PPP نے اتحادی حکومت میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیوں کیا؟

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے مابین جاری جوڑ توڑ ختم ہوتا نظر آتا ہے۔ جہاں ایک طرف پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور ق لیگ سمیت 6 بڑی سیاسی جماعتوں نے وفاق میں اتحادی حکومت کے قیام کا اعلان کیا ہے وہیں پیپلزپارٹی نے وفاقی حکومت کا حصہ بنے بغیر نون لیگ کے وزارت عظمی کے امیدوار کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کے ماننا ہے کہ پیپلزپارٹی وقتی طور پر تو اتحادی حکومت کا حصہ نہیں بن رہی کیونکہ جس شدت کے ساتھ بلاول بھٹو نے اپنی انتخابی مہم میں نون لیگی قیادت کو نشانے پر رکھا ہے اس صورتحال کو سامنے رکھا جائے تو بلاول بھٹو کیلئے شہباز شریف یا نواز شریف کی کابینہ کا حصہ بننا بہت مشکل فیصلہ تھا اسی لئے بلاول بھٹو نے فوری وفاقی وزارتیں نہ لینے کا فیصلہ کیا ہےتاہم مستقبل قریب میں مسائل کو حل کرنے کے بہانے پیپلزپارٹی اتحادی حکومت میں شامل ہو سکتی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومتی اتحاد میں شامل ہوئے بغیر وزیراعظم کے عہدے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ دیگر معاملات میں ہر مسئلے پر حکومت کے ساتھ پارٹی منشور کی روشنی میں تعاون یا مخالفت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کی خصوصی کمیٹی مسلم لیگ ن اور دیگر سیاسی جماعتوں سے روابط رکھے گی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگاتے ہوئے ایک بار پھر ملک کو سیاسی عدم استحکام سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت کوئی بھی جماعت تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے لیکن ہماری جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم وزارت عظمی کا امیدوار بھی نہیں لائیں گے اور مسلم لیگ ن کے ساتھ حکومت میں وزارتیں بھی نہیں لیں گے۔
پیپلز پارٹی کے اس فیصلے سے متعلق تجزیہ کار ضیغم خان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے اج اعلان نہیں بلکہ اپنا موقف دیا ہے۔’لیکن یہ طے ہے کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوگی اور اس معاملے پر دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی مرکزی مجلس عاملہ کو ان فیصلوں کے بارے میں اگاہ کر دیا ہے تاہم پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے طریقے سے اور اپنے الفاظ میں واشگاف اعلان کی بجائے دوسرا انداز اپناتے ہوئے پریس کانفرنس کی ہے۔
ضیغم خان کے مطابق پیپلز پارٹی نہ صرف مسلم لیگ ن کے وزارت عظمی کے امیدوار کو ووٹ دے گی بلکہ کابینہ کا حصہ بھی ہوگی اور اس کے ساتھ ساتھ آئینی عہدوں پر اتفاق رائے سے امیدوار بنے گی۔’یہ کیسے ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی وزارت عظمی کے لیے تو مسلم لیگ نون کو ووٹ دے لیکن آئینی عہدوں بالخصوص سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے اپنا امیدوار لائے تو ایسی صورت میں تحریک انصاف کے پاس نمبر زیادہ ہوں گے اور وہ یہ عہدہ حاصل کرنے میں آسانی سے کامیاب ہو جائے گی اس لیے یہ بات تسلیم کرنا ممکن نہیں لگ رہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن الگ الگ موقف رکھیں گے یا الگ الگ چلیں گے۔‘
اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کار رسول بخش رئیس کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان کم از کم پاور شیئرنگ فارمولے پر اتفاق ہو چکا ہے۔’جس کے مطابق وزیراعظم کا تعلق مسلم لیگ ن سپیکر یا چئیرمین سینیٹ کا تعلق پیپلز پارٹی اور اسی طرح صدر پیپلز پارٹی سے ہوگا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ملفوف قسم کا اعلان کر کے پیپلز پارٹی نے اپنا وزن بڑھانے کی کوشش کی ہے تاکہ مسلم لیگ ن آئے اور ان سے بات کرے اور ان کی منت ترلہ کرے تاکہ وزارتوں میں زیادہ سے زیادہ شیئر حاصل کیا جا سکے۔
سیاسی امور کی ماہر ڈاکٹر آمنہ محمود کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے دراصل ن لیگ کو یہ پیغام دیا ہے کہ آپ کو مزید آزاد امیدواروں سے رابطے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ’بلکہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کو حکومت سازی میں بھرپور حمایت دے گی۔ ‘ان کے بقول پیپلز پارٹی نے جو کمیٹی تشکیل دی ہے وہ آنے والے دنوں میں مسائل پر گفتگو کی بجائے حکومت بننے سے پہلے پاور شیئرنگ فارمولے کو حتمی شکل بھی دے گی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے لیے وزارتوں اور دیگر عہدوں پر بارگین کرے گی۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد جس طرح سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے باہمی رابطے ہوئے ہیں اس سے یہ بات واضح ہے کہ دونوں کو مل کر حکومت بنانی ہے۔تاہم پیپلز پارٹی کسی جلدی میں نظر نہیں آتی اس لیے آج ایک مبہم اعلان کیا گیا ہے۔تاہم ’آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی حکومت میں شمولیت کا اعلان کرے گی اور اس وقت موقف یہ اپنایا جا سکتا ہے کہ حکمران اتحاد کی سربراہ جماعت مسلم لیگ ن بضد ہے کہ کوئی جماعت بھی اکیلے ملکی مسائل کا حل نہیں کر سکتی اس لیے پیپلز پارٹی بھی وزارتیں لے لیں تاکہ مل کر ملک کو چلایا جائے۔‘
سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی نے حکومت کا حصہ نہ بننے اور صدر، سپیکر اور چیئرمین سینیٹ کے لیے اپنے امیدوار لانے کا اعلان کر کے مسلم لیگ ن کو مشکل میں ڈال دیا ہے، تاہم مسلم لیگ ن کے اندر اس صورت حال کو ایک مختلف طریقے سے دیکھا جا رہا ہے۔’مبصرین کے مطابق بلاول نے چونکہ اپنی الیکشن مہم میں کہانی کو کافی آگے بڑھا دیا تھا اس لیے واپسی کے لیے آہستگی درکار تھی جو پیپلز پارٹی کی پریس کانفرنس سے عیاں ہوئی اس میں انہوں نے اپنے ووٹرز کو اعتماد میں لیا۔‘ ’چیزیں طے ہو چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہو گی، وزارتیں بھی لے گی جبکہ شہباز شریف
وزیراعظم ہوں گے۔‘
