سارا قصور مسلم دنیا کا ہے!

تحریر: یاسر پیر زادہ

بشکریہ : روزنامہ جنگ

فرض کریں کہ آج یہ دنیا تاریخ کے اُس دور میں واپس چلی جائے جب غلامی کو قانونی حیثیت حاصل تھی اور یہ بھی فرض کر لیں کہ اُس وقت کے لوگوں کے دماغ میں مزاحمت، جدوجہد اور بغاوت کا تصور پیدا نہیں ہو سکتا تھا، تو ایسی صورت میں کیا ہوتا؟ کیا انسان کبھی غلامی سے نجات پا سکتا؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ کیونکہ جب کسی نے طاقتور کے سامنے مزاحمت ہی نہیں کرنی تھی تو غلامی کیسے ختم ہوتی؟ غلامی سے نجات تو اُسی صورت میں ممکن ہوتی اگر کوئی سرپھرا اپنے جیسے باغیوں کو ساتھ ملا کر نتیجے کی پروا کیے بغیر اپنے مالکوں سے بھِڑ جاتا۔ تاریخ میں ایسا ہی ہوا ہوگا، ورنہ اگر غلام میرے جیسے کسی دانشور کے ہتھے چڑھ جاتے تو وہ انہیں یہی مشورہ دیتا کہ پہلے پڑھنا لکھنا سیکھو پھر اپنے مالک سے ادب و احترام سے بات کرنا، وہ یقیناً تمہاری بات سن کر تمہیں آزاد کر دے گا۔ آج کل مسلم امّہ کے دانشوروں کا یہی استدلال ہے۔ اِن کا کہنا ہے کہ مسلمان کمزور ہیں، انکے پاس نہ ڈھنگ کے ہتھیار ہیں اور نہ ٹیکنالوجی، انہیں نہ سائنسی ترقی کی کوئی پروا ہے اور نہ انہیں جدید علوم کی الف ب کا پتا ہے، ایسے میں یہ مغربی طاقتوں سے ’مَتھا‘ لگاتے ہیں جو سراسر حماقت ہے، جواب میں انہیں مار ہی پڑنی ہے اور وہ پڑتی رہے گی۔ دانش کاتقاضا یہی ہے کہ مسلمان پہلے سائنس پڑھیں، ٹیکنالوجی حاصل کریں، اور پھر دھیرے دھیرے اپنی قوت میں اضافہ کرکے نہایت حکمت کے ساتھ دنیا میں اپنا مقام بنائیں اور اُس کے بعد اپنا حق مانگنے یا چھیننےکی کوشش کریں اور جب تک یہ نہیں ہوتا اُس وقت تک طاقتور کے سامنے چوں نہ کریں، وہ ایک جوتا مارے تو اپنا سر دوبارہ آگے کردیں مبادا وہ برا مان کر سر ہی قلم کر دے۔

پسپائی کی تلقین کرنے والے ہمارے یہ دانشور دراصل ’افادیت پسندی‘ (Utilitarianism) کے فلسفے کے اسیر ہیں، جن کے ہاتھ میں فقط مادی نفع و نقصان کا پیمانہ ہے، وہ مظلوم کے خون کے ہر قطرے کو کیلکولیٹر پر تولتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ”اِس جان کے ضیاع سے ہمیں کیا مادی یا جغرافیائی فائدہ حاصل ہوا؟“ مزاحمت کے موضوع پر جو کتاب بائبل کا درجہ رکھتی ہے وہ فرانز فینن کی "The Wretched of the Earth” (افتادگانِ خاک) ہے۔ فینن اس میں بتاتا ہے کہ ظالم کے خلاف مزاحمت صرف زمین کا ٹکڑا چھڑانے کی جنگ نہیں ہوتی، بلکہ یہ مظلوم کی نفسیاتی آزادی کا واحد ذریعہ ہوتی ہے۔جب ایک نہتا فلسطینی، کشمیری یا کوئی بھی مظلوم نوجوان جدید ترین بکتر بند گاڑی کے سامنے ایک چھوٹا سا پتھر لے کر کھڑا ہوتا ہے، تو وہ اس پتھر سے ٹینک کو تباہ کرنے کی بے وقوفانہ امید نہیں پال رہا ہوتا بلکہ وہ غاصب کے مسلط کردہ خوف کے بُت کوتوڑ رہا ہوتا ہے۔ غاصب اور استعماری طاقتیں کبھی مظلوم قوموں کو یہ مہلت نہیں دیتیں کہ وہ آرام سے بیٹھیں، لیبارٹریاں بنائیں، یونیورسٹیاں قائم کریں، معیشت مضبوط کریں اور پرامن طریقے سے طاقتور ہو جائیں۔ ظالم کا بنیادی ہدف ہی مظلوم کی شناخت، اس کے وسائل، اس کی تعلیم اور آنے والی نسلوں کو تباہ کرنا ہوتا ہے۔ جنہیں یہ بات مبالغہ آرائی لگ رہی ہووہ اسرائیلی فوج کی بچوں کے اسکولوں پر بمباری دیکھ لیں اور اسرائیلیوں کو اِس جارحیت کا دفاع کرتے ہوئے سُن لیں، طبیعت روشن ہو جائیگی۔ جب آپ کی زمین غصب کی جا رہی ہو، آپ کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہوں اور آپ کی بستیوں پر فاسفورس بم گرائے جا رہے ہوں، تو وہاں یہ دانشورانہ مشورہ دینا کہ ”ہتھیار پھینک دو اور پہلے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کرو“ ایک انتہائی سفاکانہ عمل ہے۔ جب گھر میں ڈاکو گھس آئیں اور جمع پونجی لوٹنے کے ساتھ عورتوں کو ریپ بھی کرنا شروع کردیں تو اُس وقت گھر والوں کو یہ مشورہ نہیں دیا جاتا کہ وہ لڑنے کے بجائے لائبریری میں کتابیں پڑھیں تاکہ مستقبل میں اچھے پولیس افسر بن سکیں۔ اگر مظلوم کمزوری کے عذر تلے ہتھیار ڈال دے تو غاصب اسے معاف نہیں کرتا، بلکہ اُلٹا اسے مکمل طور پر ہڑپ کر جاتا ہے۔

