جان لڑانا پڑے گی

تحریر: مجیب الرحمٰن شامی
بشکریہ: روزنامہ دنیا

ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے‘ اس کے ذریعے تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ایران کی طرف سے جو نئی تجاویز ارسال کی گئی تھیں‘ اُن پر صدر ٹرمپ نے اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔ وہ تجاویز کیا ہیں اور کس نکتے پر عدم اطمینان ظاہر کیا گیا ہے‘ یہ واضح نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وائٹ ہائوس کی ترجمان نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ اس مرحلے پر ہم تفصیل میں جانا پسند نہیں کرتے۔ جناب ٹرمپ نے امریکی کانگرس کو یہ خط بھی لکھ ڈالا ہے کہ ایران سے جنگ بندی ہو چکی۔ کہا جا رہا تھا کہ جنگ جاری رکھنے کے لیے امریکی کانگرس سے اجازت لینا پڑے گی‘ لیکن وہ اس الجھن سے یہ کہہ کر نکل آئے ہیں کہ جنگ تو بند کی جا چکی۔ الفاظ کی گولہ باری شدت سے جاری ہے۔ صدر ٹرمپ کبھی ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بس اتنا کہہ دے کہ ہم ہار گئے ہیں‘ گویا باقی باتیں سنبھال لی جائیں گی۔ کبھی ارشاد ہوتا ہے کہ ایران میں تو لیڈرشپ ہی موجود نہیں ہے۔ ایرانیوں کو خود نہیں پتا کہ انہوں نے کیا بات‘ کس سے کرنی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایرانی قیادت کو تہِ تیغ کیا جا چکا‘ وہاں اب ابہام ہے‘ کنفیوژن ہے‘ دھڑے ہیں‘ کوئی نظم موجود نہیں ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ ایران کی فضائی طاقت ختم ہو چکی‘ اس کی بحریہ بھی ڈبو دی گئی۔ انوکھا تجربہ ہو رہا ہے کہ بات چیت جاری ہو‘ لیکن الفاظ کے بم بھی گرائے جا رہے ہوں۔
امریکی وزیر جنگ کو کانگرس میں تندو تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے‘ صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں بدستور کمی آ رہی ہے۔ امریکی رائے عامہ جنگ کے خلاف ہے‘ لیکن حکومتی اہلکاروں کی لفظی شعبدہ بازی جاری ہے۔ ایران بھی بدحواس نہیں ہوا۔ اس کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے بیانات کے ذریعے قوم کو حوصلہ دلا رہے ہیں اور دشمن کو پچھاڑنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ان کے وزرا کی ایک ہی رٹ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیں گے‘ جبکہ ایران اپنے قانونی حقوق اور مفادات کی حفاظت کا عزم کیے ہوئے ہے۔ جوہری بم بنانے کا نہ اُس نے پہلے کبھی ارادہ ظاہر کیا تھا‘ نہ اب کر رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ اس حوالے سے معاملات طے پا چکے تھے لیکن صدر اوباما کے کیے دھرے پر پریذیڈنٹ ٹرمپ نے پانی پھیر دیا۔ اپنے پچھلے دورِ صدارت میں ایران سے کیے گئے بین الاقوامی معاہدے سے پھر گئے اور اس دور میں تو باقاعدہ حملے کے مرتکب ہو گئے۔ جوہری بم بنانے کے بے سروپا الزامات لگانے کے بعد دھاوا بول دیا گیا۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے نتیجے میں اور جو کچھ بھی ہوا ہو‘ وہ بہرحال نہیں ہوا جو حملہ آور چاہتے تھے۔ ایران کو وینزویلا نہیں بنایا جا سکا۔ اب بھی آبنائے ہرمز پر ایران قابض ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر کوئی وہاں سے گزر نہیں سکتا۔ امریکہ نے جوابی ناکہ بندی کر رکھی ہے‘ ایران کی طرف آنے اور جانے والے جہازوں کا راستہ روکا جا رہا ہے‘ اس سے دنیا بھر کے مصائب میں اضافہ ہو گیا ہے‘ آبنائے ہرمز کی بندش نے تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ ہر ملک اس سے متاثر ہوا ہے اور ہر جگہ امریکہ مخالف جذبات زوروں پر ہیں۔ امریکہ اپنے نیٹو اتحادیوں کا اعتماد کھو چکا ہے۔ جرمنی سے اس نے اپنے پانچ ہزار فوجی واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے‘ گویا یورپ کے دفاع میں وہ اپنا کردار ختم (یا کم) کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ نتیجتاً وہ اپنے آپ کو محدود کر گزرے گا۔
