صدر ٹرمپ نے شلوار قمیض اور داڑھی والے ممدانی سے پنگا کیوں ڈال لیا ؟

امریکی صدر ٹرمپ نے نیویارک کے میئر کے امیدوار ظہران ممدانی کے خلاف کھلی جنگ شروع کرتے ہوئے انہیں جہادی اور دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اعلان کر دیا ہے کہ اگر وہ میئر بننے میں کامیاب ہو گئے تو وہ بطور صدر نیویارک سٹی کی فنڈنگ بند کر دیں گے۔ ٹرمپ کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر ممدانی مخالف مہم کے دوران ان کی شلوار قمیض میں ملبوس تصاویر کو وائرل کرتے ہوئے ایک جہادی اور دہشت گرد قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ ممدانی ان تصاویر میں عید کے موقع پر نیویارک کے مسلمانوں سے مل رہے ہیں۔ ممدانی کی داڑھی کو بھی نشانہ بناتے ہوئے انہیں نائن کے حملہ آوروں سے جوڑا جا رہا ہے حالانکہ وہ ایک معروف بھارتی فلم ساز میرا نائر کے بیٹے ہیں۔ تاہم ان کے والد مسلمان ہیں۔

آج کل نیویارک کے میئر کیلئے ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار ظہران ممدانی کا امریکہ بھر میں خوب چرچا ہے۔ ایک طرف وہ اپنی کامیابی کےقریب ہیں تو دوسری طرف ان کی صدر ٹرمپ سے نوک جھونک میں بھی تیزی اتی جا رہی ہے۔ ممدانی نے انسٹاگرام پوسٹ میں امریکی صدر کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ٹرمپ نے مجھے گرفتار کرنے، میری شہریت چھیننے، قید میں ڈالنے اور ملک بدر کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے مجھے یہ دھمکی اسلئے نہیں دی کہ میں نے کوئی قانون توڑا ہے بلکہ اسلئے کہ میں دہشت زدہ کرنے والے امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ لا کیخلاف ہوں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ظہران ممدانی امریکیوں کیلئے ایک بری خبر ہے، وہ ایک خوفناک کمیونسٹ ہے۔ٹرمپ نے کہا ’’اگر نیو یارک کے لوگ ممدانی کو منتخب کرتے ہیں تو وہ پاگل ہیں۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کبھی ممدانی کو انتہا پسند جہادی اور کبھی انتہا پسند کمیونسٹ قرار دے رہے ہیں۔ امریکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک صدر میئر کے کسی امیدوار کے خلاف ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ گیا ہو۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ممدانی کو صدر ٹرمپ کی مخالفت سے نقصان کی بجائے فائدہ ہو رہا ہے۔

یاد رہے ظہران ممدانی ڈیموکریٹک پرائمری کا پہلا راؤنڈ بھاری اکثریت سے جیت چکے ہیں۔ اُنہوں نے سابق گورنر نیویارک اینڈریو کومو پر غیرمعمولی سبقت حاصل کی، ظہران ممدانی کو سوا 4 لاکھ سے زائد ووٹ مل چکے ہیں۔ بلاشبہ ممدانی نے نیو یارک کے مئیر کیلئے ڈیموکریٹک پارٹی کا پرائمری الیکشن بڑے مارجن سے جیت کر امریکی سیاست میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ وہ ابھی نیویارک کے مئیر نہیں بنے لیکن روایت یہی چلی آرہی ہے کہ جو بھی ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار ہوتا ہے وہ یہاں جنرل الیکشن بآسانی جیت جاتا ہے۔ یعنی امید کی جاسکتی ہے ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ہونے کیساتھ ساتھ پہلے سوشلسٹ میئر بھی ہونگے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس الیکشن کا تجزیہ دو حوالوں سے کیا جانا چاہئے۔ اول یہ کہ نیویارک ڈیڑھ سو برس سے عالمی سرمایہ داری کا گڑھ ہے جہاں پر دنیا کے امیر ترین لوگوں کا غلبہ ہے۔ ان حالات میں سوشلزم یا وسائل کی تقسیم کی بات کرنا بہت حد تک ناممکن تصور کیا جاتا تھا جسے نوجوان ممدانی نے بہرحال ممکن بنادیا۔ دوئم یہ الیکشن اسرائیل کے مشرق وسطیٰ میں جاری ظلم و جبر کے دنوں میں ہوا۔ نیویارک تل ابیب کے بعد دنیا میں یہودیوں کا سب سے بڑا شہر ہے اور اسرائیل کیلئے اسکے حلقوں میں بہت حمایت پائی جاتی ہے۔

