مہنگائی کے دور میں جینے کے انداز

تحریر: ایاز میر
بشکریہ: روزنامہ دنیا

ہمارے بڑے سیاست اور کاروبار دونوں کرتے تھے۔ کاروبار میں آڑھت کا کام تھا اور کاروباری ذہن خوب رکھتے تھے۔ اس کے برعکس ہم مکمل نکمے ٹھہرے۔ کاروباری ذہن تو بالکل ہی نہیں رہا ‘ کوئی ہمیں چلتی ہوئی فیکٹری بھی دے دیتا تو تھوڑے ہی عرصے میں تباہی کے دہانے پر اُسے پہنچا دیتے۔ کچھ تو کتابوں نے تباہ کیا کیونکہ کتاب بینی کی وجہ سے تخیلات کی دنیا میں ہی گم رہتے۔ اور کچھ شاید قدرتی کاہلی تھی‘ کاروبار کی طرف آ نہ سکے۔ ایک عدد نوکری بھی کی لیکن وہ بھی راس نہ آئی۔ اب جب مہنگائی نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور ہرمز کی گزرگاہ کا جلدی کھلنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا‘ جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں نے اوپر ہی جانا ہے نیچے نہیں آنا‘ تو سوچ آتی ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے خرچے بڑھ رہے ہیں اور آمدن وہی مسدود ہے توا یسا ہی چلتا رہا تو کریں گے کیا۔
عادت سے مجبور قلم گھِسائی تو کرتے آئے ہیں کیونکہ کاہلی میں یہی کچھ راس آیا۔ آج دور البتہ قلم گھِسائی کا نہیں بلکہ یوٹیوب پر ڈالر کمانے کا ہے اور گو بہت سے خیرخواہ نصیحت کرتے آئے ہیں کہ جہاں روش یوٹیوب کی اتنی بن چکی ہے ہم بھی اُسی ڈگر پر چلنے کی کوشش کریں۔ لیکن وہی کمبخت کاہلی آڑے آتی ہے اور روز میز پر مائیک فِٹ کرنا اور سامنے کیمرے لگوانا ہم سے نہیں ہوتا۔ جو ایسا کرتے ہیں ہم اُن کی بہادری اور مستقل مزاجی پر داد ہی دے سکتے ہیں۔ ہمارے بس کی بات نہیں۔ لیکن عذر جو بھی ہو خرچے محض موجود نہیں بلکہ ہر نئے روز دیکھتے ہیں کہ بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں کیا کیا جائے؟
ایک تو شکر ہے بے جا کی عیاشی ہمارے ذاتی نصاب میں موجود نہیں۔ مثلاً پینٹ سوٹ پہننا کب کا چھوڑ دیا اس لیے لباس کے زمرے میں اتنا خرچ نہیں ہوتا۔ شلوار قمیض کیلئے یار دوست کپڑا گفٹ کر دیتے ہیں اور اسی سے بھون روڈ کے ہمارے ٹیلر شلوار سوٹ تیار کر دیتے ہیں۔ بجلی کا علاج سولر سے ہو گیا ہے اور اُس کا جو لمبا سا بل آیا ہے وہ بس دیتے رہیں گے۔ پٹرول والا قضیہ البتہ بڑا بھاری ہے۔ ٹینکی فل کراتے ہیں تو نقد دینے کی ہمت سے گریز ہی کرتے ہیں‘ کریڈٹ کارڈ کا استعمال ہوتا ہے تاکہ دل کو فوری محسوس نہ ہو کہ کیا گزری ہے۔ کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی آنکھیں بند کرکے مہینے بعد ہو جاتی ہے۔
آزمودہ نسخہ جو سمجھ سکے ہیں یہی ہے کہ گندم کے دو تین بھڑولے گندم کٹائی کے سیزن میں بھر لیے جائیں تاکہ سال بھر گندم کے بارے میں سوچنا نہ پڑے۔ انڈے ہوں تو دیسی اور وہ باقاعدگی سے گاؤں سے آ جاتے ہیں۔ اب تو اپنے مرغے بھی رکھے ہوئے ہیں‘ ذبح کرنے کیلئے تھے لیکن درختوں کے نیچے اُن سے رونق اتنی بنتی ہے کہ چھری پھیرنے کا سوچا نہیں جاتا۔ باہر کے کھیت کے اب وہی مرغے مرغیاں مالک ہیں اور آگے سے اُن کے بچے بھی ہو رہے ہیں‘ یعنی تعداد بڑھ رہی ہے اور تھوڑے انڈے بھی آ جاتے ہیں۔ باقی ضرورت آس پاس سے پوری ہو جاتی ہے۔ ایک کام نہیں کر سکے اور وہ ہے دودھ کا انتظام اور بھینسوں کا رکھنا۔ ہمارا گاؤں بھگوال چکوال سے تھوڑا فاصلے پر ہے‘ بھینسیں رکھیں تو بھگوال میں رکھنی پڑیں اور اگر روز خود نگرانی نہ ہو سکے تو کام نہیں چلے گا۔ محترم شیخ رشید احمد کا لافانی قول بھی یاد آتا ہے کہ دودھ مل جائے تو بھینس آدمی کیوں رکھے۔ دودھ ٹھیک مل ہی جاتا ہے لہٰذا بھینس رکھنے کے خرچے سے ہم بچے۔
