جنگ کے سائے میں سفارتکاری: اسلام آباد، واشنگٹن اور تہران میں خفیہ مذاکرات

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پسِ پردہ رابطوں نے صورتحال کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی تیزی سے جاری ہے، جس کا بنیادی مقصد ممکنہ جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات تین اہم دارالحکومتوں اسلام آباد، واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری ہیں، جہاں سفارتی سطح پر انتہائی حساس نکات پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان بات چیت میں نہ صرف جنگ بندی کے بنیادی خدوخال زیر بحث ہیں بلکہ شرائط، ممکنہ ریڈ لائنز اور اعتماد سازی کے اقدامات بھی تفصیل سے زیر غور ہیں۔ ذرائع کے بقول امریکی مؤقف اس مذاکراتی عمل میں واضح طور پر سامنے آیا ہے جہاں امریکا اس بات پر زور دے رہا ہے کہ کسی بھی معاہدے سے قبل ایرانی جوہری پروگرام کو ایجنڈے میں سرفہرست رکھا جائے۔ اس کے برعکس ایران نے اپنے لیے بنیادی شرط یہ رکھی ہے کہ اس کے سمندری راستوں پر عائد پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کی جائے، جسے وہ اپنی معیشت اور خودمختاری کے لیے ناگزیر قرار دیتا ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس پورے عمل میں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے، جو دونوں فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسلام آباد کی یہ کوشش خطے میں استحکام کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صورتحال کسی بھی لمحے بگڑ سکتی ہے۔ تاہم، اس تمام پیش رفت کے باوجود خطرات بدستور موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکا ایک محدود نوعیت کی ممکنہ فوجی کارروائی پر بھی غور کر رہے ہیں، جس کا مقصد ایران کو دباؤ میں لا کر اپنی شرائط پر مذاکرات کی میز پر لانا ہو سکتا ہے۔ یہ پہلو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفارتکاری اور عسکری آپشنز بیک وقت زیر غور ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جنگ بندی کی امید پیدا کر رہی ہیں، وہیں کسی بھی غیر متوقع واقعے سے کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ آنے والے دن اس خطے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں کہ آیا یہ بیک ڈور ڈپلومیسی ایک مستقل امن کی بنیاد رکھتی ہے یا محض ایک عارضی وقفہ ثابت ہوتی ہے۔
