قیدی نمبر 804 کا انقلاب کا خواب کس وجہ سے چکنا چور ہوا؟

24 نومبر کی احتجاجی کال کے نتیجے میں تحریک انصاف والے بشری بی بی کی قیادت میں اسلام آباد تک تو پہنچ گئے لیکن مذاکرات کی بجائے تشدد کی پالیسی اپنانے کے نتیجے میں نہ صرف عمران خان کا انقلاب کا خواب چکنا چور ہو گیا بلکہ پی ٹی آئی کی سیاست پر ناکامی کا ایک اور داغ بھی لگ گیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رینجرز کے آپریشن کے نتیجے میں جسطرح تحریک انصاف کی مرکزی قیادت خصوصا بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور جوتیاں اٹھا کر اور ورکرز کو پٹتا ہوا چھوڑ کر جس شرمناک طریقے سے فرار ہوئے اس نے کپتان کی سیاست کا جنازہ نکال دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس انقلاب کا انجام موقع واردات سے فرار کی صورت میں ہی سامنے آنا تھا تو پھر بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور کو خون کے آخری قطرے تک میدان جنگ میں ڈٹے رہنے کے دعوے نہیں کرنے چاہیے تھے۔ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کسی سیاسی جماعت کی جانب سے احتجاج کی فائنل کال دینے کے بعد اس کی لیڈرشپ اور ورکرز جوتیاں اٹھا کر میدان سے بھاگے ہوں۔
تحریک انصاف کے ناکام انقلاب پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف اینکر پرسن اور سیاسی تجزیہ کار عادل کہتے ہیں کہ ہم نے ’انقلابستان‘ میں ہر سیاسی دور میں انقلاب لانے کے دعوے بھی سنیے اور ان کا انجام بھی دیکھا لیکن جو حشر تحریک انصاف کے انقلاب کا ہوا وہ عبرت ناک اور سبق آموز ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گیا کہ فوج کی منشا کے بغیر ’انقلاب‘ لانا اور حکومت وقت کو گھر بھجوانا ممکن نہیں یے۔
شاہزیب یاد دلاتے ہیں کہ 2014 میں عمران خان نے نواز شریف حکومت کیخلاف پاکستانی تاریخ کا سب سے لمبا 120 دن کا دھرنا دیا۔ تب کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام اور کچھ میڈیا چینلز نے ان کا بھرپور ساتھ بھی دیا لیکن وہ ن لیگ کی حکومت کو ختم نہ کر سکے۔ لیکن اس کے بعد وہی عمران جب الیکشن 2018 کے میں جنرل (ر) فیض کے کندھوں پر چڑھ کر میدان میں اترے تو سر پر آ رٹی ایس کا تاج سجائے وزیر اعظم ہاؤس پر براجمان کرا دیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران کا اقتدار دراصل جنرل قمر باجوہ کا مرہون منت تھا جو نواز شریف کو نکال کر انہیں حکومت میں لائے تھے۔ یعنی ثابت ہوا کہ پاکستان میں آج بھی حکومت مخالف احتجاج فوج کی حمایت کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کا واحد رستہ مذاکرات سے ہی نکل سکتا تھا جس پر تحریک انصاف کی قیادت آمادہ نہ ہوئی اور اب شکست کھا کر اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ پارٹی کو ناکام انقلاب کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ اب حکومت کے ساتھ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے بارگیننگ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہی۔ یاد رہے کہ 24 نومبر کو احتجاج کی کال دینے کا بنیادی مقصد عمران خان کی رہائی تھی۔ ان کی اہلیہ بشری بی بی نے بھی یہی اعلان کیا تھا کہ احتجاجی مظاہرین عمران خان کی رہائی تک ڈی چوک سے نہیں ہلیں گے لیکن جیسے ہی رینجرز نے آپریشن کلین اپ شروع کیا، بشری بی بی دوڑنے والوں میں سب سے آگے نکلیں۔
سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا احتجاج فارغ ہو گیا لیکن نہ تو خان کو رہائی ملی، نہ ہی 26 ویں ترمیم ختم ہوئی اور نہ ہی حکومت گھر جا رہی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے مظاہرین نے ڈی چوک جانے کی غلطی کی تو انکے ساتھ مذاکرات بھی نہیں ہوں گے اور سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ وزیر داخلہ کی وارننگ نہ سننے کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف احتجاجی مظاہرین کو ڈی چوک سے فرار ہونا پڑا بلکہ اب پی ٹی ائی کی قیادت حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مطالبات کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہی۔
عادل شاہ زیب کہتے ہیں کہ احتجاج کا ایک اور نقصان یہ ہوا کہ موقع واردات سے فرار ہونے والے علی امین گنڈاپور اور بشری بی بی اب اپنے ورکرز کی نظروں میں بھی گندے ہو گئے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ علی امین گنڈا پور گذشتہ احتجاج میں بھی کارکنان کو پولیس کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ’مارگلہ‘ کی پہاڑیوں میں غائب ہو گئے تھے اور اس مرتبہ بھی انہیں فوج، رینجرز اور پولیس کے رحم کرم پر چھوڑ کر بشری بی بی کی ہمراہی میں مانسہرہ فرار ہو گے۔
زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ علی امین نے اسلام اباد مارچ کا پروگرام تب بنایا جب کرم میں سینکڑوں شہری مارے جا چکے تھے اور ان کا وہاں پہنچنا ضروری تھا۔ ایک بات جو کہ تحریک انصاف کو سمجھنی پڑے گی وہ یہ کہ صوبے کے عوام امن و امان کی انتہائی مخدوش صورت حال سے انتہائی مایوس اور دلبرداشتہ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صوبائی وزیراعلی کی پہلی ترجیح اپنے عوام کی جان و مال کو محفوظ بنانا ہے نہ کہ مہینے میں دو بار ’انقلاب‘ لانے کے لیے اسلام آباد جانا یے۔
عادل شاہ زیب کہتے ہیں کہ گذشتہ دنوں ضلع کرم میں ہونے والے دلخراش واقعات سے ہر انسان کا دل دہل گیا جہاں فرقہ واریت کی آڑ میں چند ماہ کے بچوں تک کو نہ بخشا گیا، گاؤں کے گاؤں جلا دیے گئے، اور بربریت کے ایسے قصے رقم ہوئے جنہیں بیان بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن وزیراعلیٰ کے بے حسی دیکھیں کہ وہاں گئے تک نہیں، کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کیں کہ کرم کے حالات سنبھل سکیں۔
ایسے میں انہیں اس مسلے کا حل نکالنا ہو گا، ورنہ پھر وفاق اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو سوچنا پڑے گا کہ صوبے کو مزید تباہی اور بدامنی کی طرف دھکیلنا ہے یا گنڈاپور سے جان چھڑوا کر کوئی حل نکالنا ہے۔
