ترمیم کی حمایت کیلئے سیاسی جماعتوں نے مطالبات کے ڈھیر لگا دیے

ستائیسویں آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سیاسی رابطے تیز کر دیے ہیں، مگر اسکی اتحادی جماعتوں نے حمایت کے بدلے اپنے اپنے سیاسی، انتظامی اور آئینی مطالبات حکومت کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے مجوزہ ترمیمی پیکج کی حمایت کے بدلے اٹھارویں ترمیم میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ صوبائی خود مختاری برقرار رکھی جا سکے۔
ایم کیو ایم پاکستان نے شہری سندھ کے لیے بلدیاتی اختیارات اور فنڈز کی براہِ راست منتقلی کو آئینی تحفظ دینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی نے بلوچستان کی قومی اسمبلی نشستوں میں اضافے اور وفاقی کابینہ میں نئے قلم دان مانگے ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ (ق) نے پنجاب میں اپنے وزراء کے اختیارات بحال کرنے اور بیوروکریسی میں مشاورت کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب چھوٹے اتحادی اور آزاد ارکان نے اپنی حمایت کو ترقیاتی فنڈز، وزارتوں اور آئندہ انتخابی تعاون سے مشروط کر دیا ہے، جس کے بعد ستائیسویں آئینی ترمیم محض ایک قانونی ترمیم نہیں بلکہ سیاسی سودے بازی اور طاقت کی نئی تقسیم کا منظرنامہ بن چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیم میں عدلیہ کی ساخت میں تبدیلی، ایک علیحدہ آئینی عدالت کے قیام اور وفاق و صوبوں کے اختیارات کی نئی درجہ بندی جیسے نکات شامل ہیں۔ یہی نکات حکومت کے اندر بھی اختلافات اور بے چینی کا باعث بنے ہوئے ہیں چونکہ آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے، جس کے لیے حکومت کو اپنے تمام اتحادیوں کو راضی کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان اس وقت حکومت کی حمایت کے لیے سب سے سرگرم مگر محتاط اتحادی ہے۔ پارٹی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ وہ ترمیم کی حمایت اسی صورت میں کریں گے جب شہری سندھ کے انتظامی اور مالی حقوق کو آئینی تحفظ دیا جائے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے نتائج کے مطابق فنڈز کی تقسیم کو آئینی ضمانت دی جائے، بلدیاتی اداروں کے اختیارات کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے، ضلعی حکومتوں کو براہِ راست فنڈز کی منتقلی یقینی بنائی جائے اور بلدیاتی انتخابات کے لیے مقررہ آئینی مدت کی پابندی لازم قرار دی جائے۔ ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے مطابق یہ مطالبات جمہوریت کو عوام کے قریب لانے کی کوشش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 26ویں ترمیم کی حمایت کے وقت بھی یہی کہا تھا کہ جمہوریت کو محض ایوانوں تک محدود نہ رکھا جائے۔
بلوچستان عوامی پارٹی نے اپنی حمایت کو وفاقی وعدوں کی تکمیل سے مشروط کر دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وفاق نے ماضی میں یقین دہانی کرائی تھی کہ اگلی آئینی ترمیم میں بلوچستان کی قومی اسمبلی نشستوں میں اضافہ کیا جائے گا، مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ بی اے پی کے رہنماؤں کے مطابق صوبے کی نمائندگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ وہ وفاقی کابینہ میں اقتصادی امور اور بین الصوبائی رابطے کی وزارتوں کے قیام کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ بلوچستان کی ترقیاتی منصوبوں پر براہِ راست نگرانی ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ترقیاتی فنڈز بیوروکریسی کے ذریعے جاری ہوتے رہیں گے، بلوچستان حقیقی معنوں میں فیصلہ سازی کا حصہ نہیں بن سکے گا۔
پنجاب میں مسلم لیگ (ق) نے حکومت سے شکایت کی ہے کہ اس کے وزراء کے اختیارات محدود کیے جا رہے ہیں۔ چودھری سالک حسین کی قیادت میں وفد نے وزیراعظم سے ملاقات میں مطالبہ کیا کہ گجرات اور گردونواح کے اضلاع میں بیوروکریسی کی تعیناتیوں اور انتظامی فیصلوں میں پارٹی وزراء کو اعتماد میں لیا جائے۔ ذرائع کے مطابق ق لیگ نے ترمیم کی حمایت کو اختیارات کی بحالی سے مشروط کر دیا ہے تاکہ وہ پنجاب میں اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھ سکے۔
پیپلز پارٹی نے اس آئینی بحث میں ایک واضح مگر محتاط پوزیشن اختیار کی ہے۔ پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو باور کرایا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پارٹی نے حکومت سے تحریری یقین دہانی مانگی ہے کہ ستائیسویں ترمیم کے نتیجے میں صوبائی اختیارات محدود نہیں کیے جائیں گے۔ اگر صوبائی معاملات پر اتفاق نہ ہو سکا تو پیپلز پارٹی نے یہ شرط رکھی ہے کہ متعلقہ شقوں کو بل سے الگ کر دیا جائے تاکہ دیگر نکات پر پیش رفت ممکن ہو سکے۔
حکومت کے چھوٹے اتحادیوں اور آزاد ارکانِ پارلیمنٹ نے اپنی حمایت کو ترقیاتی منصوبوں، مخصوص وزارتوں اور آئندہ الیکشن میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے مشروط کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض ارکان نے کابینہ میں اختیارات میں اضافہ اور اہم تعیناتیوں میں مشاورت کی غیرعلانیہ یقین دہانیاں بھی مانگی ہیں۔
ادھر تحریک انصاف اور دیگر حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے مجوزہ ستائیسویں ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق حکومت عدلیہ کی ساخت میں تبدیلی کے ذریعے پارلیمنٹ کو بالادست بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جو ریاستی اداروں کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ حزبِ اختلاف کا موقف ہے کہ آئینی ترمیم کے نام پر اداروں کی حدود میں مداخلت ملک میں مزید سیاسی عدم استحکام پیدا کرے گی۔
کیا ترمیم کا مقصد چیف آف ڈیفنس سٹاف کا عہدہ تخلیق کرنا ہے؟
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آئینی تاریخ میں ہر بڑی ترمیم کے پیچھے سیاسی سمجھوتوں اور طاقت کی تقسیم کی کہانی چھپی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ستائیسویں ترمیم بھی محض قانونی اصلاح نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی آزمائش ہے جس میں حکومت اپنے اتحادیوں کو راضی رکھنے اور اداروں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی دوہری کوشش کر رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ قیادت حکومت کے لیے یہ ترمیم ایک نیا امتحان بن چکی ہے۔ اتحادی جماعتیں اپنے مطالبات منوانے میں مصروف ہیں اور ہر ووٹ ایک سیاسی مفاہمت کی قیمت بن چکا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت کس حد تک اتحادیوں کو مطمئن کرتی ہے اور کیا یہ ترمیم واقعی قومی اتفاقِ رائے کی علامت بنے گی یا ایک اور سیاسی سودے بازی کی مثال بنے گی۔