ظہران ممدانی کی جانب سے فلسطین اور ایران کے حق میں بیانات نے اسکو ایک بہت بڑے طبقے کیلئے ناقابل قبول بنا دیا جس کے نتیجےمیں اس کے مخالف امیدوار کو یہودیوں کی جانب سے بھاری امداد ملنا شروع ہوگئی۔ امریکی الیکشن میں پیسے کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے اسلئے اکثر لوگوں کا خیال تھا ممدانی ایک اچھا مقابلہ تو کر لے گا لیکن جیت کبھی اس کا مقدر نہیں بن سکتی۔ ان ترقیاس آرائیوں کے باوجود ظہران ممدانی نے نہایت مؤثر اور بھرپور طریقے سے بہترین منصوبہ بندی کیساتھ ایک شاندار مہم چلائی جس میں غیر ضروری دعووں یا محض زبانی جمع خرچ کرنے کے بجائے بنیادی ایشوز کو اٹھایا گیا۔

بلیک منی دبئی بھجوانے والے خفیہ سرمایہ دار FIA کے ریڈار پر

ایک ایسے وقت میں کہ جب نیو یارک میں محنت کش طبقے کیلئے مکان کا کرایہ دینا بہت مشکل ہوگیا ہے، ممدانی نے کہا ہے کہ میری حکومت پورے نیویارک میں کرایہ بڑھانے پر پابندی لگا دے گی۔ اسکے علاوہ کھانے کی اشیا سے لیکر ٹرانسپورٹ پر شہریوں کو ریلیف دی جائے گی۔ لیکن ممدانی کے ارب پتیوں مخالفین کی جانب سے یہ باتیں کی جانے لگیں کہ یہ ریلیف دینے کیلئے فنڈز کا انتظام کیسے ممکن ہو پائے گا؟ اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے ممدانی نے درجنوں بہترین معیشت دانوں کی ٹیم کا اعلان کر کے اپنا وژن اور منصوبہ سامنے رکھ دیا ہے۔ اس ٹیم نے نیو یارک میں دنیا کے امیر ترین باشندوں پر ٹیکس کی شرح بڑھا کر یہ خرچے پورا کرنے کا لائحہ عمل دیا گیا۔ اسکے علاوہ ممدانی نے فلسطین کے معاملے پر کھل کر اسرائیلی بمباری کی مخالفت کی جسکی وجہ سے نوجوانوں میں انہیں پذیرائی حاصل ہوئی۔

ممدانی نے اپنی الیکشن مہم کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا عمدگی کیساتھ استعمال کیا اور گراس روٹ لیول پر ہر علاقے میں ووٹروں تک رسائی حاصل کی، وہ ان محنت کشوں کو سیاسی عمل میں واپس لانے میں کامیاب رہا جنہوں نے ایک مدت قبل مایوس ہوکر الیکشن کے عمل سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ ممدانی کو مئیر بننے کے بعد یقینی طور پر شدید دباؤ ٫گہری سازشوں اور پروپیگنڈا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ہر مقام پر کچھ قوتیں اسکی راہ مسدود کرنے کی سعی کریں گی۔ لیکن تمام ترکٹھن مراحل سے مستعدی، اپنی محنت اور اپنے ٹیم ورک کیساتھ کامیابی سے نمٹنا ہوگا۔ اسے ہر قیمت پر لوگوں کے اعتماد پر پورا اترنا ہوگا اور محنت کشوں کیلئے ریلیف کو ممکن بنانا ہوگا۔

Back to top button