انڈیا کی شکست کے بعد عمران کی رہائی کا امکان ختم کیوں ہو گیا؟

تحریک انصاف کی قیادت کے حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران باقی سیاسی جماعتوں کی طرح فوج کے ساتھ کھڑا نہ ہونے کے غلط فیصلے نے عمران خان کی سیاسی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور پی ٹی آئی کی اخلاقی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار عامر خاکوانی اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ حالیہ جنگ کے دوران افواج پاکستان کا ساتھ نہ دینے سے خان کی عوامی حمایت میں کمی واقع ہوئی ہے، انکے اس موقف کے ساتھ کوئی کھڑا نہیں ہوا اور یوں انکی سیاسی تنہائی اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پاک بھارت جنگ سے پہلے ہونے والے پہلگام حملے کے بعد بھی تحریک انصاف کے ہمدرد یوٹیوبرز نے پاکستان کو اس کا ذمہ دار قرار دینا شروع کر دیا تھا، لیکن جنگ چھڑنے کے بعد یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ خان کی جماعت حب الوطنی پر مبنی قومی بیانیہ اپنائے گی۔ بانی پی آٹی آئی کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے سیاسی اختلاف عارضی طور پر ایک طرف رکھ کر ملک وقوم کی خاطر افواج پاکستان کے ساتھ غیر مشروط طور پر کھڑے ہو جاتے۔ لیکن ایسا نہین ہوا اور انہوں نے جنگ کے دوران پراسرار خاموشی اختیار کر کے بالواسطہ بھارت کا ساتھ دیا۔
جنگ سے پہلے اور جنگ کے دوران تحریک انصاف کی قیادت نے پرو پاکستان پوزیشن نہیں لی۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور سوشل میڈیا واریئرز نے اپنے منفی طرز عمل، طنزیہ پوسٹوں اور تمسخرانہ کمنٹس سے مودی کے بجائے اپنی حکومت کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔ عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو سب سے زیادہ نقصان پاکستان سے باہر بیٹھ کر ولاگ کرنے والے صحافیوں، بلاگرز وغیرہ سے پہنچ رہا ہے۔ ان میں سے کئی لوگ پارٹی حلقوں اور کارکنوں میں بہت مقبول ہیں، انہیں توجہ سے سنا جاتا ہے، مگر ان سب میں بوجوہ اس قدر تلِخی اور ناراضی بھری ہے کہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ یا پاکستانی حکومت کے لیے کچھ بھی اچھا کہنے کو تیار نہیں۔ ملک سے باہر بیٹھے یہ لوگ اپنے ذاتی مسائل اور غصے سے اوپر اٹھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔
تحریک انصاف کے لیے مصیبت یہ ہے کہ ان میں سے بعض خود کو پارٹی ترجمان سے کم نہیں سمجھتے اور مختلف پالیسی ایشو پر اپنی ڈکٹیشن دینے پر مصر رہتے ہیں۔ یہ سب پاکستان اور انڈیا کے ٹکراؤ میں تاریخ کی غلط سمت اور غلط جگہ پر کھڑے تھے۔ ان کے طرزعمل اور ان کے ولاگز، سوشل میڈیا پوسٹوں کا نقصان تحریک انصآف کو پہنچا۔ عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کے ’سوشل میڈیا واریئرز‘ تب متحرک ہوئے جب پاکستان نے انڈیا کو جواب دیا اور اس کے فضائی اڈے تباہ کر دیے۔ تب انہوں نے پاکستان کے حق میں پوسٹ کرنا شروع کر دیں، لیکن یہ سب دیر سے اور بے فائدہ تھا۔ تحریک انصاف یہی سب کچھ اگر پانچ سات دن قبل کرتی تو پورا منظر نامہ ہی مختلف ہوتا۔ آج وہ بھی فاتح ہوتے۔ لیکن اس مرتبہ بھی فیصلہ کرنے میں دیر کر دی گئی۔
عمران فوجی نمائندے سے ملاقات کو تیار، لیکن دوسری جانب سے انکار
عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے لیے اب سیاسی مشکلات مذید بڑھ جائیں گی۔ پاک بھارت جنگ سے مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی پیپلز پارٹی بھی مضبوط ہوئی ہے۔ ان کے اتحاد اور اقتدار کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں۔ اگر کہیں موہوم سا امکان تھا کہ الیکشن اس برس کے آخر میں ہو جائیں گے، تو وہ بھی اب ہوا میں تحلیل ہو گیا ہے۔ پاکستانی سیاست بہت ہی غیریقینی اور ناقابل اعتبار ہے، لیکن بظاہر اگلے چند برسوں میں تو نئے الیکشن کا امکان نظر نہیں آتا۔ مسلم لیگ پنجاب میں، پیپلز پارٹی سندھ میں زیادہ مضبوط ہو گی۔ اس کا بھی امکان نظر آ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو شاید وفاقی کابینہ میں حصے دار بنایا جائے۔ بلاول بھٹو کو بیرون ملک سفارت کاری کے حوالے سے اہم ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں، عین ممکن ہے کہ یہ بلاول کو پھر سے وزارت خارجہ میں واپس لانے کا سبب بن جائے۔
