پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ خود جسٹس فائز عیسیٰ نے بنوایا : عمران خان

عمران خان نے کہا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ خود چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بنوایا اور پھر اسے تبدیل کر دیا گیا،اس قانون سازی سے جمہوری طریقے سے کیس لگنےکی خلاف ورزی کی گئی۔
اڈیالہ جیل میں میڈیا نمئندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتےہوئے عمران خان کا کہناتھا کہ پاکستان مکمل طور پر پولیس اسٹیٹ بن چکاہے یہ وہ مارشل لا ہےجو ضیا اور مشرف کے مارشل لا سےبھی سخت ہے،مشرف کےدور میں بڑےبڑے جلسےکیے لیکن کبھی ہمارےساتھ ایسا نہیں ہوا۔
سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سےمتعلق فیصلے پر بات کرتےہوئے عمران خان کاکہنا تھاکہ اس فیصلے سےسب واضح ہوگیا ہےکہ چیف الیکشن کمشنر جانبدار امپائر ہی نہیں بلکہ ان کی ٹیم کا اوپنر بلےباز ہے۔
عمران خان نےکہا کہ ان کی تمام حرکات مفادات کاٹکراؤ ہیں،یہ چاہتے ہیں کہ انہیں دو تہائی اکثریت مل جائےاور امپائروں کو توسیع ملے۔عمران خان کاکہنا تھاکہ ہماری 9مئی اور 8 فروری کی درخواستیں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےنہیں سنیں،ہر حربے کےذریعے ہماری نشستوں کو کم کیا جارہا ہے۔انہوں نےکہا کہ ہماری کوئی بھی پٹیشن نہیں سنی جارہی سب کچھ بےنقاب ہوگیا، تھرڈ امپائر ان کی پشت پر ہےاس کو بھی توسیع دی جاناہے، یہ ایک گروپ بنا ہواہے۔
عمران خان کاکہنا تھاکہ نیب ترامیم کا کیس چل رہاتھا تب بھی کہالیکن ہمیں نہیں سناگیا،الیکشن سے پی ٹی آئی کو باہررکھنا اور پارٹی کو اڑادینا ان کی کوشش تھی،اب سب بےنقاب ہوچکا ہے سارے پردے ہٹ چکےہیں۔انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید کرتےہوئے کہاکہ محسن نقوی ایک یونین کونسل کا الیکشن نہیں لڑسکتے لیکن یہ ملک کاکرتا دھرتا ہیں، محسن نقوی نےساری زندگی فراڈ کےعلاوہ کچھ نہیں کیا۔
عمران خان کاکہنا تھاکہ زبردست ججز راستےمیں آئےمگر ان کو ہٹادیا گیا، جسٹس (ر) اعجاز الاحسن اور جسٹس (ر) مظاہر نقوی کو باہر کیاگیا۔انہوں نےکہاکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ خود چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بنوایا اور پھر اسے تبدیل کر دیا گیا، مزید کہنا تھا کہ اس قانون سازی سے جمہوری طریقے سے کیس لگنےکی خلاف ورزی کی گئی۔عمران خان کاکہنا تھاکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کےحوالے سے جسٹس منصور علی شاہ نےبالکل ٹھیک مؤقف اختیارکیا۔
عمرن خان نےکہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے سپریم کورٹ پر ڈنڈوں سےحملہ کیا اس کےبعد سے یہ اب تک کا سپریم کورٹ پر سب سےبڑا حملہ ہے۔
عمران خان نےکہا کہ عدلیہ پرحملے کےخلاف جمعرات کو احتجاج کریں گے، جمعے کو ہمارا اپنا احتجاج ہےاور ہفتے کو راولپنڈی میں جلسہ کریں گے،جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو احتجاج کریں گے۔
عمران خان کا کہناتھا کہ ماتحت عدلیہ مکمل طور پر ان کےکنٹرول میں ہے،جو جج کنٹرول نہیں ہوتا اس کو ٹرانسفر کردیا جاتاہے،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج 9 مئی مقدمات کا فیصلہ دینےلگے تھے لیکن ان کو بھی تبدیل کردیاگیا۔
عمران خان نےکہا کہ دنیا میں کہیں بھی فوجی افسر کی تعیناتی پر خبریں نہیں شائع ہوتیں، یہ صرف ہمارےملک میں ہوتاہے حالانکہ ان کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔
