وزیراعظم کا کابینہ میں نئے چہرے متعارف کرانے کا فیصلہ

وزیر اعظم شہباز شریف نےاپنی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کرلیا ہےاور بتایا جاتا ہے کہ ممکنہ طور پر آئندہ ہفتےمیں 4 سے 5 نئےوزرا کو کابینہ میں شامل کیاجائے گا۔
اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ کیا پیپلز پارٹی یا دیگر اتحادی جماعتوں سےبھی کوئی کابینہ میں شامل ہوگا با نہیں۔
وزیر اعظم کے قریبی ساتھیوں میں سےایک ڈاکٹر توقیر شاہ کو کابینہ کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ وہ موجودہ اور پی ڈی ایم حکومت میں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دےچکے ہیں۔
ڈاکٹر توقیراس وقت عالمی بینک میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور وزیر اعظم نےانہیں وطن واپس طلب کرلیا ہے۔
کابینہ میں شمولیت کےدیگر ممکنہ امیدواروں میں حنیف عباسی، طارق فضل چوہدری، بیرسٹر عقیل ملک اور طلال چوہدری شامل ہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک نے تصدیق کی کہ انہیں وفاقی وزارت دی جا رہی ہے تاہم انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ انہیں کون سی وزارت دی جائے گی۔
طارق فضل چوہدری کےقریبی ذرائع نے بھی انہیں کابینہ میں شامل کیے جانےکی تصدیق کی ہے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے گزشتہ اجلاس کےدوران وزیر اعظم شہباز شریف نے عندیہ دیا تھا کہ کابینہ میں کچھ نئے چہروں کو شامل کیا جائےگا اور کچھ وزرا کے قلمدانوں میں ردوبدل کیا جاسکتا ہے۔
توقع ہےکہ وزیر اعظم کابینہ میں شمولیت سے قبل نئے ممکنہ وزرا سےملاقات کریں گے، خیال کیا جاتا ہے کہ سینیٹر خلیل طاہر سندھو اور اختیار ولی بھی وزارت کے لیے زیر غور ہیں۔
یاد رہےکہ وزیراعظم شہباز شریف کی 19 رکنی کابینہ 11 مارچ 2024 کو تشکیل دی گئی تھی۔
وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ کا قلمدان تبدیل کیے جانے کا امکان ہے،وزیر اعظم شہباز شریف پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی کابینہ کےکسی بھی رکن کو حکومت کے کفایت شعاری اقدامات کے تحت تنخواہ اور دیگر مراعات نہیں مل رہی ہیں۔
دریں اثنا، گزشتہ روز وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن (تشکیل نو) قانون کی شق 3 (7) میں ترمیم کی اصولی منظوری دے دی۔
پی ٹی آئی میں راستے بند کرنے کے بجائے کھولنے کی سوچ پیدا ہورہی ہے : عرفان صدیقی
کمیٹی نےانفارمیشن گروپ کے افسران کی بیرون ملک سفارتی مشنز میں بطور پریس افسر تعیناتی کے قواعد و ضوابط کی منظوری کی بھی سفارش کی، کابینہ نےلیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز ٹھٹہ کی رجسٹریشن/تسلیم کرنے کی منظوری دی۔
کابینہ نےانسانی حقوق کے ایک کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلےاور وزارت قومی صحت کی سفارش کی روشنی میں زندگی بچانے والےطبی آلات کی قیمتوں کے تعین کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل نو کی منظوری دی۔
کابینہ نےنیشنل فوڈ سیفٹی، اینیمل اینڈ پلانٹ ہیلتھ اتھارٹی بل پارلیمنٹ بھیجنے کی بھی منظوری دی۔
کابینہ نےاقتصادی رابطہ کمیٹی کے 18 دسمبر کے اجلاس میں کیے گئےفیصلوں کی منظوری دی اور 24 دسمبر کو کابینہ کمیٹی برائےسرکاری اداروں کے فیصلوں کی توثیق کی۔
