سہیل وڑائچ کو مارشل لا کے خدشات کیوں تنگ کرنے لگے؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ان دنوں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ جلد ہی ملک کے سیاسی و آئینی نظام کو سمیٹتے ہوئے پاکستان میں مارشل لا نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول چہ مگوئیاں ہیں کہ فوج کے سربراہ کو صدرِ پاکستان بنایا جا سکتا ہے جو باوردی صدر کے طور پر نظام سنبھالیں گے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک ایسے ماڈل پر غور کیا جا رہا ہے جس کی افادیت ثابت کرنے کے لیے چین، سنگاپور اور مصر کی مثالیں پیش کی جا رہی ہیں، جہاں تیز رفتار ترقی دیکھنے میں آئی۔ تاہم وہ واضح کرتے ہیں کہ ان ممالک میں پاکستان جیسی جمہوریت موجود نہیں۔ اسلام آباد کے حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ہائبرڈ نظام کی کیا ضرورت ہے، جب کہ ملک کی اصل طاقت فوج ہے، لہٰذا اسے براہِ راست حکمرانی سنبھال لینی چاہیے۔ یہی دلیل ماضی میں ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں مارشل لا کے نفاذ کا جواز بنی۔

 

سینیئر صحافی کے مطابق ماضی کی یہ تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ مارشل لا کے نفاذ کے وقت طے کیے گئے اہداف پورے نہ ہو سکے اور بالآخر ہر مارشل لا جمہوریت کی واپسی پر منتج ہوا۔ ہر بار یہ دعویٰ کیا گیا کہ سابقہ غلطیوں کو درست کر لیا گیا ہے اور اب کی بار نظام درست ہو جائے گا، مگر نتیجہ ہمیشہ وہی نکلا۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس بار بھی اقتدار کے ایوانوں میں اس موضوع پر غور ہوا ہوگا، تاہم ماضی کے تلخ تجربات کے باعث مارشل لا کے حق میں بھرپور حمایت دکھائی نہیں دیتی۔

 

عمومی اتفاق یہی نظر آتا ہے کہ ملک کو آئین کے اندر رہتے ہوئے ہی چلایا جائے، جسے وہ خوش آئند قرار دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ آئین دراصل ریاست کا “برقع” ہے۔ اگر یہ برقع ہٹ جائے تو ریاست عریاں ہو جاتی ہے اور اس کی اصل طاقت کے مراکز سب پر عیاں ہو جاتے ہیں، جس سے بیرونی قوتوں کو کمزور پہلوؤں پر وار کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کے مطابق ایک نیوکلیئر ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ جمہوری اور آئینی پردے میں رہے تاکہ اس کے حساس اثاثے محفوظ رہیں۔

مارشل لا کے ممکنہ نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں فوج ہی ریاست، حکومت اور نظام کا مکمل چہرہ بن جاتی ہے، جس سے عالمی سطح پر تنقید اور دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ ویسے بھی دولتِ مشترکہ اور یورپی یونین جیسے اداروں کے اصول واضح ہیں کہ مارشل لا کے نفاذ پر تعلقات محدود یا معطل ہو سکتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔

 

وہ یاد دلاتے ہیں کہ 1958 میں جنرل ایوب خان کے مارشل لا کو جسٹس منیر نے نظریۂ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا تھا۔ بعد ازاں ضیاء الحق اور پرویز مشرف نے بھی آئین کو معطل کر کے اقتدار سنبھالا۔ ضیاء الحق کے دور میں اے کے بروہی، شریف الدین پیرزادہ اور عزیز منشی جیسے قانونی ماہرین کی مدد سے آئین میں ایسی ترامیم کی گئیں جنہوں نے ایک ہائبرڈ نظام کو جنم دیا۔

سہیل وڑائچ نے آج کے فیصلہ سازوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ آئین میں ایسی “ویلڈنگ” سے گریز کریں جس سے جمہوری پردہ ہٹ جائے۔ ان کے بقول اب حکمت عملی یہ ہے کہ جمہوری لبادہ برقرار رکھتے ہوئے اندرونی طور پر اختیارات استعمال کیے جائیں تاکہ نظام بھی قائم رہے اور عالمی دباؤ سے بھی بچا جا سکے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر ماضی کی طرح کھلا مارشل لا نافذ کیا گیا تو موجودہ عالمی ماحول، جو کسی حد تک پاکستان کے حق میں ہے، اس کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔

 

ان کے مطابق آج کی سوچ یہی ہے کہ جمہوری “میک اپ” کو خراب نہ ہونے دیا جائے، تاہم مستقبل کے بارے میں حتمی پیش گوئی ممکن نہیں کیونکہ کسی بھی غیر متوقع واقعے سے حالات یکسر بدل سکتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ چاہے سیاسی حکومتیں کمزور یا نااہل ہی کیوں نہ ہوں، وہ غیر جمہوری نظام سے بہتر ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ریاستی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ آئین اور جمہوریت کے “برقع” کو برقرار رکھا جائے اور موجودہ سسٹم کو عریاں کرنے سے پرہیز کیا جائے۔

 

Back to top button