنے آئیں۔اس وقت مردان سے تعلق رکھنے والی 19سالہ لڑکی اور ڈی ایس پی کا بیٹا گرفتار ہو چکے ہیں۔
اب دوبارہ سیف سٹی اور پولیس کی کارکردگی پر آتے ہیں۔ اگر آپ کا مقصد واردات کے بعد کیمروں کی مدد سے نگرانی کرنا ہے تو پھر یہ نظام کسی حد تک کارآمد ہو سکتا ہے۔ مگر جب بروقت اطلاع کے باوجود ایک اغوا ہونے والے شخص کو شہر سے باہر لے جایا جائے اور آپ کچھ نہ کر سکیں تو پھر یہ نظام اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔اگر رات بارہ بجے اطلاع مل جائے کہF-6 میں فائرنگ ہوئی ہے اور ایک نوجوان کو اغوا کر کے لے جایا جا رہا ہے تو کیا آپ کا کام صرف اگلے دن لاش برآمد کرنا ہے یا فوری کارروائی کرتے ہوئے شہر کے تمام خارجی راستوں کو سیل کر کے ملزمان کا تعاقب کرنا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت سیف سٹی کیمرے صرف قتل کے بعد تفتیش میں مدد دے سکتے ہیں‘ وہ کسی مغوی کو شہر سے نکلنے سے پہلے ٹریس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔نہ پولیس کے پاس فوری رسپانس فورس موجود ہے اور نہ ہی وہ تکنیکی صلاحیت کہ اطلاع ملتے ہی مشکوک گاڑی کا پیچھا کر سکیں۔ ان خامیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ اگلے دن وہ خاندان کو ان کے بیٹے کی لاش تو لا کر سکتے ہیں مگر اسے زندہ بازیاب نہیں کرا سکتے۔ابھی اسی پر اکتفا کریں۔
