ایران-امریکہ مذاکرات: پاکستان گیم چینجر کیسے بنا؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی کی کوششیں جاری ہیں۔ اس پیچیدہ سفارتی منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی ایک مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے، یا یہ سب کچھ معاشی دباؤ اور توانائی بحران کا نتیجہ ہے؟

حالیہ پیش رفت کے مطابق، پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پیغام رسانی میں مرکزی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ اسلام آباد اب محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال سفارتی کھلاڑی بن چکا ہے۔ پاکستان کی اس بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمی کے پیچھے ایک بڑی وجہ اس کا توانائی بحران ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ممکنہ بندش نے پاکستان کی تیل و گیس سپلائی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جو نہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ معیشت کو بھی سہارا دے سکتا ہے۔

دوسری جانب، ایران نے بھی اپنے مؤقف میں نمایاں نرمی دکھائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تہران اب امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں اپنے جوہری پروگرام کو شامل کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ یورینیم افزودگی کو 3.5 فیصد تک محدود کرنے اور ذخائر میں کمی کی پیشکش اس بات کی علامت ہے کہ ایران بھی کسی نہ کسی سمجھوتے کی طرف بڑھ رہا ہے۔مزید برآں، ایران کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے میں 30 دن کے اندر جنگ بندی کو مکمل امن میں تبدیل کرنے، عدم جارحیت کے معاہدے، اور آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے جیسی تجاویز شامل ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا گیا، جو اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔

تاہم اس تمام صورتحال میں ایک اہم سوال برقرار ہے: کیا پاکستان کا یہ کردار مستقل سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے یا محض وقتی مجبوری؟ مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف اسے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ جغرافیائی، مذہبی اور توانائی کے تعلقات بھی اہم ہیں۔ ایسے میں ثالثی کا کردار پاکستان کے لیے ایک موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ اگر پاکستان اس موقع کو مؤثر طریقے سے استعمال کرتا ہے تو وہ نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ اپنی معیشت کو بھی مستحکم کر سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ کوششیں ناکام ہوئیں تو اس کے سفارتی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

Back to top button