چین کسی مسلح تصادم میں براہِ راست شرکت پر تیار نہیں ہے۔ وہ اس محاورے سے لطف اندوز ہو رہا ہے کہ جب تمہارا دشمن غلطی کر رہا ہو تو اس کا ہاتھ نہ روکو۔ امریکہ اپنا دشمن آپ ہے۔ اپنی طاقت خود ضائع کرنے پر بضد ہے۔ پاکستان نے بڑی احتیاط اور ذہانت سے اپنا نقش جمایا ہے۔ اس نے جہاں سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاملات بگڑنے سے بچانے میں کردار ادا کیا ہے‘ وہاں امریکہ اور ایران کے مابین بھی ایک ذمہ دار اور بااعتماد ثالث کے فرائض نبھائے ہیں۔ دونوں ملک اسے قدر کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ اسحق ڈار بھی دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ ہر وہ شخص جو دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتا ہے پاکستان اور اس کے رہنمائوں کے لیے دعاگو ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ ثالثی مؤثر ثابت ہو امریکہ اور ایران کے درمیان نہ صرف مستقل جنگ بندی ہو بلکہ تعلقات بھی معمول پر آئیں۔
اس جنگ سے پاکستانی معیشت بھی سخت دبائو میں ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے‘ بجلی مہنگی ہو رہی ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے آنے والی ترسیلاتِ زر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ خلیجی ممالک پاکستان کے لیے زرِمبادلہ کا ایک بڑا سورس ہیں۔ وہاں مقیم پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر کما کر اپنے وطن بھجواتے ہیں۔ کئی ماہرین معیشت پاکستان کے کرنٹ اکائونٹ میں بھاری خسارے کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ ابھی تک پاکستان نے اپنی معیشت کو سنبھالے رکھا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی کمی نہیں ہو پائی لیکن مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لازم ہے کہ پوری قوم صبر اور حوصلے کے ساتھ امتحان سے گزرے۔ داخلی محاذ پر استحکام برقرار ر کھنے کے لیے سیاسی ماحول کو سازگار بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے سیاسی رہنمائوں کو سارے اختلافات پسِ پشت ڈال کر یکجا ہونا ہو گا۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان ابھی تک تنائو موجود ہے۔ اعتماد سازی کی کوئی باقاعدہ کوشش سامنے نہیں آئی‘ ہمارے ذمہ داران کو معاملات حالات کے سپرد کرنے کے بجائے انہیں اپنے ہاتھ میں لینا ہو گا۔ ہمارے معاملہ سازوں کو اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ پاکستان کے اندر ایسی معتبر شخصیات موجود ہیں جو فریقین کے درمیان پُل کا کردار ادا کر سکیں۔ انہیں متحرک کرنا چاہیے اور اپوزیشن کی شکایات کا ازالہ کرنے کا کوئی راستہ نکالنا چاہیے۔ خارجی محاذ پر کامیابیاں‘ داخلی محاذ پر ناکامی کی وجہ سے دھندلا بھی سکتی ہیں۔ پاکستان نے ستر کی دہائی میں امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات بحال کرائے تھے‘ ہنری کسنجر کو اس طرح بیجنگ پہنچایا تھا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو سکی تھی۔ امریکہ اور چین کے اس مصافحے نے عالمی منظر نامہ تبدیل کر دیا لیکن پاکستان جس داخلی خلفشار میں اُلجھا ہوا تھا‘ اُسے سلجھانے کی کوئی تدبیر نہیں کی گئی۔ اُس وقت کے مقتدر اس اُمید میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے کہ امریکہ ہمارے دشمنوں کے دانت کھٹے کر دے گا‘ لیکن جو ہوا‘ وہ سب کے سامنے ہے۔ سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ کشتی کو ہوائوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا‘ اسے منزل پر پہنچانے کے لیے ملاحوں کو جان لڑانا پڑتی ہے۔

Back to top button