پاور شیئرنگ تنازع: پنجاب میں پیپلزپارٹی اور نون لیگ پھر آمنے سامنے

پنجاب کی سیاست ایک بار پھر اہم موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان قائم رابطہ کمیٹی کی تحلیل نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق دونوں جماعتوں کے مابین رابطہ کمیٹی بظاہر اتحاد کو مستحکم بنانے کے لیے تشکیل دی گئی تھی، مگر باہمی اختلافات، وعدوں کی عدم تکمیل اور اختیارات کی کشمکش نے اسے غیر مؤثر بنا دیا۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ معاملات کمیٹیوں سے نکل کر براہِ راست اعلیٰ قیادت تک جا پہنچے ہیں، جو اس اتحاد کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد پنجاب میں حکومت سازی کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ایک اشتراکی نظام قائم کیا گیا تھا، جس کے تحت ایک کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد پاور شیئرنگ، ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم، قانون سازی میں شمولیت اور اہم انتظامی فیصلوں میں مشاورت کو یقینی بنانا تھا۔ابتدائی طور پر یہ کمیٹی دونوں جماعتوں کے درمیان ایک مؤثر پل ثابت ہوئی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اختلافات نمایاں ہونا شروع ہوگئے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بارہا شکایت کی کہ انہیں اہم فیصلوں سے دور رکھا جا رہا ہے اور ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔

جنوری 2025 میں اسلام آباد میں ہونے والے پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ایک اہم فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت نہ صرف اس کوآرڈینیشن کمیٹی بلکہ دیگر مذاکراتی کمیٹیوں کو بھی ختم کر دیا گیا۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ ن لیگ کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی عدم تکمیل اور پاور شیئرنگ کے معاملات میں مبینہ یکطرفہ رویہ قرار دیا گیا۔پیپلز پارٹی کے مطابق، ترقیاتی فنڈز کی فراہمی میں تاخیر اور بعض اوقات فنڈز کی بندش سے ان کے ارکان اسمبلی کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ مزید برآں، بیوروکریسی میں تقرریوں اور تبادلوں کے معاملات میں بھی انہیں مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔

مارچ اور اپریل 2025 میں گورنر ہاؤس لاہور میں ہونے والے اجلاسوں میں مسائل کے حل کی کوشش کی گئی، مگر یہ کوششیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔ اگرچہ نومبر 2025 میں کچھ مطالبات تسلیم کیے گئے، تاہم ان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کے باعث اعتماد کی فضا مزید متاثر ہوئی۔ جس کے بعد صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ پیپلز پارٹی نے مذاکرات کی تمام ذمہ داری اپنی اعلیٰ قیادت، خصوصاً آصف علی زرداری، کو سونپ دی۔ اب دونوں جماعتوں کے درمیان رابطے براہِ راست قیادت کی سطح پر جاری ہیں، جبکہ کمیٹی عملی طور پر غیر فعال ہو چکی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ کمیٹی اگرچہ ایک مثبت اقدام تھی، مگر مسلسل تناؤ، عدم اعتماد اور سیاسی مفادات کے ٹکراؤ نے اسے ناکام بنا دیا۔ موجودہ حالات میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ اتحاد مستقبل میں کس سمت جائے گا، تاہم یہ واضح ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے بڑھ چکے ہیں۔

Back to top button