عمران بارے PTI اور بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا بے نقاب

 

 

 

 

اڈیالہ جیل راولپنڈی میں عمران خان سے ان کی بہن عظمیٰ خان کی ملاقات کے بعد پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ اور انڈین میڈیا کا یہ پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا ہے کہ عمران خان یا تو انتقال کر چکے ہیں یا ان کی حالت تشویشناک ہے۔ ملاقات کے بعد موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق عمران زندہ ہیں، صحت مند ہیں اور ان کی حالت بارے سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تمام افواہیں بے بنیاد ہیں۔

 

اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ خان نے بتایا کہ عمران خان کی طبیعت الحمدللہ ٹھیک ہے، البتہ وہ شدید غصے میں تھے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ عمران نے شکایت کی کہ انہیں اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہ دے کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول ملاقات بیس منٹ جاری رہی جس کے دوران عمران خان نے بتایا کہ انہیں پورا دن کمرے میں بند رکھا جاتا ہے، صرف تھوڑی دیر کے لیے باہر نکلنے دیا جاتا ہے۔ عظمیٰ خان نے کہا کہ ان کی بھائی سے ملاقات کسی کے کہنے پر نہیں ہوئی بلکہ جیل کے باہر احتجاج اور عدالتی دباؤ کی وجہ سے ممکن ہوئی۔

 

یاد رہے کہ گزشتہ 25 روز سے عمران خان کی اپنے اہلِ خانہ اور وکلاء سے ملاقات نہیں ہو پا رہی تھی، جس کے بعد تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا نیٹ بریگیڈ اور بھارتی میڈیا نے یہ افواہیں اڑانا شروع کر دی تھیں کہ عمران خان کو "ضرور کچھ ہو چکا ہے” اور اسی لیے ان کی ملاقاتیں نہیں کروائی جا رہیں۔ سوشل میڈیا پر بعض حلقوں نے تو عمران خان کی موت تک کی جھوٹی خبریں پھیلانا شروع کر دیں۔ تاہم عمران سے انکی بہن کی ملاقات نے بھارتی میڈیا اور یوتھیوں کا پروپیگنڈا جھوٹ کا پلندہ ثابت کر دیا ہے۔

 

اس سے پہلے منگل کی صبح علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان جب اڈیالہ جیل پہنچیں تو پولیس نے انہیں راستے میں روک لیا۔ کچھ دیر بعد جیل حکام نے ایک اہلکار کے ذریعے پیغام پہنچایا کہ تینوں میں سے صرف عظمیٰ خان سے ملاقات پر اتفاق ہوا ہے۔ اتفاق سے اسی روز عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان نے بھی اپنے سابقہ شوہر کی خاندان کے افراد سے جیل میں ملاقاتیں نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ جمائما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ عمران خان کو نہ تو اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے اور نہ ہی ان کے بیٹے قاسم اور سلیمان انہیں خط بھیج پا رہے ہیں۔

 

منگل کی ملاقات کے بعد عمران خان کی بہن نورین خان نے الزام لگایا کہ حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران پر 9 مئی کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتی ہے اور اسی لیے ان کی ملاقاتیں نہیں کروائی جا رہی تھیں۔ ان کے مطابق حکام چاہتے ہیں کہ عمران یہ اعتراف کریں کہ 9 مئی کے حملے انہوں نے خود کرائے۔ نورین کے مطابق عمران خان نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ آپ 9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز نکالیں، آپ کو فوری سمجھ آ جائے گی کہ لاہور کینٹ کے اندر فوج کی مرضی کے بغیر کوئی داخل نہیں ہو سکتا تھا۔

 

ادھر 9 مئی کے حملوں بارے فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اپنی ہی فوج پر حملہ کرنے والے انتشاری ٹولے سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی، انہوں نے کہا تھا کہ اب وہی لوگ قابلِ معافی ہے جو ساری قوم کے سامنے معافی مانگیں اور نفرت کی سیاست چھوڑنے کی یقین دہانی کرائیں۔

حکومتی شخصیات بھی عمران خان کی جیل ملاقاتوں پر غیر اعلانیہ پابندی کی تصدیق کرتی نظر آتی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں اعتراف کیا کہ کوئی قانون یہ اجازت نہیں دیتا کہ سزا یافتہ قیدی جیل میں بیٹھ کر حکومت یا ریاست کے خلاف تحریک چلائے۔ البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قیدی کو خاندان اور وکلا سے ملاقات کا حق ضرور حاصل ہے، لیکن وہ یہ واضح نہ کر پائے کہ ملاقات پر پابندی کس کے حکم پر لگائی گئی۔

 

نورین خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کا ٹی وی بند ہے، اخبار بند ہے، اور انہیں تنہائی میں رکھا جا رہا ہے جو جیل قوانین کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق عمران نہ تو اضافی سہولتیں مانگ رہے ہیں اور نہ ہی کوئی خصوصی رعایت چاہتے ہیں، وہ صرف اپنے بچوں سے بات کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ قیدیوں کے حقوق کے جدوجہد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جیل قوانین کے مطابق ہر قیدی، خواہ سیاسی ہو یا عام، اپنے خاندان اور وکلا سے ہفتہ وار ملاقات کا حق رکھتا ہے۔ سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ پرزنرز ایڈ کے چیف ایگزیکٹو مدثر جاوید کے مطابق "کسی کے پاس اختیار نہیں کہ وہ قیدی کی ملاقات مکمل طور پر بند کرے۔ ان کے مطابق اگر کوئی سکیورٹی خدشات ہوں تو بھی ملاقات کے لیے متبادل دن دینا لازمی ہے۔

عمران خان کی صحت سے متعلق جیل انتظامیہ کا مؤقف درست ثابت ہوا : طلال چوہدری

ادھر عمران خان کی بہنوں کا کہنا ہے کہ ملاقاتیں نہ کروانے کا مقصد انہیں تکلیف پہنچانا ہے۔ نورین خان نے خبردار کیا کہ اگر عمران خان کے ساتھ کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ خان کی صحت کے بارے میں چلنے والی افواہوں کے برعکس ان کی بہنوں کا کہنا تھا کہ وہ فٹ ہیں اور جسمانی طور پر تندرست ہیں، وہ خوراک اپنی مرضی سے لیتے ہیں، ورزش کرتے ہیں اور خود کو پڑھائی لکھائی میں مصروف رکھتے ہیں۔ علیمہ خان کے بقول جیل میں کھانا بھی وہی پکایا جاتا ہے جو عمران خان اپنے پیسوں سے منگواتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق تنہائی اور رابطوں پر پابندی نے عمران کو سخت ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔

 

اڈیالہ جیل میں ہونے والی اس ملاقات نے ایک طرف بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈہ غلط ثابت کیا ہے، تو دوسری طرف سانحہ 9 مئی کے سیاسی پس منظر بارے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

 

Back to top button