PTI اور علیمہ خان عمران خان کی بیماری کو کیش کرانا چاہتے تھے، محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کی بیماری پر پراپیگنڈا کیا گیا، علیمہ خان اور پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کی بیماری کو کیش کرانا چاہتے تھے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ کسی بھی قیدی کے علاج پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا،تاہم سوشل میڈیا پر عمران خان کی بیماری کا پراپیگنڈا کیا گیا،علیمہ خان اور پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کی بیماری کو کیش کرانا چاہتے تھے، علیمہ خان نے ہمیشہ عمران خان کے علاج کیلئے منع کر دیتی تھیں۔
عمران نے بینائی کے معاملے پر لوگوں کو ماموں کیسے بنایا؟
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی آنکھ کی بیماری معمولی تھی جس کیلئے ایک انجکشن ضروری تھا، لیکن کچھ لوگ صرف اپنی سیاست کیلئے فکر مند ہیں، بانی پی ٹی آئی کو علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بانی پی ٹی آئی کے علاج کے سلسلے میں پارٹی قیادت سے رابطے میں تھے۔ عمران خان کے کزن قاسم کو بھی معاملے میں شامل کیا گیا، لیکن تمام انتظامات طے ہونے کے بعد ہسپتال منتقل کرنے سے انکار کیا گیا اور بانی کو ایک ہفتے کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ بحیثیت پارٹی چیئرمین، بیرسٹر گوہر کو اڈیالہ جیل میں بانی کے چیک اپ کی نگرانی کے لیے بلایا گیا، لیکن ڈیڑھ گھنٹے انتظار کے باوجود وہ جیل میں نہیں پہنچے۔ فون پر بیرسٹر گوہر، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کو مکمل بریف کیا گیا۔ تینوں شخصیات نے بانی کے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا، اور بانی کا چیک اپ کرنے والا میڈیکل بورڈ سرکاری اور پرائیویٹ ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل تھا۔
عمران خان کو علاج کیلئے فوری ہسپتال منتقل نہ کرنے کا فیصلہ؟
انہوں نے کہا کہ کچھ اینکرز کی جانب سے یہ تک کہا گیا کہ عمران خان کی پوری آنکھ ضائع ہو چکی ہے، جو حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بینائی سے متعلق منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔اگر ضرورت پڑی تو صحافیوں کو جیل لے جا کر سہولتیں دکھائی جا سکتی ہیں تاکہ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں۔ ان کے بقول وہ چاہیں تو میڈیا نمائندوں کو خود وہاں لے جا سکتے ہیں تاکہ معاملہ ہمیشہ کے لیے واضح ہو جائے۔
کیا عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
وزیر داخلہ نے کہ عمران خان کو ہسپتال لانے کا مقصد صرف آنکھ کا علاج تھا اور حکومت یا ادارے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتے۔ غیر مصدقہ معلومات پھیلانا اور عوام کو گمراہ کرنا زیادتی ہے۔ اگر سیاسی انتقام مقصود ہوتا تو جیل میں سختی کی جاتی، مگر حکومت نے ہمیشہ قانون اور انسانی تقاضوں کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں کسی بھی قسم کی خرابی پیدا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے، اور عدالت کے فیصلوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے بقول، عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ سنجیدہ قیادت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
اڈیالہ سے بنی گالہ منتقلی، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کی جیت کیسے؟
محسن نقوی نے مزید کہا کہ وہ کسی بھی بحران یا مسئلے پر بات چیت کے لیے ہمیشہ حاضر ہیں، کیونکہ یہ ان کا فرض ہے، لیکن این آر او یا ذاتی رعایتوں پر بات چیت ان کے دائرہ کار میں نہیں آتی۔ قومی مفاد کے معاملات پر بات چیت ممکن ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے دہشتگردی کے معاملے پر عالمی سطح پر اپنا موقف پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشتگردی کو مظلومیت کے لبادے میں پیش کیا جا رہا ہے، لیکن حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں گے۔
محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے لیے فنڈنگ تین گنا بڑھ گئی ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔
