مہنگے پیٹرول کے دور میں ڈسکاؤنٹ ریٹ پر فیول کہاں سے ملتا ہے؟

مہنگے پیٹرول کے دور میں ڈسکاؤنٹ ریٹ پر فیول کہاں سے ملتا ہے؟
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدہ صورتحال کے بعد عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ملک میں عام پیٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے بھی تجاوز کر گئی تھی، جبکہ ہائی اوکٹین پیٹرول بعض مقامات پر 500 سے 600 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا، جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا۔پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ملک بھر میں عوام پر شدید مالی دباؤ ڈال رکھا ہے، تاہم اس دوران کچھ کمپنیوں کی جانب سے محدود ریلیف کے طور پر رعایتی قیمتوں کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔
اس وقت ملک میں عام پیٹرول کی قیمت تقریباً 401 روپے فی لیٹر برقرار ہے، جو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ہے، اس لیے تمام کمپنیوں کے لیے اسی قیمت پر فروخت لازمی ہے اور اس سے زیادہ قیمت وصول نہیں کی جا سکتی۔اس صورتحال میں اٹک پیٹرولیم کمپنی نے اپنے کمپنی کے زیر انتظام چلنے والے پیٹرول پمپس پر خصوصی رعایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ایسے مخصوص پمپس پر فی لیٹر 5 روپے تک کی کمی دی جا رہی ہے۔یہ رعایت صرف ان پمپس پر دستیاب ہے جو براہ راست کمپنی کے زیر انتظام ہیں، جبکہ عام ڈیلر کے زیر انتظام پیٹرول پمپس پر یہ سہولت لاگو نہیں ہوتی۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو جزوی ریلیف فراہم کرنا اور مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دینا ہے۔ملک بھر میں اٹک پیٹرولیم کے تقریباً 45 کمپنی کے زیر انتظام پیٹرول پمپس موجود ہیں، جو بڑے شہروں اور موٹرویز پر واقع ہیں۔ ان پمپس کی پہچان یہ ہے کہ وہاں واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ یہ کمپنی کے زیر انتظام ہیں۔
دوسری جانب ہائی اوکٹین پیٹرول حکومتی کنٹرول سے آزاد ہے، اس لیے مختلف تیل کمپنیوں کی جانب سے اس کی قیمتیں اپنی پالیسی کے مطابق مقرر کی جاتی ہیں، جس کے باعث ہر کمپنی کے نرخ مختلف ہوتے ہیں۔اس وقت مختلف کمپنیوں کے ہائی اوکٹین پیٹرول کی قیمتیں بھی مختلف ہیں، جن میں شیل کمپنی کا پیٹرول نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہے، جبکہ دیگر کمپنیوں جیسے پی ایس او، اٹک پیٹرولیم اور آرامکو کی قیمتیں اس سے زیادہ ہیں۔ماضی میں حکومت کی جانب سے ہائی اوکٹین پر لیوی عائد کیے جانے کے بعد اس کی قیمت میں اضافہ ہو کر 600 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا، جس کے بعد اس کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ بعد ازاں آرامکو کمپنی نے قیمت میں کمی کی، جس کے بعد دیگر کمپنیوں نے بھی قیمتوں میں کمی کا رجحان اپنایا۔اس وقت مختلف کمپنیوں کی جانب سے ہائی اوکٹین پیٹرول کی قیمتیں مختلف ہیں، شیل کمپنی کے پیٹرول پمپس پر دستیاب (V-Power) کی قیمت دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں سب سے کم 410 روپے فی لیٹر ہے، پی ایس او کے ہائی آکٹین کی قیمت 420 روپے، اٹک پیٹرولیم کے ہائی اوکٹین کی قیمت 465 روپے ہے، آرامکو کے پرو فورس کی قیمت 467 روپے فی لیٹر ہے۔
