کیا ترمیم کا مقصد چیف آف ڈیفنس سٹاف کا عہدہ تخلیق  کرنا ہے؟

 

 

 

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کی جا رہی ہے، اس شق کو ماضی میں  مختلف فوجی آمروں اور منتخب حکومتوں نے باری باری سویلین اور فوجی طاقت کا توازن اپنے حق میں کرنے کیلئے استعمال کیا ہے۔ اس مرتبہ آئین کے آرٹیکل 243 میں ایک منتخب حکومت ترمیم کرنے جا رہی ہے تا کہ ہائبرڈ نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ لیکن جمہوری حلقے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس مرتبہ ہونے والی ترمیم سے طاقت کا توازن فوج کے پلڑے میں چلا جائے گا۔

 

اس آرٹیکل کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہر ترمیم تب کی حکومتوں اور عسکری قیادت کے درمیان جاری طاقت کی کشمکش کا نتیجہ تھی، بنیادی جھگڑا یہ رہا کہ مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری میں وزیر اعظم کا عمل دخل زیادہ ہوگا یا وردی والوں کا؟ آرٹیکل 243 بنیادی طور پر وزیراعظم کے بطور سربراہِ حکومت اور صدرِ مملکت کے بطور سربراہِ ریاست مسلح افواج کے کنٹرول اور کمان کے حوالے سے تعلق کو واضح کرتا ہے۔

 

“اگرچہ وفاقی حکومت کو فوج کو حکم دینے کا اختیار ہے، لیکن مسلح افواج کی سپریم کمانڈ صدرِ مملکت میں مضمر ہے”۔ یہ جملہ فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے 1985 میں ترمیم کے ذریعے آئین میں شامل کیا تھا، آئین میں یہ ترمیم 1985 میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات سے قبل کی گئی تھی۔ ضیا نے یہ ترمیم اپنی ذات کے لیے کی تھی۔ بعد ازاں جنرل ضیاء الحق نے 8ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اپنے صدارتی اختیارات میں مزید اضافہ کیا اور خود کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ سروس چیفس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو “اپنی صوابدید” پر مقرر کرے۔

 

یہ ترمیم ایک فوجی حکمران کی اس خواہش کی عکاس تھی کہ مسلح افواج پر مکمل اختیار صدر کے دفتر میں مرکوز ہو جائے، جس پر وہ خود براجمان تھے۔ نتیجتاً ضیا نے بطور صدر نہ صرف آرمی چیف بلکہ دیگر سروس چیفس اور چیئرمین جوائنٹ اسٹاف کمیٹی کے تقرر کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ یہ ڈھانچہ بعد کی آئینی ترامیم کے باوجود بڑی حد تک برقرار رہا۔ یہاں تک کہ صدر آصف زرداری اپنے پہلے دور صدارت میں 18ویں آئینی ترمیم  لیکر آئے جس کا مقصد 1973 کے آئین کے پارلیمانی کردار کو بحال کرنا تھا۔ صدر زرداری نے جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی جانب سے پارلیمنٹ کے چھینے گئے اختیارات واپس کر دیے، لیکن صدر کو مسلح افواج کا“سپریم کمانڈر” پھر بھی برقرار رکھا گیا۔

 

یاد رہے کہ ابتدائی آئینی خاکے کے تحت صدر کا کردار محض رسمی نوعیت کا تھا جیسے مسلح افواج کی تنظیم، برقرار رکھنا، اور کمیشنز جاری کرنا جبکہ تمام تقرریاں وزیراعظم کی سفارش پر آرٹیکل 48 کے مطابق عمل میں آتی تھیں۔

سویلین قیادت نے بعد میں طاقت کے اس توازن کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ 1997 میں وزیراعظم نواز شریف نے 13ویں آئینی ترمیم کے ذریعے “اپنی صوابدید پر” والا فقرہ حذف کر کے فوجی تقرریوں پر وزیراعظم کا اختیار بحال کیا۔

تاہم یہ تبدیلی زیادہ دیر نہ چل سکی۔ جنرل پرویز مشرف نے 1999 میں نواز حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے بعد 17ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدارتی بالادستی بحال کر دی اور آرمی چیف کی تقرری میں وزیراعظم کا کردار صرف مشورے کی حد تک محدود کر دیا، جسے ماننا صدر کے لیے لازمی نہیں تھا۔ یاد رہے کہ تب تک جنرل ضیاء الحق کی طرح جنرل پرویز مشرف بھی خود کو صدر بنا چکے تھے۔

 

بعد ازاں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مشرف دور کی آئینی ترامیم ختم کر دی گئیں، اور یہ واضح کر دیا گیا کہ تمام اعلیٰ عسکری تقرریاں وزیراعظم کی سفارش پر ہوں گی، یوں سول بالادستی کا اصول دوبارہ قائم کیا گیا۔ یعنی آرٹیکل 243 میں ہر ترمیم طاقت کے توازن میں تبدیلی کا مظہر تھی۔ یوں آئین کا آرٹیکل 243 ایک پنڈولم بن گیا جو کبھی سویلین حکومت اور کبھی فوجی قیادت کے حق میں جھولتا رہا۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترامیم ماضی کی نسبت کہیں زیادہ گہری اور طویل المدتی اثرات کی حامل ہو سکتی ہیں۔

 

