آن لائن سروسز، پاکستانیوں کیلئے عذاب کیوں بن گئیں؟

 انٹرنیٹ، موبائل ایپس اور دیگر ڈیجیٹل سروسز ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں مگر پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود، ان سہولیات پر عائد پیچیدہ اور بھاری ٹیکسوں کا نظام عوام کے لیے آسانی کے بجائے ایک مستقل پریشانی بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایک عام صارف جب کوئی آن لائن سروس خریدتا ہے تو اسے صرف اس سروس کی قیمت ہی نہیں بلکہ مختلف سطحوں پر عائد ٹیکسوں کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے الگ الگ ٹیکسز نے ایک ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جہاں ڈیجیٹل سہولیات آسان ہونے کے بجائے پیچیدہ اور مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔ نتیجتاً، وہی طبقہ جو اس ڈیجیٹل انقلاب کا سب سے بڑا فائدہ اٹھا سکتا تھا، اب اس کا سب سے بڑا متاثرہ بن چکا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آئینی تقسیم کے مطابق اشیاء پر ٹیکس وصول کرنا وفاق کا اختیار ہے جبکہ خدمات پر ٹیکس عائد کرنا صوبوں کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ڈیجیٹل سروسز جیسے نیٹ فلیکس، یوٹیوب پریمیم اور سپوٹی فائی کی نوعیت واضح نہیں رہتی کہ انہیں سروس سمجھا جائے یا پراڈکٹ۔ اسی قانونی اور تکنیکی ابہام کی بنیاد پر وفاقی حکومت مختلف مدوں میں ٹیکس وصول کرتی ہے جبکہ صوبائی حکومتیں بھی انہیں آئی ٹی سروسز قرار دے کر الگ سیلز ٹیکس نافذ کر دیتی ہیں۔ یوں ایک ہی سروس پر دوہری ٹیکسیشن کا بوجھ صارف پر آ پڑتا ہے۔جب کوئی صارف کسی ڈیجیٹل سروس کی سبسکرپشن لیتا ہے تو وہ صرف بنیادی قیمت ادا نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ وفاقی ٹیکسز، صوبائی ٹیکس، بینک چارجز اور کرنسی ایکسچینج مارجن بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک معمولی قیمت کی سروس بھی خاصی مہنگی پڑنے لگتی ہے۔ فری لانسرز اور پروفیشنلز کے لیے ضروری ٹولز جیسےکینوا، گوگل ون کی کلاؤڈ سٹوریج، زوم اور چیٹ جی پی ٹی پلس  اب عیاشی نہیں بلکہ کام کی بنیادی ضرورت ہیں، مگر انہی پر سب سے زیادہ مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔

ناقدین کے مطابق یہ ٹیکس پالیسی سب سے زیادہ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس نوجوان طبقے کو متاثر کر رہی ہے۔ اس میں فری لانسرز، طلبہ، ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹرز اور چھوٹے آن لائن کاروباری افراد شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ صرف ڈیجیٹل معیشت کا حصہ ہیں بلکہ بیرون ملک سے زرمبادلہ بھی ملک میں لا رہے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں اپنے کام کے لیے ضروری ڈیجیٹل ٹولز مہنگے داموں خریدنے پڑ رہے ہیں، جس سے ان کی کارکردگی اور مالی حالت دونوں متاثر ہو رہی ہیں۔ماہرین کے بقول اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں ڈیجیٹل سروسز پر ایک مربوط ٹیکس نظام رائج ہے، جیسے ویلیو ایڈڈ ٹیکس یا گڈز اینڈ سروسز ٹیکس۔ وہاں صارف سے صرف ایک بار ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور بعد میں حکومت خود اس رقم کو مختلف سطحوں پر تقسیم کر لیتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں متعدد ٹیکسز، غیر واضح قوانین اور پیچیدہ نظام صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے، جس سے ڈیجیٹل سروسز کا استعمال بھی متاثر ہو رہا ہے۔


ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا حل وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔ ایک ایسا سنگل ٹیکس سسٹم متعارف کروانے کی ضرورت ہے جس میں صارف کو ایک ہی بار ٹیکس ادا کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل سروسز کی واضح تعریف اور شفاف پالیسی سازی بھی ضروری ہے تاکہ نہ صرف صارفین کو ریلیف ملے بلکہ ڈیجیٹل معیشت کو بھی فروغ دیا جا سکے۔پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی کامیابی کا انحصار صرف ٹیکنالوجی کے فروغ پر نہیں بلکہ صارف دوست پالیسیوں پر بھی ہے۔ اگر ٹیکسوں کا موجودہ پیچیدہ نظام برقرار رہا تو یہ نہ صرف عام صارفین کو متاثر کرے گا بلکہ ملک کی ڈیجیٹل ترقی کی رفتار کو بھی سست کر دے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے تاکہ ڈیجیٹل پاکستان کا خواب حقیقت بن سکے۔

Back to top button