ٹرمپ کا بڑا یوٹرن: ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر معطل

پاکستان سمیت مختلف ممالک کی درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر معطل کر دیا۔ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جاری ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روکنے کے اعلان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے، جسے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کی جانب پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان سمیت کئی ممالک کی درخواست اور ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں میں کامیابی کے بعد ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک جامع اور حتمی معاہدے کی طرف نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے، جس کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا۔ٹرمپ کے مطابق اگرچہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی برقرار رہے گی، تاہم جہازوں کی محفوظ آمد و رفت سے متعلق ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو وقتی طور پر معطل کیا جا رہا ہے تاکہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کا موقع مل سکے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہو سکتا ہے، جس کے عالمی منڈیوں خصوصاً تیل کی ترسیل پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔سفارتی حلقے اس پیش رفت کو ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ تعطل کے خاتمے کی علامت قرار دے رہے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور آنے والے دنوں کو فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے آبنائے ہرمز میں “پروجیکٹ فریڈم” کو عارضی طور پر روکنے کے اعلان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ قیادت اور بروقت فیصلے کو سراہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور دیگر برادر ممالک، خصوصاً محمد بن سلمان کی درخواست پر دیا گیا یہ مثبت اور فراخدلانہ ردعمل خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان تحمل، مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پُرامن حل کی ہر کوشش کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالیہ پیش رفت ایک ایسے پائیدار معاہدے کی بنیاد بنے گی جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنائے گا۔
