آبنائے ہرمز پر کنٹرول قبول نہیں: ایران مذاکرات کی طرف آئے:امریکہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی گزرگاہ ہے جس پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری تسلیم نہیں کی جا سکتی، اور ایران کو فوری طور پر مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے شروع کیا گیا آپریشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں۔ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔مارکو روبیو کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے دوران امریکی افواج نے ایران کی سات تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں دس سویلین ملاح بھی ہلاک ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فورسز کے لیے خطرہ بننے والے ڈرونز اور کشتیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مارکو روبیو نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ آبنائے ہرمز میں ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ میں ملوث ہے، جبکہ امریکا تجارتی جہازوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے خطے میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ ایران کو زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات کی طرف آنا ہوگا۔مزید برآں انہوں نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات چیت کے لیے جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف سرگرم ہیں، جبکہ امریکی اقدامات کے باعث ایران کو روزانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کا معاشی نقصان ہو رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے خلاف ’آپریشن ایپک فیوری‘ مکمل کر لیا گیا ہے اور اس کے تمام اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایرانی عوام کو اپنے مستقبل کے حوالے سے بااختیار بنایا جائے۔

Back to top button