کابینہ اجلاس نہ بلانے پر PPP کو شہباز پر تحفظات

مخلوط حکومت کی دو بڑی اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے مابین وفاقی کابینہ کا اجلاس بلائے بغیر سمریوں کے ذریعے فیصلہ سازی کرنے پر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں شامل سب بڑی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے وفاقی کابینہ کے اجلاس معمول کے مطابق نہ بلانے اور اہم سمریوں کی منظوری سرکولیشن کے ذریعے لینے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید شاہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر معاملے پر اعتراض اٹھایا ہے۔ خورشید شاہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’ایک ماہ سے یہ بات نوٹس کی جا رہی ہے کہ وہ معاملات جن پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بحث ہونی چاہیے اور بحث کے بعد منظوری ہونی چاہیے ان کو سمریوں کی سرکولیشن کے ذریعے منظور کیا جا رہا ہے۔ اس سے عوام میں اچھا تاثر نہیں جاتا۔‘
خط میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کی حکومت بھی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معاملات پر بحث کرنے سے گریز کرتی اور سرکولیشن کے ذریعے وزرا سے منظوری حاصل کرنے کو ترجیح دیتی تھی کیونکہ یہ ان کی پالیسی تھی جسے جاری رکھنے سے اچھا تاثر پیدا نہیں ہو رہا۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خورشید شاہ نے خط میں کہا ہے کہ ’میری تجویز ہے کہ آئندہ وزارتوں کی طرف سے بھیجی جانے والی سمریاں کابینہ کے ایجنڈے میں شامل کی جائیں، تاکہ منظوری سے قبل فیصلوں کے فوائد اور نقصانات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا جا سکے۔’اسی طرح بحث مباحثے کے نتیجے میں سمریوں کی نوک پلک بھی سنواری جا سکتی ہے جس کا فائدہ متعلقہ ادارے اور حکومت کو ہی پہنچے گا۔‘
یاد رہے کہ رولز آف بزنس 1973 کے تحت وزیر اعظم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی معاملے کی منظوری کے لیے کابینہ کا اجلاس بلائے بغیر سمری کابینہ ارکان کو بھجوا کر ان کی رائے معلوم کرسکے۔ اس سلسلے میں سیکریٹری کابینہ متعلقہ سمری ارکان کو بھجواتے ہیں اور آگاہ کرتے ہیں کہ وفاقی وزرا اس مخصوص مدت میں اپنی رائے سے تحریری طور پر آگاہ کر دیں۔ رولز کے مطابق اگر کچھ وزرا طے شدہ وقت میں سمری پر رائے نہیں دیتے تو اسے ان کی رضا مندی سمجھا جاتا ہے۔ دیگر وزرا کی جانب سے جواب موصول ہونے کے بعد ان کی رائے کی روشنی میں کابینہ سیکریٹری وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد بھی وزیراعظم کا اختیار ہے کہ وہ متعلقہ سمری کو منظور کر لیں یا پھر اس پر مزید غور کے لیے معاملہ کابینہ میں لے جانے کا فیصلہ کریں۔ ایسی صورت میں سیکریٹری کابینہ ذیلی سمری تیار کرکے معاملے کو کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کر دیتے ہیں۔
تہمینہ درانی نے شہباز کے پرواز کرنے کی دعا مانگ لی
دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اہم پالیسی معاملات کو حکومت یعنی کابینہ کی منطوری سے مشروط کیے جانے کے بعد 2017 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے سمریوں کی سرکولیشن کے ذریعے منظوری پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم اب ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ نواز شریف دورمیں وفاقی سیکرٹریز کے نام ایک نوٹیفیکیشن میں وزیراعظم آفس نے کہا تھا کہ انتہائی ہنگامی نوعیت کے علاوہ کوئی سمری منظوری کے لیے سرکولیشن کے ذریعے نہیں بھیجی جائے گی بلکہ اسے کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل نواز شریف کئی کئی ماہ تک کابینہ کا اجلاس نہیں بلاتے تھے اور صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے منظوری دے دیا کرتے تھے۔ تاہم سپریم کورٹ نے وزیراعظم کا یہ صوابدیدی اختیار ختم کرتے ہوئے یہ اختیار کابینہ کو سونپ دیا تھا۔