اور ہماری کیا ضرورت ہے؟ ہاں شبِ غم کا المیہ تو رہتا ہے اور اُس کا کچھ نہ کریں تو یوں سمجھئے زندگی اجیرن ہو جائے۔ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ زندگی کی بہت سی چیزوں میں بدقسمت رہے لیکن ایک اس چیز میں قسمت نے ساتھ دیا ہے اور شبِ غم کے معاملات کچھ باہر بیٹھے دوستوں کی وجہ سے اور کچھ اپنی جیب پر دست درازی کرتے ہوئے کام چل ہی جاتا ہے۔ سال کے دانے بھڑولوں میں ہوں چاندنی راتوں میں دل پر جو گزرتی ہے اُس کا بھی کچھ مداوا ہو جائے تو اور کیا رہ جاتا ہے۔ ہاں‘ الفت کی راہیں رہ جاتی ہیں لیکن مولا کے رنگ مہربان ہیں اور چکوال بیٹھے ہوئے اب لاہور کی رنگینیوں کی طرف جانے کا زیادہ جی نہیں کرتا۔ زمانۂ ٹیلی ویژن میں لاہور جانا پڑتا تھا اور وہیں دو تین روز قیام ہوتا تھا لیکن اب سفر طویل لگتا ہے اور چکوال کی آب وہوا ہی من کو زیادہ بھاتی ہے۔ بس انسان خوش رہے اور جو آس پاس کے حالات ہیں اُنہی پر قناعت کرنے کا ڈھنگ سیکھے۔
اپنی کمائی سے خریدی ہوئی زمین زیادہ نہیں‘ جاگیرداری کے زمرے میں تو ہم کبھی آتے نہ تھے‘ لیکن پھر بھی اتنی ہے کہ تھوڑی سی لگن اور محنت سے اُس پر بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ اپنی سبزیاں‘ اپنے فروٹ کے پیڑ‘ گائے بھینسیں‘ کچھ بھیڑ بکریاں‘یعنی رونق لگی رہے‘ لیکن مذاقاً نہیں سچ مچ کہہ رہے ہیں کہ کاہل ہیں۔ کامیاب زمینداری کیلئے زمین پر موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ فارمنگ ایسی چیز نہیں کہ آپ بیٹھے دور ہوں اور پیچھے سے سب کچھ ٹھیک ہوتا رہے۔ مرحوم نواب کالا باغ کہتے تھے کہ سب سے بہتر کھاد زمین پر مالک کا قدم ہوتا ہے۔ لیکن نہیں‘ صبح ہماری کافی اور اخبار بینی اور یوٹیوب پر خبروں کی جانچ کرنے میں گزر جاتی ہے۔ یہی وقت ہوتا ہے زمین پر توجہ دینے کا لیکن کچھ پڑھ لیا‘ کچھ ورزش کی اور اُس کے بعد دیسی گھی کے پراٹھے کا چسکا کرنا ہو تو تھوڑے سے قیلولہ کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ اُٹھے تو ایک کپ کافی‘ چکوال میں ہوئے تو پھر تھوڑی سی مزید پڑھائی اور اُس کے بعد شب کے سائے آن ڈھلتے ہیں اور من کہیں اور چلے جانے کی سوچ میں ڈوبنے لگتا ہے۔ ہم جیسوں سے پھر خاک فارمنگ ہونی ہے۔
سچ پوچھئے یہ عذر بنتا نہیں۔ معمارِ ماڈرن جرمنی اوٹو وان بسمارک سے زیادہ مصروف انسان کون ہو سکتا تھا۔ پیدائشی جاگیردار تھا اور ریاستی خدمات کے عوض مزید بڑی جاگیر عطا کی گئی‘ 17‘ 18 ہزار ایکڑ پر محیط۔ دارالحکومت برلن میں رہنا پسند نہیں کرتا تھا۔ کوئی موقع ہاتھ آیا تو زمینوں پر چلا جاتا۔ ریاست کے معاملات زیر نظر ہوتے اور جاگیر کے معاملات بھی چل رہے ہوتے۔ شاموں کو بھرپور طریقے سے شبِ غم کا مداوا ہوتا۔ جرمنی کا چانسلر وہ کچھ کر سکتا تھا تو ہم کون سے چانسلر اور کون سے جاگیردار کہ کچھ نہ کرنے کے عذر پیش کریں۔ بس وہی بات ہے کہ کاہلی آڑے آ جاتی ہے نہیں تو تاریخِ یورپ اور تاریخِ امریکہ پڑھیں تو عیاں ہوتا ہے کہ کتنے ہی بڑے سیاستدان اور مدبر تھے جن کا پیشہ زمینداری تھا۔
ریاست ہائے متحدہ میں سو‘ دو سو سال پرانا گھر کوئی عجوبہ نہیں سمجھا جاتا۔ برطانیہ میں اس سے بھی زیادہ پرانے گھر اور قلعے اب تک آباد ہیں۔ ہمارے ہاں ایسا تاریخی تسلسل رہا نہیں۔ بادشاہتیں تھیں تو کچھ عرصہ بعد چلی گئیں۔ یورپ میں جس تسلسل سے بادشاہتوں کی کوکھ سے ماڈرن ریاستوں نے جنم لیا اُس تاریخی عمل سے ہم محروم رہے۔ یہی وجہ تھی کہ اغیار سے لوگ آئے اور اپنی فتوحات کی بنا پر یہاں کے حاکم بن گئے اور ایسے حاکم کہ اُن کی حاکمیت کے گہرے اثرات ہمارے معاشروں کا دائمی حصہ بن گئے ۔
کھیت کھلیان ہوں اور بیچ میں چھوٹا سا ٹھکانہ کہ شام کے سائے اتریں اور کوئی کتاب کھلے اور گزری بادشاہتوں کے مناظر سامنے سے گزریں۔ انسان کو اور کیا چاہیے۔

Back to top button