پیپلز پارٹی بدک گئی ، 27 ویں ترمیم پر نون لیگ سے اختلاف

 

دونوں بڑی حکومتی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے مابین 27 ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے پر ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے جس کی بنیادی وجہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنے اور وفاق کا حصہ
بڑھانے کی تجویز ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت صوبائی خود مختاری پر سمجھوتہ کرنے سے مکمل طور پر انکار کر دیا ہے جبکہ آرٹیکل 243میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے نئے لقب،نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ اور فیلڈ مارشل کے فوجی عہدوں سے متعلق ترمیم کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی زیر صدارت ساڑھے چار گھنٹے جاری رہنے والے سی ای سی اجلاس میں پیپلزپارٹی کے سینئر ارکان نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ این ایف سی اور آئین کے آرٹیکل 160 کی شق (3-اے) پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں شریک بیشتر ارکان نے 18ویں ترمیم کی کسی بھی شق میں ردوبدل کی مخالفت کی اور اسے “سیاسی خودکشی” قرار دیا۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے زور دیا کہ تعلیم اور آبادی سے متعلق اختیارات صوبوں ہی کے پاس رہنے چاہئیں۔ پارٹی کے سینئر ارکان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کو چھیڑنا وفاق اور صوبوں کے درمیان نئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے، اس لیے وفاق کو مشورہ دیا گیا کہ اس ترمیم میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ سے گریز کیا جائے۔ سی ای سی اراکین کی مشاورت کے پیپلز پارٹی نے آرٹیکل 243 میں ترمیم کے علاوہ 27ویں آئینی ترمیم کے باقی تمام نکات کو یکسر مسترد کر دیا۔ جن میں آئینی عدالت، این ایف سی ، ایجوکیشن ، پالولیشن پلاننگ ، ایگزیکٹو مجسٹریٹی نظام کی واپسی، ججز ٹرانسفراور الیکشن کمیشن سے متعلق تجاویز بھی شامل تھیں۔ اس حوالے سے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ بات حقیقت ہے کہ ملک میں الگ آئینی عدالت کا قیام میثاق جمہوریت کا حصہ ہے تاہم میثاق جمہوریت میں اس کے علاوہ دیگر چیزیں بھی شامل ہیں، پیپلز پارٹی کی آئینی عدالت پر رائے یہ ہے کہ اس میں چاروں صوبوں کی برابر نمائندگی ہونی چاہیے تاہم وہ آئینی عدالت کے قیام بارے حتمی فیصلہ مشاورت سے کریں گے۔

یاد رہے کہ آصف زرداری نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات اور وسائل میں نمایاں اضافہ کیا تھا، جبکہ وفاق کے مالی اختیارات کم کر دیے گئے تھے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت 18ویں آئینی ترمیم کو اپنا ایک کارنامہ قرار دیتی ہے چونکہ اس کے ذریعے آصف زرداری نے مشرف دور میں ترامیم کے ذریعے چھینے گے پارلیمنٹ کے اختیارات بھی اس کو واپس لوٹا دیے تھے۔ تاہم پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ نون لیگی حکومت کا موقف ہے کہ 18ویں ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کو قومی مالیاتی کمیشن کے تحت قومی وسائل کا تقریباً 60 فیصد حصہ منتقل ہو جاتا ہے، جب کہ وفاق کے لیے صرف 40 فیصد بچتا ہے، جو کہ دفاعی اخراجات، فوجی اور سویلین پنشن اور دیگر قومی اخراجات کے لیے ناکافی ہے۔ ان کے مطابق، وفاق کو اخراجات پورے کرنے کے لیے قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ادھر 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے کے مطابق، تعلیم، آبادیاتی منصوبہ بندی اور مالی وسائل کی تقسیم جیسے اہم شعبے، جو 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے دائرہ اختیار میں آ گئے تھے، دوبارہ وفاق کے کنٹرول میں لانے کی تجویز دی گئی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد قومی سطح پر پالیسی سازی میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور ریاستی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ تاہم اب پیپلز پارٹی نے شہباز حکومت کی ان تمام تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت نے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات اور وسائل کم کرنے اور وفاق کا حصہ اور دائرہ اختیار بڑھانے کی ممکنہ کوشش کی سخت مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کی ایسی کسی بھی ترمیم کی ڈٹ کر مخالفت کرے گی جس سے اختیارات کی اس تقسیم کو چھیڑا جائے گا جو کہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے طے پائی تھی۔

پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق سی ای سی اجلاس میں الیکشن کمیشن سے متعلق شقوں پر بھی بات ہوئی اور ارکان نے رائے دی کہ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمیشن کے انتخاب میں رکاوٹ دور ہونی چاہئے ۔ بہت سے ارکان نے صوبوں کے مالیاتی شیئر میں کمی کے حوالے سے سوالات کئے جس پر پیپلز پارٹی قیادت نے انہیں بتایا کہ صوبائی خودمختاری این ایف سی پر پیپلزپارٹی کا موقف واضح اوردوٹوک ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گاَ
پیپلز پارٹی کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کی مکمل حمایت سے انکار نے حکومتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے صاف انکار کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت 27 ویں ترمیم پر مشاورت کیلئے طلب کردہ وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دی جانی تھی تاہم اب اجلاس کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

Back to top button