آئینی ترمیم:پیپلز پارٹی کی NFC شئیر میں کٹوتی مسترد ، آرٹیکل 243 میں مشروط حمایت

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کسی بھی تبدیلی کو “سرخ لکیر” قرار دیتے ہوئے اس پر کسی قسم کے سمجھوتے سے انکار کر دیا ہے، تاہم پارٹی نے آرٹیکل 243 (جو مسلح افواج سے متعلق ہے) میں محدود ترامیم کی مشروط حمایت کا عندیہ دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، رات گئے بلاول ہاؤس میں پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ (سی ای سی) کا اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فیصلوں کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی مجوزہ آئینی ترامیم پر بات چیت جمعہ کو بھی جاری رہے گی، لیکن پیپلز پارٹی صوبوں کے مالیاتی حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی صوبوں کے حصے کو آئینی تحفظ دینے کی تجویز کو مسترد کرتی ہے، تاہم سی ای سی نے آرٹیکل 243 میں مخصوص ترامیم کی حمایت کی اجازت دی ہے۔

ان کے مطابق، حکومت نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے لیے نیا عہدہ بنانے، اسٹریٹجک کمانڈ کے لیے نیا منصب تخلیق کرنے اور فیلڈ مارشل کا درجہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ بلاول نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے انہیں صرف اسی حد تک ترامیم کی حمایت کی اجازت دی گئی ہے۔

آئینی عدالت کے قیام سے متعلق تجویز پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس معاملے پر پارٹی نے ابھی تک حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا۔

Back to top button