تاہم فی الحال کسی کو معلوم نہیں کہ اصل میں کیا تبدیلیاں تجویز کی جا رہی ہیں اور کیوں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے سیاسی و عوامی حلقوں میں قیاس آرائیوں کا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ یہ بحث تب دوبارہ زندہ ہوئی جب 26ویں ترمیم کے تحت آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کو سال 2024 میں پارلیمنٹ کے ذریعے 5 سال کر دیا گیا، جس میں مزید 5 سال کی توسیع کی گنجائش بھی موجود ہے۔ لیکن اس ترمیم نے مزید ابہام پیدا کر دیا ہے۔موجودہ آرمی چیف عاصم منیر کو انڈیا کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد فیلڈ مارشل کا اعزازی عہدہ بھی دے دیا گیا، جو کہ آرٹیکل 243 میں کہیں موجود نہیں۔

 

چنانچہ ماہرینِ قانون اس ایشو پر منقسم ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ چونکہ قانون میں ترمیم ہو چکی ہے، لہٰذا جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت خود بخود پانچ سال ہو گئی ہے۔ جبکہ دوسروں کے مطابق چونکہ تقرری پرانا قانون دیکھ کر کی گئی تھی، اس لیے نئی مدت کے لیے ان کا دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کرنا لازمی ہوگا۔ کچھ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کا مقصد شاید اسی ابہام کو ختم کرنا اور موجودہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کو واضح قانونی جواز فراہم کرنا ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اس ترمیم کا مقصد سول و ملٹری طاقت کے توازن یا عدم توازن کو آئینی تحفظ دینا ہو سکتا ہے، تاکہ مستقبل میں کسی حکومت کو اس پر نظرثانی کا موقع نہ ملے۔

 

بعض مبصرین کے مطابق یہ تبدیلی چیف آف ڈیفنس سٹاف جیسے کسی نئے فوجی عہدے کی تشکیل کیلئے بھی ہو سکتی ہے، جو تینوں افواج کے درمیان ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ تاہم ماہرینِ قانون کے مطابق اس طرح کا عہدہ کسی عام قانون کے ذریعے بھی بنایا جا سکتا ہے، اور اسکے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اگر ایسا کوئی نیا عہدہ تخلیق کیا جا رہا ہے تو پہلے اس کے اختیارات اور دائرہ کار کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ سروس چیفس کے عہدے آئینی نہیں بلکہ قانونی نوعیت کے ہیں۔

 

سیاسی مبصرین کے مطابق ہماری تاریخ گواہ ہے کہ آرٹیکل 243 میں معمولی تبدیلیاں بھی گہرے سیاسی اثرات رکھتی ہیں۔ ہر مرتبہ اس آرٹیکل میں ترمیم سے سویلین اور فوجی اختیار کا توازن ایک طرف جھک گیا۔ اگر اب واقعی کوئی ایسی نئی ترمیم زیر غور ہے، تو اس کے بھی دور رس سیاسی نتائج مرتب ہوں گے۔

 

فوجی ذرائع کے مطابق آرٹیکل 243 میں تبدیلیوں کی ایک ممکنہ وجہ جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اب جنگیں اب صرف روایتی میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ سائبر، خلا، معلوماتی اور ہائبرڈ جنگ جیسے نئے محاذ بن چکے ہیں، لیکن اب تک یہ واضح نہیں کہ مجوزہ آئینی ترمیم میں کیا تبدیلیاں شامل ہیں۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ آرٹیکل ماضی کے تقاضوں کے مطابق تشکیل دیا گیا تھا، جب جنگ صرف روایتی تھی اور تینوں افواج میں علیحدگی برقرار رکھی جاتی تھی، جبکہ آج کے دور میں مشترکہ منصوبہ بندی، بین الافرادی ہم آہنگی اور مرکزی سطح پر اسٹریٹجک ہم ربطی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اسی لیے اُن کے نزدیک ایک متوازن ادارہ جاتی جائزہ ناگزیر ہے تاکہ مسلح افواج کو جدید خطرات سے موئثر انداز میں نمٹنے کے قابل بنایا جا سکے۔ عسکری حلقوں کے مطابق اس مرتبہ آرٹیکل 243 میں ترمیم کا مقصد آئینی کنٹرول اور کمان کو بہتر بنانا ہے تاکہ پاکستان کا دفاعی ڈھانچہ زیادہ مربوط، مستحکم اور قابلِ اعتماد بن سکے۔

27 ویں ترمیم : آئینی بینچ کی جگہ 9 رکنی آئینی عدالت بنے گی

قانونی حلقوں کے مطابق، عسکری ذرائع کے پیش کردہ جواز سے یوں لگتا ہے کہ کوئی “چیف آف ڈیفنس سٹاف” جیسا نیا عہدہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمانڈ اور کنٹرول کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم ضروری نہیں، کیونکہ یہ شق بنیادی طور پر وفاقی حکومت کے مسلح افواج پر اختیار اور ان کے سربراہان کی تقرری سے متعلق ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عملی یا تنظیمی نوعیت کے معاملات آرمی ایکٹ اور آرمی رولز کے تحت طے کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا جب تک آئینی ترمیم کا تعلق ان چار اعلیٰ فوجی عہدوں کی تقرری سے نہیں، آرٹیکل 243 کو چھیڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بیشتر قانونی ماہرین متفق ہیں کہ اگر تینوں افواج کے درمیان ہم آہنگی کے لیے کوئی نیا مشترکہ عہدہ تخلیق کرنا ضروری ہے تو یہ کام  توعام قانون سازی کے ذریعے بھی ممکن ہے۔

 

Back to top button