غاصب قوتیں یہ بات بخوبی جانتی ہیں کہ وہ کسی قوم کو اس وقت تک مکمل طور پر شکست نہیں دے سکتیں جب تک اس قوم کے ذہن، اس کی قوتِ ارادی اور اس کی امید کو شکست نہ دے دیں۔ جدید ہتھیاروں سے شہر تو ملبے کا ڈھیر بنائے جا سکتے ہیں لیکن ذہنوں کو غلام بنانے کیلئے یہ زہریلا بیانیہ پھیلانا ضروری ہوتا ہے کہ ”تمہاری مزاحمت بے سود ہے، شکست تمہارا مقدر ہے۔“ امریکہ نے ایران کو فوجی اعتبار سے بے حد نقصان پہنچایا ہوگا مگر اِسکے باوجود امریکہ اپنا سیاسی ہدف حاصل نہیں کر پایا، کیونکہ ایران نے مزاحمت کی مثال قائم کرکے ہم جیسے مسلمانوں کو بھی حیران کر دیا۔ ہمارے کچھ لکھاری نادانستہ طور پر غاصبوں کے اسی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں، وہ مظلوم کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں جسے انگریزی میں Victim Blaming کہتے ہیں۔علمِ نفسیات میں اس رویے کو ’سنڈروم آف دی ڈیفیٹڈ‘ (Syndrome of the Defeated) یا مغلوبین کی نفسیات کہا جا سکتا ہے۔ جب کوئی فرد یا گروہ مسلسل ظلم دیکھتا ہے اور اس کے اندر اسے روکنے کی ہمت نہیں ہوتی تو وہ ظالم کی طاقت سے اس قدر مرعوب ہو جاتا ہے کہ وہ مظلوم سے ہمدردی کے بجائے ظالم کے نقطہ نظر سے چیزوں کو دیکھنے لگتا ہے۔ اگر دنیا بھر کے کمزور اور مظلوم یہ سوچ کر ہتھیار ڈال دیتے کہ وہ طاقتور کے مقابلے میں کمتر ہیں تو آج بھی دنیا میں سیاہ فام غلاموں کی تجارت اور غلامی رائج ہوتی۔

یہاں دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے، ایک، کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ مسلمانوں کو سائنس، ٹیکنالوجی اور فلسفے کی تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہیے اور سر پر صافہ باندھ کر اور تلوار سونت کر ہمہ وقت ظلم کے خلاف جہاد ہی کرنا چاہیے۔ نہیں۔ مسلم دنیا کو وہی حکمت عملی اپنانی چاہیے جو صلح حدیبیہ کے موقع پر اپنائی گئی تھی اور وہی کرنا چاہیے جس کا مشورہ سرسید احمد خان نے دیا تھا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر کوئی غاصب طاقت کے نشے میں دھت ہو کر فلسطینی بچوںپر ٹینک چڑھا دے تو ہم الٹا اُن بچوں کو ہی موردالزام ٹھہرانا شروع کر دیں کہ تم نے ٹینک پر پتھراؤ کیوں کیا، تمہیں نہیں پتا تھا کہ انکل نیتن یاہو برا مان جاتے ہیں! دوسرا، کچھ لوگ قانونی مسلح جدوجہد کو طالبان کی دہشت گردی سے جوڑ کر خلط مبحث پیدا کر رہے ہیں، جبکہ اِن دونوں کا آپس میں دور دور تک کوئی تعلق نہیں، یہ موازنہ وہ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی غرض سے کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی کو امید نہیں تھی کہ ایران دو چار دن سے زیادہ امریکہ کے سامنے ٹِک سکے گا، ہم تو اِس امید میں تھے کہ ہمیشہ کی طرح مسلم دنیا کے لتّے لیں گے اور کہیں گے کہ ’دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ طاقتور سے پنگا نہ لو، اب آرام ہے!‘ پس ثابت ہوا کہ سارا قصور مسلم دنیا کا ہے، نیتن یاہو سے لے کر مودی تک، سب دودھ کے دھلے ہوئے ہیں!

 

Back to top button