دنیا بھر کے پاکستانی مشنز میں پاسپورٹ سروسز معطل کیوں؟

دنیا بھر میں لاکھوں پاکستانی اس وقت ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں بیرونِ ملک قائم پاکستانی سفارتی مشنز میں پاسپورٹ سروسز اچانک معطل کر دی گئی ہیں۔ بظاہر وجہ “تکنیکی خرابی” بتائی جا رہی ہے، لیکن اس اچانک تعطل نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے کہ آیا یہ صرف ایک فنی مسئلہ ہے یا اس کے پیچھے انتظامی اور مالی بحران بھی کارفرما ہے؟
اسلام آباد ہیڈ کوارٹر سے جاری معلومات کے مطابق، پاسپورٹ ڈیٹا پروسیسنگ سسٹم میں فنی رکاوٹ کے باعث یہ سروس عارضی طور پر بند کی گئی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ مسئلہ ایک سے دو روز میں حل کر لیا جائے گا۔ تاہم زمینی حقائق اور مختلف ذرائع کی رپورٹس اس کہانی کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
خیال رہے کہ خلیجی ممالک، یورپ اور دیگر خطوں میں موجود پاکستانی مشنز میں ہزاروں شہری روزانہ پاسپورٹ کی تجدید، نئے اجرا اور دستاویزات کی تصدیق کے لیے انحصار کرتے ہیں۔ ان سروسز کی معطلی نے ان پاکستانیوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جن کے اقامے ختم ہونے کے قریب ہیں یا جو ہنگامی طور پر وطن واپسی کے منتظر ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک جانب تکنیکی خرابی کا ذکر کیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب محکمہ امیگریشن کے اندرونی حلقے مالی مشکلات کی طرف بھی اشارہ کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وزارتِ خزانہ کی جانب سے فنڈز کی تاخیر نے نہ صرف آپریشنل سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ بیرونِ ملک تعینات عملے کی تنخواہوں میں بھی مشکلات پیدا کی ہیں۔
اگرچہ حکام نے واضح طور پر کسی احتجاج یا مالی بحران کے ساتھ اس تعطل کو جوڑنے سے انکار کیا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک “ٹیکنیکل فالٹ” نہیں بلکہ ایک بڑے انتظامی نظام کی کمزوریوں کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔امیگریشن ماہرین کے مطابق، یہ تعطل بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ اقامہ ختم ہونے کی صورت میں جرمانے، ملازمتوں کا خطرہ اور قانونی پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ وطن واپسی کے منتظر افراد بھی شدید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ پہلے ہی 2024 تک ایک بڑے “بیک لاگ” کا سامنا کر چکا ہے، جسے جدید نظام اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے بڑی حد تک کم کیا گیا تھا۔ تاہم موجودہ صورتحال اس پیش رفت کو دوبارہ خطرے میں ڈال سکتی ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا پاسپورٹ سسٹم واقعی ایک وقتی تکنیکی مسئلے کا شکار ہے، یا یہ ایک ایسے گہرے بحران کی جھلک ہے جو وقتاً فوقتاً ابھر کر سامنے آتا رہتا ہے؟
